مسلم لیگ ن کی حکومت نے غلط ترجیحات رکھیں:وفاقی وزیر خسرو بختیار کا سی پیک پر کام تیز کرنے کا اعلان

مسلم لیگ ن کی حکومت نے غلط ترجیحات رکھیں:وفاقی وزیر خسرو بختیار کا سی پیک پر ...
مسلم لیگ ن کی حکومت نے غلط ترجیحات رکھیں:وفاقی وزیر خسرو بختیار کا سی پیک پر کام تیز کرنے کا اعلان

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہاہے کہ سی پیک پر کام تیز کیا جائے گا ، گزشتہ حکومت نے سی پیک میں غلط ترجیحات رکھیں، پچھلے دور میں حکومت کا فوکس رہا کہ شرح نموبڑھا کردکھائی جائے،سی پیک کے نو اکنامک زونز سے آج تک ایک بھی فعال نہیں ہوسکا ، پاکستان کے مستقبل کا نہیں سوچا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہاہے کہ پاکستان پر 28ہزار ارب کاقر ض ہے جبکہ پاکستان میں بہت کم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،مسلم لیگ ن کی حکومت نے قرضے لیکر من پسند منصوبے شروع کئے ، عوام پر اس وقت 12سو ارب روپے گردشی قرضہ ہے جبکہ لیسکو کے لائن لاسز بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیسکو میں سالانہ 2.8ارب یونٹس کا نقصان ہورہاہے، بجلی کی ترسیل کے نظام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ان کا کہنا تھا پاکستان اور چین کے تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ جنرل مشرف کے آخری دور کے اندر سی پیک کے اوپر ایک پالیسی چل رہی تھی اور پچھلی حکومت نے سی پیک کا فریم ورک کیا اور ہم نے حکومت میں آتے ہی فیصلہ کیا کہ سی پیک کو وسعت دی جائیگی ، ہم نے آتے ہی بجلی پیدا کرنے کے ہائیڈ ل پراجیکٹس پر توجہ دی ہے ۔ہم نے حکومت بناتے ہی امپورٹڈ تیل پر بجلی بنانے والے پراجیکٹس بند کردیئے ۔ گوادر میں بجلی کی ضرورت پوری نہیں کی گئی اور سی پیک سے لاکھوں نوکریاں نکلنی تھی جس سے معیشت کا پہیہ چلنا تھا ۔ ہم آتے ہی فیصلہ کیاہے کہ اللہ کی طرف سے پاکستان کو دین اس کا جغرافیہ ہے ، اس لئے ہم نے چائنہ کے ساتھ مل کر ایسا فریم ورک بنایا ہے کہ ملک میں باہر سے سرمایہ کاری آئے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم پاکستان میں آئل ریفائنر ی لگادیں تو ہمارا تیل کا خرچ آدھا ہوجائیگا ، ہم یہ آئل ریفائنری لگائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا ایجنڈا ہے ، ہم پاکستان کی سمت ٹھیک کریں گے اور بہت جلد ٹھیک کردیں گے ، یہ بجٹ ہمارا بجٹ نہیں ہے ،ہم تو فنانس بل لیکر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے سی پیک میں غلط ترجیحات رکھیں، سی پیک کوبڑھایا جائے گا اور اس پر کام تیز کیا جائے گا ۔ پشاور سے کراچی تک ریلوے کی اپ گریڈیشن سے عوام کو فائدہ ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دور میں حکومت کا فوکس رہا کہ شرح نموبڑھا کردکھائی جائے ۔سی پیک کے نو اکنامک زونز سے آج تک ایک بھی فعال نہیں ہوسکا ، گزشتہ حکومت نے پاکستان کے مستقبل کا نہیں سوچا ، سی پیک پانچ روزہ ٹیسٹ ہے جبکہ پچھلی حکومت نے اس کو ٹی ٹوئنٹی سمجھ کر کھیلا ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -