”ڈاکٹر طاہرالقادری نے باتھ روم میں چھپ کر بانی متحدہ کو کال کی اور اس انتہائی خطرناک کام کیلئے مدد کی درخواست کی“ علی رضا عابدی نے ایسا انکشاف کردیا کہ پی ٹی آئی کارکن بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

”ڈاکٹر طاہرالقادری نے باتھ روم میں چھپ کر بانی متحدہ کو کال کی اور اس ...
”ڈاکٹر طاہرالقادری نے باتھ روم میں چھپ کر بانی متحدہ کو کال کی اور اس انتہائی خطرناک کام کیلئے مدد کی درخواست کی“ علی رضا عابدی نے ایسا انکشاف کردیا کہ پی ٹی آئی کارکن بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن اسمبلی اور ایک ماہ پہلے پارٹی سے مستعفی ہونے والے علی رضا عابدی نے خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے کھولے گئے پنڈورا باکس کو مزید کھول دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دھرنے کے دوران پی ٹی آئی اور عوامی تحریک نے بار بار ایم کیو ایم سے مدد مانگی لیکن رابطہ کمیٹی نے ایسا نہیں کیا ، ایک بار تو طاہر القادری نے باتھ روم سے کال کرکے ایم کیو ایم کو سندھ کی حکومت کی پیشکش بھی کی تھی۔

ٹوئٹر پر سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے لکھا مجھے وہ وقت یاد ہے جب ڈاکٹر طاہر القادری لندن سیکرٹریٹ میں فون کرکے کراچی بند کروانے کیلئے مدد مانگا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ جیسے ہی حکومت گرے گی ایم کیو ایم کو سندھ کی حکومت دے دی جائے گی۔ اس کے بعد شاہ محمود قریشی نے کال کی اور مدد مانگی لیکن ایم کیو ایم نے جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا جس کی اسے بعد میں سزا دی گئی۔

علی رضا عابدی کا کہنا تھا کہ جس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کو لاہور میں ہی گھیر لیا گیا اور انہیں اسلام آباد جانے سے روک دیا گیا تھا اس وقت انہوں نے کئی بار انتہائی مضطرب لہجے کے ساتھ لندن کالز کیں۔ ایم کیو ایم نے ن لیگ کے ساتھ مذاکرات کیے اور عوامی تحریک کے کارکنوں کو کھانا اور پانی دینے کے انتظامات کیے، طاہرالقادری کی جانب سے بار بار دھرنے میں شمولیت کا اصرار کیا جاتا رہا۔

سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی 31 اگست کو ایم کیو ایم پاکستان کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا دھرنا شروع ہونے کے کچھ ہی روز بعد عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی کے مابین ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک ہوگئی، میں اس وقت لندن میں ہی تھا جب پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کی جانب سے بار بار دھرنے میں شمولیت کیلئے کالز کی جاتی تھیں۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایم کیو ایم قیادت کو کی جانے والی کالز کی ریکارڈنگ کی جاتی تھی اور یہ سارا ریکارڈ اب بھی لندن سیکرٹریٹ میں موجود ہے اور ایم کیو ایم جب چاہے گی انہیں ریلیز کردے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک بار باتھ روم سے سرگوشی کے انداز میں کال کی اور کہا کہ ان کے پاس کچھ بہت ہی اہم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ اگر ن لیگ کی مرکز اور پی پی کی سندھ سے حکومت کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو سندھ ایم کیو ایم کو دے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی اس کال کے جواب میں ایم کیو ایم کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس آفر پر مشاورت کریں گے جس کے بعد مشاورت ہوئی تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے بانی متحدہ کو پیشکش قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

خیال رہے کہ عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے کچھ روز پہلے ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان اور طاہرالقادری نے لندن میں ملاقات کرکے دھرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

مزید :

قومی -سیاست -علاقائی -سندھ -کراچی -