شام میں جنگ بندی، خاندان والے 4 سال بعد واپس اپنے گھر پہنچے تو کیا منظر تھا؟ دیکھ کر ہر کسی کے ہوش اُڑگئے کیونکہ۔۔۔

شام میں جنگ بندی، خاندان والے 4 سال بعد واپس اپنے گھر پہنچے تو کیا منظر تھا؟ ...
شام میں جنگ بندی، خاندان والے 4 سال بعد واپس اپنے گھر پہنچے تو کیا منظر تھا؟ دیکھ کر ہر کسی کے ہوش اُڑگئے کیونکہ۔۔۔

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک)شام میں گزشتہ سات سال سے جاری جنگ کی شدت میں اب کچھ کمی آنے لگی ہے اور جنگ کے باعث دردبدر ہونے والوں کو پہلی بار اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سالہا سال پناہ گزین کیمپوں میں گزارنے والے یہ بدقسمت لوگ گھروں کو واپس تو آ رہے ہیں مگر وہاں اب گھروں کا نام و نشان نہیں، بس کھنڈرات رہ گئے ہیں۔

گزشتہ دنوں لبنان کی سرحد کے قریب واقع قصبے ارسل کے پہاڑی علاقے میں پناہ گزین کیمپ سے 300 کے قریب خاندانوں نے اپنے گھروں کی جانب سفر شروع کیا۔ یہ ان 25ہزار شامی شہریوں میں شامل ہیں جنہوں نے صدر بشارالاسد کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی سکیم کے تحت رضاکارانہ طور پر گھروں کو واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جو اپنی اُس سرزمین کی جانب واپس آرہے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ان کی پیدائش پناہ گزین کیمپوں میں ہوئی ہے۔

چار سال بعد اپنے علاقے میں واپس آنے والے ایک خاندان نے بتایا کہ اپنی مٹی پر واپس آنے پر وہ خوش تو ہیں مگر یہ بات بہت دردناک ہے کہ ان کے گھر جنگ میں تباہ ہوچکے ہیں، کاروبار کے کوئی مواقع نہیں ہیں اور اب انہیں اپنی زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اکثر خاندانوں کے لئے بڑی تکلیف کا سبب ہے کہ ان میں سے کچھ افراد کو اپنے گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

چودہ سالہ لڑکی نوحاعلی حاج بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو اپنے ایک عزیز ترین رشتہ دار کے بغیر گھر کو واپس آئی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ کو واپسی کی اجازت نہیں دی گئی ہے لہٰذا وہ اپنے والد کے ساتھ پناہ گزین کیمپ سے واپس آئی ہے۔ لڑکی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو بہت یاد کرے گی اور جب تک وہ آ نہیں جائیں گی اس کی زندگی بہت تکلیف اور پریشانی میں گزرے گی۔

اسی طرح پناہ گزین کیمپ میں موجود ایک ادھیڑ عمر شخص کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو الوداع کہہ رہا ہے کیونکہ اسے واپسی کی اجازت نہیں دی گئی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اسے واپسی کی اجازت کیوں نہیں ملی تو قریب کھڑے اس کے دوست نے جواب دیا ”کیونکہ بشار(اسد) اس سے خوش نہیں ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -