دہشت گردی کے خلاف جنگ

دہشت گردی کے خلاف جنگ

  

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے قومی سلامتی کے مشیر بروس رائیڈل نے ایک بیان میں کہا.... پاکستان 20 جنوری 2009ءکو بننے والی باراک اوباما انتظامیہ کے لئے بھی خاردار مسئلہ رہے گا۔ ان کا یہ بیان اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ وہ 2007ءسے باراک اوباما کے مشیر رہے ہیں۔ رائیڈل نے یہ بھی الزام لگایا کہ جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن سے رقم حاصل کرنے کے لئے ایک مہم چلائی تھی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان پر حملہ پاکستان کی معاونت کے بغیر ناممکن تھا۔ ان فوجوں کے کھانے پینے کا سامان، اسلحہ سب زمینی راستوں سے صوبہ سرحد کے ذریعے افغانستان جاتا ہے۔ اگر لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان نے واشنگٹن کو لوٹا ہے تو امریکہ کو چاہئے تھا کہ افغانستان کے لئے تمام سامان فضائی راستوں سے بھیجے، لیکن بحری جہاز کس بندرگاہ پر لنگرانداز ہوں گے۔ کیا ممبئی میں؟.... پھر فضائی راستے میں بھی پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ پاکستان کے فضائی راستے کا خرچہ بھی بہت ہے۔ تقریباً 150,000 امریکیوں اور اتحادی فوجیوں کے لئے غذا اور اسلحہ سات برس تک بذریعہ ہوائی جہاز سپلائی کرنے کا خرچ کتنا ہوتا؟.... ابھی کسی نے حساب نہیں لگایا ۔ پاکستان کو کتنے ڈالر ملے؟

سرکاری طور پر پانچ برس کے لئے تین ارب ملے جو کہ 600 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ اس کا آغاز 2005ءکے مالی سال سے ہوا، جو امریکہ میں یکم اکتوبر 2004ءسے ہوتا ہے۔ ستمبر2001ءسے لے کر اکتوبر 2004ءتک کی لوٹ مار کتنی تھی؟ کچھ خبر نہیں.... کہا جاتا ہے کہ پاکستانی سہولتوں کے استعمال کے لئے کرایہ دیا گیا۔1981ءمیں افغان جنگ کے لئے پاکستان کو 6 برس کے عرصے کے لئے تین ارب بیس کروڑ ڈالر ملے تھے۔ اس وقت سے 2004ءتک ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں دوگنا کے قریب پہنچ چکی ہے تو 1981ءکے ڈالر کے معیار سے تین ارب ڈالر صرف ڈیڑھ ارب ڈالر رہ گیا۔ ایک بار امریکی انڈر سیکرٹری سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی بات صحیح ہے، لیکن امریکہ کا عراق جنگ کا خرچہ اتنا ہے کہ وسائل کم رہ گئے تھے، مگر عراق کی جنگ تو مارچ 2003ءمیں شروع ہوئی۔ طالبان اور دوسروں کی دشمنی مول لینے کی وجہ سے پاکستان میں جو جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے، اس کا خرچہ کس کھاتے میں ہے۔

میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے سے جو نقصان ہوا، اس کا خرچہ کہاں سے آئے گا؟.... بھارت نے 2008ءمیں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کے بعد فوجیں سرحد پر لگائی ہیں۔ اس کے دفاع کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ وہ خرچہ کہاں سے آئے گا؟.... جنرل پرویز مشرف اور ان سے پہلے جنرل ضیاءالحق نے امریکی مفادات کی جنگ تقریباً مفت لڑی۔ ضیاءالحق نے تو خیر اپنی جان دے دی اور ان کے دوسرے مقاصد بھی تھے، یعنی ایٹمی پروگرام اور مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی جنگ آزادی، لیکن دوسرے تو گالف کھیل رہے ہیں۔ امریکہ اور اتحادی ممالک نے پاکستان کو بڑے ہتھیار نہ دینے اور صرف ہیلی کاپٹر اور رات کو دیکھنے والی دور بین دینے کا فیصلہ کیا تاکہ پاکستانی فوج پہاڑی راستوں میں دشمن پر نظر رکھ سکے۔ مئی2010ءکے آغاز میں امریکی شہر نیویارک میں ٹائمز سکوائر میں پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد نے دھماکوں کی کوشش کی، جو ناکام بنا دی گئی۔ فوری طور پر امریکی تحقیقات کا سارا رخ پاکستان کی طرف ہوگیا۔ پاکستان پر دباو¿ ڈالا جانے لگا۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر دوبارہ اس طرح کی کارروائی ہوئی تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کا رویہ بھی اسی طرح کا ہی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی طرف سے بھی یہی بیان آیا کہ اگر ممبئی حملوں جیسا واقعہ دوبارہ پیش آیا تو پاکستان کو سبق سکھائیں گے۔ گویا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کا اتحادی ہونے کا ہمیں یہ انعام مل رہا ہے۔ آئے دن ڈرون حملوں میں درجنوں پاکستانی شہید ہو رہے ہیں، ملک کا کوئی شہر خودکش حملوں سے محفوظ نہیں رہ گیا۔ بھارت ہماے پانی پر ڈیم بنا رہا ہے۔ ہمارے حکمران سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ ملکی معیشت کا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اشیاءضروریہ کی قیمتوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بے روزگاری بڑھ چکی ہے۔قوم کو 12 سے 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو گویا یرغمال بنا رکھا ہے۔ حکم آتا ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دو، اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ پٹرول، گیس، پانی کی قیمتیں سب آئی ایم ایف کی ہدایت پر طے کی جاتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں کسی کو کوئی نقصان ہوا یا نہیں، پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے ضرور گزر رہا ہے۔     ٭

مزید :

کالم -