سعودی عرب کی سی پیک میں انٹری پر طوفان کھڑا ہوگیا کیونکہ۔۔۔

سعودی عرب کی سی پیک میں انٹری پر طوفان کھڑا ہوگیا کیونکہ۔۔۔
سعودی عرب کی سی پیک میں انٹری پر طوفان کھڑا ہوگیا کیونکہ۔۔۔

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دوست ملک سعودی عرب کو پاکستانی تاریخ کے اہم ترین منصوبے سی پیک کا حصہ بنانے کی اپنی کاوش پر حکومت تو خوشی سے پھولی نہیں سما رہی لیکن دوسری جانب پارلیمان کے ایوان بالا نے اس متوقع پیشرفت پر شدید ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینیٹ میں ناصرف سعود ی عرب کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کرنے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ ریکوڈک معدنیاتی منصوبے میں بھی سعودی عرب کو سٹیک ہولڈر بنانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سینیٹ ارکان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو ان دونوں معاملات پر ہونے والی پیشرفت سے باہر رکھا گیا ہے۔

حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے سوالات ہیں جو ابھی جواب طلب ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ اسد عمر پر بھی زور دیا کہ وہ عوام میں عام ہوتے اس تاثر کی وضاحت کریں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو محدود کیا جارہا ہے جبکہ سعودی عرب کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ بنائے جانے جیسے اہم فیصلے کے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر بھی انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سینیٹ میں یہ تنقید اور بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آرہے ہیں جب سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلقہ معاملات پر گفتگو کرنے کے لئے پاکستان میں موجود ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -