”……نایاب ہیں ہم“

”……نایاب ہیں ہم“
”……نایاب ہیں ہم“

  



میم سین بٹ ایک سندر ادیب، کالم نویس اور صحافی ہوتے ہیں۔ نام کی خواہش نہ صلے کی تمنا! بس چپکے چپکے لوح وقت پر حروف مرتسم کرتے جاتے ہیں۔ معتبر حروف! حال میں ہی ان کا ایک انٹرویو دیکھا۔ تلخی ء ایام اور لمحہ لمحہ زندگی کا شاہکار!! انہوں نے ہمیشہ دھوپ نگلی اور چاندنی اگلی ہے۔ ہائے! رزق روٹی کے حصول کی راہ میں تحقیق و تخلیق کا سفر کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔

میم سین بٹ کے لفظ بولتے ہیں۔ گویا اور تابدار! انہوں نے جو بھی لکھا اور جب بھی لکھا، سچ لکھا ہے۔ جبکہ سچ لکھنا اس دور اور معاشرے میں مصلوب ہونے جیسا عمل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر سچا لکھاری گویا صلیب پر لٹکا ہوا ہے۔ موصوف کی تحریروں اور لکیروں سے بھی یہی تاثر ابھرتا ہے۔ خود ان کی درویشانہ زندگی اس امر و عمل کا زندہ ثبوت!

عہدِ حاضر میں قرطاس و قلم سے رشتہ استوار رکھنا کارِ دشوار ہے۔ میم سین بٹ نے لیکن اپنا یہ تعلق ہمیشہ بحال رکھا۔ وہ اس کی قیمت بھی ادا کرتے چلے آتے ہیں۔ ان کا بہت سا قیمتی وقت دشتِ صحافت کی سیاحی میں گزر گیا ہے۔ صحافت کے اپنے تقاضے ہیں اور یہ بڑے بڑے فنکاروں کو کھا گئی۔ بڑی بات ہے کہ میم سین اس کے باوجود نقشِ حیات کا مسافر ہے۔ زندہ و تابندہ مسافر!

میم سین بٹ نے کبھی مصلحت اور مصالحت سے کام نہیں لیا۔ یہ اپنے نظریات کی روشنی میں قدم، قلم اور قسم اٹھاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کے کسی خاص نظریہ سے اختلاف ہو! ہم سب گرد آلود فضاؤں میں رہتے ہیں۔ کسی کے دامن پر بھی میل دکھائی دے سکتی ہے۔ تاہم ان کی کتابوں سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ انہوں نے دنیوی مفاد کا کوئی کاروبار نہیں کیا۔ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہا اور بڑے بڑوں کے منہ پر کہا ہے!

میم سین بٹ بزم صحافت کا ایک چراغ ہے جو بلا امتیاز روشنی پھیلا رہا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا اور یہ صرف تخلیق ہی کے سفر پرر وانہ ہوتے تو جانے کیا کیا شہ پارے معرض وجود میں آجاتے۔ انہوں نے موہوم حالات کے باوجود اتنا کچھ دے دیا ہے تو اس صورت میں جانے اور بھی کیا کیا دے دیتے!

مزید : رائے /کالم