اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 47

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 47

  

آہستہ آہستہ میری نئی حیثیت اور نئی شناخت کی تمام جزئیات اور یادیں میرے ذہن میں ابھر رہی تھیں۔ اب مجھے بخوبی یاد آرہا تھا کہ سکندر کی والدہ اولمپیاس نے مجھے سکندر کا حال احوال معلوم کرنے کے لئے شاہی محل کی طرح روانہ کیا تھا اور میں ابھی ابھی مقدونیہ کے یونانی بادشاہ اور سکندر کے والد قیلقوس کے شاہی محل سے نکل کر آرہا تھا۔ اولمپیاس مجھے قبرستان میں بنی ہوئی ایک جھونپڑی میں لے گئی۔ یہاں ایک دیا روشن تھا۔ سکندر کی باجبروت اور پختہ کار پر اسرار اور گہری صورت ماں میرے سامنے بیٹھی مجھ سے سکندر کی خیریت معلوم کر رہی تھی۔ اس کا حسن پر اسرار اور طلسمی تھا اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں یونانی دیویوں کی مقناطیسی اور طلسمی کشش تھی۔

قبرستان میں ایک گہرا سناٹا تھا۔ اس وقت یہ عورت مجھے ایک جادوگرنی لگ رہی تھی۔ اس نے شروع ہی سے اپنے بیٹے سکندر کو دنیا کا فاتح بنانے کا عہد کر رکھا تھا اور اسے اس سانچے میں ڈھال رہی تھی۔ اس نے سکندر کے استاد عظیم فلسفی ارسطو کو خاص طور پر یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اسے ایسی تعلیم دے کہ جس سے اس کے بیٹے سکندر کے دل میں دنیا کو فتح کرنے کا دیولہ اور عزم پیدا ہو اور ارسطو سکندر کو انہی اصولوں پر تعلیم دے رہا تھا۔ جھونپڑی میں خاموشی چھائی تھی۔ کونے میں دیا روشن تھا۔ اس پر اسرار دھیمی روشنی میں مجھے سکندر کی والدہ کے چہرے پر خونی سازشوں پر بربریت خیز فتنوں کی پرچھائیاں چلتی پھرتی نظر آرہی تھیں اور آگے چل کر یہ پرچھائیاں صحیح پیش گائیاں ثابت ہوئیں۔ اس نے گہری اور پر عزم آواز میں کہا۔

’’ بطلیموس ! تم سکندر کے گہرے دوست ہو ۔ تم بھی یاد رکھو۔ میرے بیٹے کو مقدونیہ کے تخت پر بیٹھ کر ساری دنیا کو فتح کرنا ہے۔ ‘‘ اس کی آواز مجھے جھونپڑی میں گونجتی ہوئی محسوس ہوئی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 46پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سکندر کی والدہ کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ سکندر ایک کھلنڈر لڑکا ہے اور اسے سوائے گھوڑوں کے اور کسی شے سے دلچسپی نہیں لیکن اس نے سکندر کے استاد عظیم فلسفی ارسطو کو ہدایات دے رکھی تھیں کہ وہ سکندر کے دل میں حکمرانی کا جذبہ بیدا کرے اور اسی مقصد کا سامنے رکھتے ہوئے اسی تربیت کرے اور اس کے کان میں ہر وقت یہ بات ڈالتا رہے کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سکندر کے باپ کو احساس ہوگیا تھا کہ اس کی ماں سکندر کو اپنے جیسا ایک پر اسرار فتنہ بنانا چاہتی ہے چنانچہ اس نے بھی ایسے جتن شروع کر رکھے تھے کہ سکندر زیادہ سے زیادہ ماں سے دور رہے۔ قلوبطرس سے بیاہ رچانے اور اولمپیاس سے علیحدگی کے بعد فیلقوس کے لئے میدان صاف ہوگیا تھا لیکن یہ راز اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ اس نے اپنے بیٹے سکندر کو جس عظیم فلسفی کی درس گاہ میں طب اور حکمت کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج رکھا ہے۔ وہ فلسفی اس کی سابقہ بیوی اولمپیاس کے اشاروں پر چل رہا ہے اور سکندر کے ذہن میں مقدونیہ کے تخت پر قبضہ کرنے کے بیج بو رہا ہے۔

ارسطو کی یہ تاریخی عبادت گاہ یا درس گاہ مقدونیہ شہر سے بارہ کوس دور ایک پر فضا پہاڑی مقام پر واقع تھی۔ اس درس گاہ کے باغ میں زیتون اور انجیر کے درختوں کے درمیان سر سبز گھاس پر چل پھر کر ارسطو طلبا کو علم و دانش کے رموز بتایا کرتا تھا۔

میں نے سکندر کی والدہ اولمپیاس کو یونانی انداز میں سلام کیا اور جھونپڑی سے نکل کر چاندنی رات میں ڈوبے ہوئے پر اسرار خاموش قبرستان سے نکل کر گھوڑے پر سوار ہو کر شاہی محل کی طرف چل دیا۔ سکندر کے باپ فیلقوس کی نئی نوجوان اور حسین بیوی قلوبطرس اپنے چچا اطالوس کے ہمراہ شاہی محل میں رہتی تھی۔ یہ دونوں سکندر کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھتے تھے اور جب قلوبطرس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو انہوں نے سکندر کو کھلنڈرا اور کند ذہن اور تخت کے لئے نا اہل ثابت کرنے کی باقاعدہ مہم شروع کر دی۔

سکندر کا باپ ق اپنی نوجوان بیوی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا۔ اس پر قلوبطرس کے حسن کا جادو سوار تھا۔ اسے یقین ہونے لگا تھا کہ سکندر ولی عہد بننے کے لائق نہیں ہے اور مقدونیہ کے تخت کا وارث اس کی دوسری بیوی قلوبطرس کا بیٹا ہی ہوگا۔ ایک دن آدھی رات تک شاہی محل میں جشن ہوتا رہا اور ساغر گردش میں رہا مگر سکندر شراب نہیں پیتا تھا اور یہ بہت بڑی خوبی تھی۔ سکندر کی سوتیلی ماں اور اس کا چچا چاہتا تھا کہ سکندر کو شراب لگا دی جائے تاکہ وہ لہو و لعب میں ڈوب کر ناکارہ ہوکر رہ جائے۔

قلوبطرس نے سکندر کو جام مے پیش کیا۔ سکندر نے انکار کر دیا۔ اطالوس نے سکندر کو یہ کہہ کر ڈانٹا کہ وہ گنوار ہے اور مقدونیہ کے تخت کا وارث بننے کا اہل نہیں ہے کیونکہ دیوتا زیورس کسی ایسے شاہی نوجوان کو تخت شاہی پر متمکن نہیں دیکھ سکتا جو اس کے حضور شراب کا نذرانہ پیش نہ کرے۔ سکندر کو طیش آگیا۔ اس نے جام شراب اٹھایا اور قلوبطرس کے چچا کے سر پر دے مارا۔ سکند رکی سوتیلی ماں لپک کر سکندر کی طرف آئی تو اس نے اس کے منہ پر بھی ایک زور دار طمانچہ مار دیا۔ محفل پر سناٹا طاری ہوگیا۔ سکندر کا باپ نشے اور غصے کی حالت میں اٹھا۔ اس نے تلوار کھینچ لی اور سکندر پر وار کرنے ہی والا تھا کہ نشے کی وجہ سے قدم ڈگمگا گئے اور گرپڑا۔ سکندر نے حاضرین محفل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

’’ دیکھو جو شخص تلوار تھام کر دو قدم نہیں چل سکتا اور جو میرا باپ ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ مقدونیہ کی حکمرانی کرنے کے قابل ہے؟‘‘

پھر اس نے اپنی سوتیلی ماں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

’’ اس زہریلی ناگن نے مقدونیہ کے عظیم شہنشاہ کو ایک معمولی شرابی بنا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن میں اپنے باپ کے تخت پر بیٹھ کر نہ شراب پیوں گا نہ حسین عورتوں کے جادو میں پھنسوں گا۔ سن لو اے مقدونیہ کے لوگو! میں ایک دن مقدونیہ بلکہ پورے یونان کا نام سورج کی طرح روشن کروں گا۔‘‘

اس رات سکندر کی والدہ اولمپیاس نے خفیہ طور پر اپنے بیٹے کو قبرستان والی جھونپڑی میں بلا کر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا۔ ’’ میرے لخت جگر! میں تمہیں صرف یونان ہی کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا شہنشاہ دیکھنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

سکندر رات گئے تک اپنی ماں سے باتیں کرتا رہا اگلی دن مجھے معلوم ہے کہ سکندر کے باپ کی دوسری بیوی نے اسے اور زیادہ بھڑکا دیا ہے اور وہ سکندر سے انتقام لینا چاہتا ہے۔ قبرستان میں ایک رات سکندر کی والدہ کو میں نے بتا دیا کہ سکندر کی جان خطرے میں ہے۔ اس حسین ناگن اور پختہ کار جادوگرنی نے مجھے سے جیسے جادو کر دیا اور جب میں ملکہ اولمپیاس کی جھونپڑی سے نکل کر گھوڑا دوڑاتا شاہی محل کی طرف جا رہا تھا تو مقدونیہ کے بادشاہ اور سکندر کے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔

وہ بڑی طوفانی رات تھی۔ مقدونیہ کے پہاڑی جنگلوں اور شہر پر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ شہر گھپ اندھیرے کی چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ شاہی محل میں بھی کہیں کہیں مشعلوں اور شمعوں کی دھندلی روشنی ہو رہی تھی۔ یہی وہ رات تھی۔ جب مجھے سکندر کے باپ کو ہلاک کرنا تھا۔ خدا جانے اس حسین ناگن اولمپیاس نے مجھ پر کیا جادو کر رکھا تھا کہ میں فیلقوس کو قتل کرنے کے لئے بے تابی سے اپنے محل کی خواب گاہ میں ٹہل رہا تھا۔ زہر میں بجھا ہوا خنجر کپڑوں میں چھپایا اور شمع گل کر کے خواب گاہ سے نکل کر دبے پاؤں شاہ فیلقوس کی شاہی خواب گاہ کی طرف چلا۔ میں شاہی خواب گاہ میں جانے والے خفیہ راستے سے بخوبی واقف تھا۔ یہ ایک بارہ دری کی سیڑھیوں میں سے ہو کر بادشاہ کی خواب گاہ کی مرمریں دیوار کی ستونوں کے درمیان جانکلتا تھا۔ اس خفیہ راستے کا علم بادشاہ ، اس کی پہلی بیوی اولمپیاس اور وزیر خاص کے سوا اور کسی شخص کو نہیں تھا۔ اس خفیہ راستے کا پتہ مجھے حسین ناگن اولمپیاس نے بتایا تھا۔

میں تاریک راہ داریون اور نیم روشن غلام گردشوں میں سے گزرتا، بارہ دری کے آگیا اور سیڑھیاں اترتا خفیہ سرنگ میں داخل ہوگیا۔ اس سرنگ کا منہ ایک بہت بڑے قالین سے بند کر دیا گیا تھا۔ یہ قالین سیڑھیوں کی دیوار پر لٹکا ہوا تھا۔ سرنگ کے اندر تاریکی تھی لیکن زمین پر قالین بچھا ہوا تھا۔ میں دبے پاؤں چلتا، سانس روکے ، بادشاہ کی خواب گاہ میں ستونوں کے پیچھے نکل آیا۔ خواب گاہ کی فضا خواب انگیز تھی اور خوشبویات سلگ رہی تھیں۔ سونے کے شمع دان میں لو ساکت تھی اور اس کی خواب آلود روشنی نے خواب گاہ کو پر اسرار بنا دیا تھا۔ میں نے ستونوں کے آگے پڑا ہوا۔ ویلوٹ کا بھاری پردہ سرکا دیا اور دیکھا کہ بادشاہ شاہی پلنگ پر محو خواب تھا۔ اس کے پہلو میں قلوبطرس گہری نیند میں تھی مگر دونوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ خنجر میرے ہاتھ میں تھا۔ میں بادشاہ فیلقوس کا اس طرح سے کام تمام کرنا چاہتا تھا کہ اس کی بیوی بیدار نہ ہو۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -