فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر527

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر527
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر527

  

’’سہگل‘‘ کی فلم ’’دیوداس‘‘ کو سہگل کے نغموں سے سجایا گیا تھا۔ جو آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ ’’دیوداس‘‘ آخری وقت جب اپنا عہد نبھانے کے لئے ایک بیل گاڑی میں سوار ہو کر پارو کے گاؤں جا رہا ہے تو بیماری اور مایوسیوں کے باعث نڈھال ہے۔ وہ بری طرح کھانس رہا ہے اور بار بار گاڑی بان سے پوچھ رہا ہے کہ گاؤں کب پہنچیں گے۔ اس سیچویشن پر سہگل نے ایک لافانی نغمہ گایا تھا جس کا مکھڑا یہ تھا۔

’’دکھ کے دن اب بیتت نا ہیں‘‘

فلم کی اس سیچویشن کے اعتبار سے یہ نغمہ اور بھی زیادہ متاثر کن ہو گیا تھا۔ ایک ناکام عاشق، جسے زندگی سے کوئی لگاؤ نہ ہو اور جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو جب درد بھری آواز میں یہ گیت گائے کہ اب یہ دکھ بھری زندگی کے دن کاٹے نہیں کٹتے۔

اس گیت کا انترہ اس طرح تھا۔

نہ کوئی میرا

نہ میں کسی کا

چھایا چاروں اور اندھیرا

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر526پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تو سننے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں سے بے اختیار اشک رواں ہو جاتے تھے۔ ’’دیوداس‘‘ کی گزشتہ زندگی کی مایوسیاں اور محرومیاں اور ناکامیوں کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی تھی۔ اس پر سہگل کا بیمار، دکھ بھرا چہرہ اور غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی آواز اس تاثر کو اجاگر کرنے میں سونے پر سہاگے کا کام کرتی تھی۔ سہگل نے اس فلم میں اور خصوصاً آخری مناظر جو اداکاری کی تھی اور جو دکھ بھرے نغمات گائے تھے یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی فلموں کی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سہگل کی اداکاری اور گاوں نے فلم ’’دیوداس‘‘ کو امر کر دیا تھا۔ 1935ء میں بنائی جانے والی یہ فلم بہت سست رفتار تھی اور اس میں گلیمر کا نام و نشان تک نہیں تھا مگر یہ اپنے دور کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی۔ ’’دیوداس‘‘ ایک غیر فانی اور ضرب المثل کردار بن گیا۔ عام زندگی میں ناکام محبت کرنے والوں کو ’’دیوداس‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس فلم کا تاثر ناقابل فراموش اور انمٹ تھا۔

جب کوئی فلم اور فلم کردار لوک کہانیوں کے کرداروں کے مانند یادگار بن جائے تو پھر اس نقش کو مٹا کر نقش ثانی بنانا بہت مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1955ء میں بنگال کے کامیاب ہدایت کار اور فلم ساز بمل رائے نے ایک بار پھر ’’دیوداس‘‘ بنانے کا منصوبہ بنایا اور مرکزی کردار کے لئے دلیپ کمار جیسے عہد ساز اداکار سے رجوع کیا تو دلیپ کمار بھی شش و پنج میں پڑ گیا۔ بمل رائے کی ’’دیوداس‘‘ 1955ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ گویا سہگل کی ’’دیوداس‘‘ کی نمائش کو بیس سال کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن وہ فلم دیکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی اور ان کے ذہن میں سہگل دیوداس نقشِ دیوار کی طرح کندہ ہو کر رہ گیا تھا۔

دلیپ کمار نے بھی یہ فلم دیکھی تھی۔ بمل رائے کی پیش کش کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ’’دیوداس‘‘ دیکھی اور سہگل کے ادا کردہ کردار کو دوبارہ پیش کرنے کے خیال سے سوچ میں پڑ گئے۔ بمل رائے نے انہیں سمجھایا کہ ایک ناقابلِ فراموش فلم کو دوبارہ بنانا ایک بہت بڑا جوا ہے لیکن یہ ایک چیلنج بھی ہے۔ تم المیہ اداکاری کے بادشاہ کہلاتے ہو۔ یہ کردار تمہارے لئے موزوں ترین ہے۔ تمہارے سوا اس کے ساتھ کوئی دوسرا اداکار انصاف نہیں کر سکتا۔ ہمیں ایک چیلنج سمجھ کر یہ فلم بنانی ہو گی تاکہ جب ’’دیوداس‘‘ فلم کا ذکر ہو تو اس میں تمہارا اور میرا نام بھی اس فلم کو نئی زندگی دینے والوں میں شامل ہو۔ بہرحال۔ کافی سوچ بچار کے بعد دلیپ کمار نے اس کردار کو ادا کرنے کی ہامی بھر لی لیکن انہیں بخوبی احساس تھا کہ انہوں نے خود کو ایک بہت بڑی آزمائش میں ڈال لیا ہے۔

بمل رائے نے اس فلم کے لئے اپنے زمانے کے بہترین فنکاروں کو اکٹھا کیا۔ وجنتی مالا کو چندر مکھی کے روپ میں پیش کیا گیا۔ پاربتی کے لئے ان کی نظرِ انتخاب بنگال کی مقبول ترین اداکارہ سچترا سین پر اٹک گئی۔ ’’دیوداس‘‘ کے دوست کے کردار کے لئے انہوں نے موتی لال کا انتخاب کیا۔ موتی لال سپر اسٹار کہلاتے تھے اور ہندوستانی فلموں میں قدرتی اور بے ساختہ اداکاری کا رجحان پیدا کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے بے شمار یادگار کردار کیے تھے۔ اس فلم کی موسیقی کے لئے سلیل چوہدری کا انتخاب کیا گیا جو اس وقت کامیاب ترین موسیقاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

بمل رائے نے ایک غلط یا صحیح فیصلہ یہ کیا کہ اپنی فلم کو ’’دیوداس‘‘ کے نغموں سے محروم کر دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سہگل کے گائے ہوئے گیت اس وقت بھی گلی گلی گائے اور سنے جاتے تھے۔ یہ سوچنا کہ کوئی گلوکار سہگل کا نعم البدل ثابت ہو سکے گا۔ ناقابلِ تصور تھا۔ اسی لئے انہوں نے اپنی فلم میں برائے نام دیوداس کا ایک نغمہ رکھا تھا۔ دوسرے گانے ہیروئنوں میں تقسیم کر دیئے تھے جبکہ سہگل کی فلم میں نغمات ہی پر کہانی اور فلم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک لحاظ سے یہ فیصلہ درست بھی تھا مگر جن لوگوں نے سہگل کی ’’دیوداس‘‘ دیکھی تھی ان کے نزدیک یہ بہت بڑی خامی اور کوتاہی تھی ۔ کسی بھی کامیاب اور مشہور فلم کو دوبارہ بنانا ہمیشہ ایک انتہائی مشکل چیلنج رہا ہے۔ ہالی ووڈ اور بھارت میں بھی ایسے تجربات کیے گئے مگر معدودے چند فلموں ہی کو کامیابی اور قبولِ عام حاصل ہو سکا۔ وجہ یہ ہے کہ دیکھنے والے پہلی فلم سے موازنہ کرتے ہیں جو کہ ان کے ذہنوں پر نقش ہوتی ہے۔ اس نقش کو مٹا کر نقش ثانی جمانا آسان کام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی فلموں کے ری میک عموماً ناکام ہوتے ہیں۔

بمل رائے اور دلیپ کمار کی فلم ’’دیوداس‘‘ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ دلیپ کمار کی لاجواب اداکاری اور بمل رائے کی ہدایت کاری کے باوجود صرف سہگل اور اس کے گانوں نے نہ ہونے کی وجہ سے یہ فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی حالانکہ یہ اپنے دور کے مقبول ترین اور بہترین فنکاروں کی تخلیق تھی لیکن اگر کمی تھی تو سہگل کی یاس زدہ شخصیت اور اس کی درد بھری آواز کی۔ بمل رائے نے ناول کے مطابق بالکل حقیقی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور کردراروں کو بھی اصل فلم اور ناول کے پیکر میں ڈھانلے کے لئے بہت محنت کی تھی لیکن بات نہ بن سکی۔ سہگل کی کمی ہر ایک نے بری طرح محسوس کی۔ خاص طور پر سہگل کے دلوں میں اتر جانے والے پرسوز نغمے یہ فلم دیکھنے کے دوران میں بھی ان کے کانوں میں گونجتے رہے۔ ہر منظر کا موازنہ وہ سہگل کی فلم سے کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک کلاسیکی فلم کو دوبارہ بنانے کے سلسلے میں یہ خطرات تو مول لینے ہی پڑتے ہیں۔ بڑے بڑے ناموں، ممتاز و مقبول فنکاروں اور بمل رائے کی ہدایت کاری بھی اس فلم کے ذریعے پہلی فلم کی یادیں بھلانے میں ناکام رہی تھی۔

بمل رائے اور دلیپ کمار کی فلم ’’دیوداس‘‘ کی نمائش کو لگ بھگ نصف صدی گزر گئی۔ ایک نئی نسل نئے زمانے کے تقاضوں اور جدید ترین فلموں کے ماحول میں پروان چڑھ کر جوان ہو گئی۔ سہگل کی فلم دیکھنے والے تو شاید خال خال ہی باقی ہوں گے لیکن دلیپ کمار کی ’’دیوداس‘‘ کو دیکھنے والوں کی بہت بڑی اکثریت بھی اب دنیا میں موجود نہیں ہے۔ 47 سال ایک طویل عرصہ ہے اور اس دوران میں دنیا میں جس قدر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور نئے رجحانات اور فلم سازی کے نئے تجربوں نے جس طرح آج کے فلم بینوں کے ذوق کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ غالباً نئی ’’دیوداس‘‘ بنانے والوں کو اس کا بخوبی احساس اور اندازہ ہے۔ اب فلموں میں روح باقی نہیں رہی، صرف چمک دار حسین جسم ہی دیکھنے کو رہ گیا ہے۔ حقیقت پسندی کی جگہ شان و شوکت اور گلیمر نے لی لی ہے۔ یوں بھی اب زندگی بہت تیز رفتار ہو چکی ہے۔ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور شاہ رخ خان نے ان تمام لوازمات کا یقیناًبہت غور سے جائزہ لیا ہو گا اور اس کے بعد موجودہ ’’دیوداس‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہو گا۔ دیکھا جائے تو یہ جو ابھی نہیں ہے۔ پرانی فلموں سے موازنہ کرنے والے ہی باقی نہیں رہے تو پھر ڈر کس کا؟ چنانچہ انہوں نے ’’دیوداس‘‘ کو ایک نئے رنگ و روپ کے ساتھ پیش کرنے کا ارادہ کیا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر528 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -