عمران خان نے ایسی تقریرکیوں کی؟

عمران خان نے ایسی تقریرکیوں کی؟
عمران خان نے ایسی تقریرکیوں کی؟

  


سب سے پہلے تویہ عرض کردوں کہ جوفورم تقریرکاہو وہاں تقریرہی کی جاتی ہے،ہاں اگرمیدان جنگ ہوتووہاں گولیوں کی بوچھاڑ،گولہ وبارود اورمیزائلوں کی آوازوں میں باتیں نہیں سنائی دیتیں،وہاں تقریر کی بجائے آلات جنگ سے لیس ہوکراترناپڑتاہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کااجلاس بھی تقریروں کافورم ہے جہاں ہرکوئی تقریرکرنے آتاہے اورانہیں تقریروں کے ذریعے ہی مختلف ممالک اپنے بڑے مسائل اقوام عالم کے سامنے رکھتے ہیں،اگرآپ وہاں تقریرہی اچھی نہیں کریں گے توپھردنیاآپ کے مسائل جان نہیں سکے گی، تقریر کے علاوہ مختلف سربراہان مملکت،وفوداورمیڈیاسے آپ کاسامناہوتاہے وہاں بھی آپ کاموقف واضح ہوناچاہیے اورمسائل کاذکرکرتے ہوئےاگلے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنی چاہیے،آج تک جس نے بھی بلاجھجک ایساکیا،دنیاایسے لوگوں کوان کے مرنے کے بعدبھی یادکرتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی وہی کیاجواس فورم پرکرناچاہیے تھا اوراس اندازمیں کیاکہ رہتی دنیاتک یہ تقریردشمن کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔

مسئؒلہ کشمیر،اسلامو فوبیہ اورناموس رسالتﷺ جیسے مسائل پر عمران خان نے جس طرح مفصل اندازمیں بات کی اس سے نہ صرف کشمیریوں کوحوصلہ ملاہے بلکہ اس سے پاکستان سمیت دنیابھرکے مسلمان خوش ہوئے ہیں،سوائے پاکستان کی مخالف سیاسی جماعتوں کے،،خاص طورپرانہوں نے بھارتی قیادت کوجس طرح براہ راست ہدف تنقید بنایا اوردنیا کے سامنے اس عالمی دہشت گردی کاچہرہ بےنقاب کیا،ایسے وقت میں ایسی ہی تقریر کی ضرورت تھی۔وزیراعظم نے بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے، آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا، آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے ، آر ایس ایس بھارت سے مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی، اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔یہ پاکستانی وزیراعظم کی ہی کوششوں کا اثر ہے کہ اب کشمیر پر ہر جگہ بات ہورہی ہے، امریکی پریس نے ان سے تمام سوالات کشمیر پر کیے۔اب صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم کی تقریرکے بعد ہندوستان کولینے کے دینے پڑگئے ہیں ،انڈٰین میڈیااور مودی سرکار بہت زیادہ گھبرائی ہوئی ہے،یہی وجہ ہے کہ انڈین چینل میڈیاہاؤسزکم اورزہراگلنے والی فیکٹریاں زیادہ لگ رہی ہیں،شایدانہیں اس حدتک توقع نہیں تھی کہ پاکستانی وزیراعظم ان کایوں پوسٹ مارٹم کرے گا۔

پابندیوں کے باوجود اس تقریرکے بعدخاص طورپرکشمیرمیں جہاں جہاں اطلاع پہنچی لوگوں نے کھل کرخوشی کااظہارکیامگرپاکستان میں سیاسی مخالفین کی جانب سے رویہ مایوس کن نظرآیا، کچھ لوگوں کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ تعریف کررہے ہیں یاپھراس تقریرسے انہیں اپنی ریٹنگ مزیدکم اورسیاسی موت نظرآرہی ہے۔نون لیگ کےاہم رہنما احسن اقبال نے جہاں امید ظاہرکی ہے کہ عمران خان اپنی تقریرپرقائم رہیں گے،وہی یہ بھی کہاکہ وزیراعظم اپنی ناکامیوں کواس تقریرکے پیچھے چھپانہیں سکتے،نہ یوٹرن لے سکتے ہیں۔ اب وزیر اعظم کی تقریر کا کاؤنٹ ڈاون شروع ہوگیا ہے، اگر حکومت ٹھوس قدم اٹھائے گی تو اپوزیشن حمایت کرے گی، اگر حکومت کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے سے قدم اٹھاتی ہے تو اپوزیشن دو قدم آگے ہوگی،یعنی دبےلفظوں میں احسن اقبال تقریرکوبہترین قراردے گئےاوراپنی سیاسی مجبوری کےتحت تنقید بھی کرگئے۔درحقیقت کچھ لوگوں کوتنقید کابہت شوق ہوتاہےلیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ مسئلے کاحل درحقیقت ہے کیاتوپھروہ آئیں بائیں شائیں شروع کردیتے ہیں۔

ہم فرض کرلیتے ہیں کہ عمران خان تقریرمیں جوبول کرآئے ہیں،وہ ایسانہ کرتے توپھرمخالفین ہی بتائیں کہ وہ کیسی تقریرکرتے؟آپ کے نزدیک ناموس رسالتﷺ ، کشمیرایشو، دنیا بھرمیں مسلمانوں کودہشتگردی قراردینے کی سوچ کے سنگین مسئلے سے بڑھ کرکیامسئلہ ہے؟کیاجنرل اسمبلی میں بھی اسی امت مسلمہ سے کشمیرپرمددمانگتے جوخوددبئی میں مندروں کی بنیاد رکھ رہے ہیں،جومسلمانوں کے قاتل کواپنی مساجدکے دورے کرارہے ہیں جنہیں اپنے اقتدارکوطول دینے کی فکر ہے،جوآپ کے دشمن سے جھپیاں ڈال رہے ہیں کیاان سے ابھی تک آپ کو خیرکی توقع ہے؟کیاجنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی امریکہ سے امن کی بھیک مانگناحل تھاکہ جس کاجہاں دل کرتاہے وہ اینٹ سے اینٹ بجادیتاہے،اب یہ وقت مسلمانوں کی عزت کی بحالی کاہے اوریہ وقت ہے کہ جب عالم کفراسلام کیخلاف صف آراء ہوچکاہے توآپ بھی اپنی صٖفوں میں اتحاد پیداکریں،یہ تبھی ممکن ہوگاجب ہم سب معمولی سے سیاسی اختلاف کوبھول کراس حقیقت کوتسلیم کرلیں کہ مسلمان،مسلمان کابھائی ہے اورجب ایک بھائی کوتکلیف ہوتی ہے تودوسرا اس کی مددکرتاہے،کشمیراورفلسطین سمیت دنیابھرمیں جہاں بھی کلمہ گوانسان عالم کفرکے ہاتھوں تکلیف میں ہیں،ان کی تکلیف کومحسوس کرکے خود کوخدا کی بارگاہ میں بھی سرخروکرناہوگا ورنہ بہت تاخیرہوجائے گی۔

اہل دانش سمجھ چکے ہیں اور اعتراف بھی کررہے ہیں کہ ایسےحالات میں اس فورم پر ایسی ہی تقریربنتی تھی اوروہ خان نے کرنے کاحق ادا کردیا، پھربھی آپ کے ہاتھ میں سوشل میڈیاہے،واٹس ایپ،ٹویٹراورفیس بک پر سٹیٹس ڈالیں اورپوچھتے رہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے،بجلی،تیل اوراشیائے ضروریہ مہنگی ہیں توپھر وزیراعظم عمران خان نے ایسی تقریرکیوں کی؟۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، www.facebook.com/munazer.ali)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...