بے ایمانی اور بددیانتی کسی بھی نسل کی ہو سود کے ساتھ ادا کرنی پڑتی ہے

بے ایمانی اور بددیانتی کسی بھی نسل کی ہو سود کے ساتھ ادا کرنی پڑتی ہے
 بے ایمانی اور بددیانتی کسی بھی نسل کی ہو سود کے ساتھ ادا کرنی پڑتی ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:7 

منصب کا استعمال:

صدیق سالک نے انتہائی غربت میں ابتدائی زندگی گزاری لیکن پھر قسمت کی دیوی ان پر ایسی مہربان ہوئی کہ وقت کے ساتھ وہ عروج کی طرف ہی گئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک کے سربراہ مملکت کے ساتھ وابستہ ہوئے۔صدیق سالک 5جولائی 1977ءسے یکم جولائی1985 تک صدر ضیا ءالحق کے ساتھ کام کیا یہ کوئی معمولی عہدہ نہیں تھا صدر کے مقرب خاص ہونے کے ناطے وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے تھے لیکن ان کا دامن اس قسم کی آلائشوں سے پاک رہا سالک کے قریبی دوست الطاف حسن قریشی ان کے متعلق لکھتے ہیں:

”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مکان کی تعمیر کرتے وقت پیسے کم ہوئے تو مجھ سے کہا کچھ مدد کر سکتے ہو میں نے اپنی بساط کی حد تک کچھ رقم فراہم کردی مگر وہ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوئی وہ اس وقت ایسی پوزیشن میں تھے کہ سیکرٹری مالیات سے بات کرتے تو ان گنت دروازے کھل جاتے مگر دروازے کھلنے کے ساتھ کچھ اور معاملات سراٹھا سکتے تھے چنانچہ انہوں نے جناب مشتاق یوسفی سے رابطہ قائم کیا جوان دنوں کسی بڑے بنک کے پریذیڈنٹ تھے انہوں نے قواعد و ضوابط کے مطابق رقم فراہم کی جو صدیق سالک نے کتابوں کی رائلٹی سے ادا کی-“ 

جناب مشتاق احمد یوسفی نے اس قسم کے کسی واقعے کی تردید کی ہے لیکن اس ضمن میں ان کا مجموعی تاثر بھی یہی ہے-ان کے مطابق :”وہ بے حد شریف انسان تھے میں نے کبھی اس قسم کی کوئی بات نہیں سنی کہ صدیق سالک نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا ہو-“

صدیق سالک نے اپنی تحریروں میں اپنی ایمانداری کا ڈھنڈورانہیں پیٹالیکن ایک انٹرویو میں اپنے بچپن کا ایک واقعہ لکھا ہے جس نے ان کی زندگی پر دوررس نتائج مرتب کئے:

”ہمیں پاکٹ منی تو کبھی ملتی نہیں تھی- کبھی کبھار کوئی میلہ ٹھیلہ لگ گیا یا عید بقر عید کا مبارک تہوار آتا تو دو چار پیسے مل جاتے تھے- اتنی رقم سے جو خوشی حاصل ہوتی تھی وہ خوشی بعد میں پھر کبھی میسر نہیں آئی ایسے ہی کسی موقعے پر مجھے ایک چونی مل گئی سڑک پر دو طرفہ دکانیں تھیں- یہی ہمارا شاپنگ سنٹر تھا‘میری خواہش یہ تھی کہ اتنے پیسوں سے وہ چیز خریدوں جو مقدار میں زیادہ آئے ببل گم‘ چاکلیٹ اور ٹافیاں تو ہوتی نہ تھیں میں نے اس چونی کی ریوڑیاں خریدلیں اس کے لیے میں نے اپنا دامن پھیلا یا اور چونی دکاندار کے ہاتھ پر رکھ دی ہندو دکان دار نے چونی اپنی چٹکی میں پکڑی اور میرے پھیلے ہوئے دامن میں ریوڑیاں ڈالنے لگا اتفاق سے چونی اس کی چٹکی سے چھوٹ کر ریوڑیوں کے ساتھ میرے دامن میں آگئی جسے میں نے دیکھ لیا وہ اس سے بے خبر تھا میں ریوڑیاں لے کر تیزی سے گھر کی طرف گیا میں پیچھے مڑکر دیکھے بغیر بھاگ رہا تھا۔ راستے میں ایک مسجد پڑتی تھی اس کے ساتھ گندے پانی کی نالی بھی تھی وہ اوپر سے کھلی ہوئی تھی اس کے کناروں پر پتھر ڈال کر چھوٹی سی باڑ بنا دی گئی تھی میں تیزی میں ایک پتھر سے ایسا ٹکرا یا کہ منہ کے بل اس گندی نالی میں جا گرا ساری ریوڑیاں اس گندگی میں سن گئیں۔کپڑوں پر کیچڑ آ گیا گھٹنے اور ہاتھ چھل گئے ان سے خون بہنے لگااس طرح ریوڑیاں بھی گئیں اور چونی بھی- میں اس حلیے میں گھر آیا ڈانٹ پڑی مار بھی پڑی کہ ایسی کیا جلدی تھی کہ اندھے بن کر بھاگ رہے تھے گھر میں پٹائی ‘ کپڑوں کی خرابی اور جسم پر خراشیں ! جس چونی کی خاطر بے ایمانی کی تھی وہ بھی گئی ۔اس وقت تو کچھ احساس نہ تھا لیکن بعد کی زندگی میں اس واقعے سے یہ سبق حاصل کیا کہ بے ایمانی اور بددیانتی کسی بھی نسل کی ہو وہ کمپاﺅنڈ انٹرسٹ یعنی مرکب سود کے ساتھ ادا کرنی پڑتی ہے یہ نظام ِ قدرت ہے اس واقعے نے میری زندگی کا دھارا موڑ دیا ہر چند کہ میں فرشتہ نہیں ہوں مگر میرا ضمیر مطمئن ہے پھر میرے ذہن میں کبھی بے ایمانی کا خیال نہیں آیا-“ 

سالک کی شخصیت کے اس رخ کے متعلق سید ضمیر جعفری رقمطراز ہیں :

”اپنی سرکاری پوزیشن سے اس نے کبھی کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا- بعض قریبی دوستوں کی توقعات کو بھی پورا نہ کر سکا جس سے اس کے بارے میں غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئیں البتہ علاقے کی اجتماعی بہبود کے لیے جس دروازے کو بھی کھٹکھٹانا پڑا اس میں عار نہ سمجھی “ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -