گوگل کی جگہ اب کیا چیز لے گی؟ ماہر معاشیات نے بڑا دعویٰ کردیا، جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

گوگل کی جگہ اب کیا چیز لے گی؟ ماہر معاشیات نے بڑا دعویٰ کردیا، جان کر آپ کی ...
گوگل کی جگہ اب کیا چیز لے گی؟ ماہر معاشیات نے بڑا دعویٰ کردیا، جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل اس وقت انٹرنیٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے لیکن اب ایک بڑے ماہرمعاشیات اور ٹیکنالوجی کے نقاد نے گوگل کے خاتمے کے متعلق ایسا دعویٰ کر دیا ہے کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔ میل آن لائن کے مطابق جارج گلڈر نامی اس ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک دن آئے گا جب گوگل گلوبل سرچ انجن کی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا اور اس کی جگہ ’بلیک چین‘ لے لے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صارفین کی ذاتی معلومات اس قدر محفوظ نہیں ہیں جتنی وہ چاہتے ہیں۔ مستقبل وہ اپنی معلومات کو محفوظ کرنے اور ان پر اپنے کنٹرول کا تقاضا کر سکتے ہیں۔ چنانچہ لوگوں کے ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی چوری اور ’بلاک چین اکانومی‘ میں اضافہ گوگل کی فلک بوس عمارت کے انہدام کا سبب بنیں گے۔

اس وقت انٹرنیٹ کی دنیا میں گوگل کوجس طرح ایک مرکز کی حیثیت حاصل ہے، کسی بھی ویب سائٹ اور کسی بھی انٹرنیٹ صارف کا ڈیٹا اس کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ آئندہ وقت ایسا آئے گا کہ ویب سائٹس براہ راست صارفین کو خدمات فراہم کرنے لگیں گے اور گوگل کی یہ مرکزیت ختم ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر آن لائن نیوز آﺅٹ لیٹس ’مائیکرو پے منٹس‘ کے ذریعے صارفین کو اپنی خبریں فروخت کریں گی، جس سے انہیں گوگل کے اشتہارات کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ صارفین سے رقم ملنے کے بعد گوگل کو ملوث کیے بغیر براہ راست صارفین کو خدمات فراہم کریں گی۔ اس سے یہ ہو گا کہ صارفین کو گوگل کی مرکزیت سے نجات مل جائے گی اور ان کا ذاتی ڈیٹا اس کے پاس محفوظ نہیں ہو گا۔“

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -