بقراط عرب مؤرخین کی نظر میں

بقراط عرب مؤرخین کی نظر میں
بقراط عرب مؤرخین کی نظر میں

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:31

 تیسری صدی عیسوی میں عرب اطبائ، مورخین اور فلاسفہ نے علم و حکمت میں بہت زیادہ کام کیا۔ یونانی اور لاطینی کتب کے بے شمار تراجم عربی زبان میں کئے گئے۔ عرب تحقیق و تعلیم میں خود ہی یونانیوں سے کسی درجہ کم نہ تھے۔ اس دور میں عرب میں مختلف علوم و فلسفہ میں بے شمار نادر کتب تصنیف کی گئیں۔ اس دور کو عرب کا دور وسطیٰ (Middle Ages) کہا جاتا ہے۔

 یونانی طبیب اور فلسفی جالینوس (Galen) (129ءسے200ئ) نے بقراط کو تقریباً 600 سال بعد دوبارہ دریافت کیا۔ اس نے بقراط کی بہت سی کتب پر سیر حاصل شرحیں لکھیں اور بقراط کو خراج عقیدت پیش کیا۔ عرب علماءنے زیادہ تر جالینوس کی شرحوں کے تراجم کئے اور بقراط اور جالینوس کے کام کو آگے بڑھایا۔

 یہاں ہم ”ابن ابی اصیبعہ“ کی معروف کتاب”عیون الانباءفی طبقات الاطبائ“ سے بقراط کی زندگی، طبی کارنامے اور فلسفے کے بارے میں اسی کے انداز بیان کو برقرار رکھتے ہوئے بیان کریں گے۔

 بقراط کا زندگی نامہ

 ابن ابی اصیبعہ کا کہنا ہے پہلے ہم بقراط کے کچھ مخصوص حالات اور اسے جو تائید الٰہی حاصل تھی اس کا تذکرہ کریں گے پھر ان یونانی اطباءکا ذکر کریں گے جو گو اسقلیبوس کی نسل سے نہ تھے لیکن ان کے اندر بقراط نے فن کی ترویج و اشاعت کی تھی۔ بقراط ان اکابراطباءمیں آٹھواں شمار ہوتا ہے جن میں اسقلیبوس کا نام سرفہرست ہے۔

 بقراط کا تعلق نہایت شریف گھرانے اور اعلیٰ نسب سے تھا۔ یونانی زبان سے بعض مقامات پر مجھے اس کا نسب نامہ اس طرح ملا ہے۔ بقراط بن ایر قلیدس بن بقراط بن عنو سید یقدس بن بزوس بن سو سطراطس ابن ثاو ذروس ابن قلاد موطادرس بن ملک قریسامیس لہٰذا وہ اپنے گھرانے میں قدرتی طور پر نہایت شریف النفس تھا۔ شاہ قریسامیس کی آٹھویں، اسقلیبوس کی اٹھارویں اور زواس کی بیسویں پشت میں آتا ہے۔

 بقراط کی ماں فرکشیابنت فیناریطی ایئرقلیس کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، لہٰذا بقراط کا تعلق 2 شریف نسلوں سے تھا۔ ایک طرف باپ کے تعلق سے آل اسقلیبوس سے اور دوسری طرف ماں کے تعلق سے آل ایئرقلیس سے۔ فن طب کی تعلیم اس نے اپنے والد ایئر قلیدس اور دادا بقراط سے حاصل کی تھی اس کے ان دونوں بزرگوں نے اسے طب کے اصول و مبادی سکھائے تھے۔

بقراط کی مدت حیات 95 برس ہے حصول علم اور تدریس میں 79 سال بیتائے۔ اسقلیبوس اور بقراط کا درمیانی وقفہ2سال کا ہے۔ بقراط نے فن طب پر نگاہ ڈالی اور اسے یہ دیکھ کر فن طب مٹ جانے کا سخت اندیشہ ہوا۔ اس نے غور کیا کہ اسقلیبوس اول نے فن طب کی تعلیم کی بنیاد جن مقامات پر رکھی تھی وہ اکثر برباد ہو چکے تھے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -