ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (2)

ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (2)

  

اتنے میں چائے آگئی اور ساتھ میں بھابی کا پیغام کہ دو اکھالیجیے۔ مجھے بھی اپنی دوا یاد آگئی۔نکال کے سامنے رکھی اور پھر چائے پینے لگ گیا۔پوچھا،دوا نہیں کھا رہے؟مَیں نے کہا ،اِس دوا کے بعد کچھ دیر کے لئے چائے نہیں پی جاتی۔اب ذرا ٹھہر کے کھالوں گا، مگر تم یہ کیا کیا دوائیں کھا رہے ہو؟کس کا علاج ہے؟

اُس نے سر سے لے کر پاﺅں تک بیسیویں بیماریوں کے نام گنوا ڈالے اور سینکڑوں دواﺅں کے جن میں سے اکثر میرے لئے نئے تھے کہ اپنے لئے تو ایک ہی بیماری بہت ہے ،بقول شیخ الرئیس سب سے بڑی بیماری ،دل کی بیماری اور دل کی بیماریوں میں سب سے بڑی دل آزاری۔

اُس کی مصیبت یہ تھی کہ وہ دل آزاری سے بہت ڈرتا تھا۔فیملی ڈاکٹر اور دوست احباب جو بھی کہتے مان جاتا۔جو بھی دوا تجویز کرتے منگوا لیتا۔ایلو پیتھک،ہومیو پیتھک ،آیور وید ،طب یونانی،طب چینی یا کسی قسم کا کوئی مجرب ٹوٹکا۔جڑی بوٹی،چٹکی چورن یا اَلا بلا بھی ہو۔وہ بیک وقت ہر قسم کی دوائیں کھا رہا تھا اور لگتا تھا اخلاقاً کھا رہا ہے۔اِس لئے کبھی تو بھول جاتا تھا اور کبھی ایک ساتھ پانچ سات گولیاں اور چوکور ٹکیاں پھانک لیتا۔اور کھاتے ہی لگتا کہ تھک سا گیا ہے۔اگرچہ دیکھنے میں اور بات چیت میں وہ تھکا ہوا نہیں تھا۔شاید ہم پنجابیوں کی اصطلاح میں اُکا ہوا یا اُکتایا ہوا زیادہ لگتا تھا۔

وہ دیکھا تم نے،میرے نام جو خط ساقی فاروقی نے لکھا ہے؟اُس نے یکایک ایسا سوال کرڈالا، جسے میں خود گفتگو سے دُور رکھنا چاہتا تھا۔ہاں دیکھا تو ہے،مجھے کہنا پڑا،ابھی ہندوستان کے ایک رسالے نے اوراق سے نقل کرکے چھاپا ہے،پہلے نہیں پڑھا تھا۔

ایک دم جیسے وقت کی سرنگ میں پچیس تیس برس پہلے کا زمانہ پلٹ آیا اور مَیں کیادیکھتا ہوں کہ ایک سبز آغاز سا لڑکا سلیم کے پاس ہیبت زدہ نیاز مندی کے ساتھ منہ کھولے بیٹھا ہے اور ادب کے بارے میں معمولی سے معلوماتی سوال پوچھ پوچھ کر جوابات کو ذہن نشین کررہا ہے اور اب دیکھیں کیا دم خم ہیں۔ابھی کل ہی عالی کہہ رہا تھا کہ سلیم کے ساتھ بھی وہی ہو جوا پرُانے استادوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے:

کس نیا خومت علمِ ترا زمن

کہ مرا عاقب نشانہ نہ کرد

مَیں نے چاہا کہ تلخی اور مایوسی سے الگ کوئی بات کروں۔

ہاں اِس میں ایک مزیداری یہ تھی کہ اُس نے تمہارے چھ سات مصرعے منتخب کئے تھے۔بہت اچھے مصرعے منتخب کئے تھے، لیکن اُس نے نقدِ ادب کے طور پر منطقی نتیجہ نکالنے کا روگ تو کبھی پالا نہیں۔ یہ بھی نہ سوچا کہ ایسے چھ سات مصرعے اور کس کس کے پاس ہیں؟اور ایذرا پاﺅنڈ کی یہ بات اُس نے پڑھی سنی ہوگی تو بھول گیا ہوگا کہ ٹھکانے کے چھ مصرعے بھی کوئی لکھ دے تو ادب کی تاریخ میں اُس کا مقام ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔میں بتا نہیں سکتا،مظفر، کہ مجھے کتنا رنج ہوا ہے۔ میں نے اِس کے لئے....

 نہیں،تم نہیں جانتے۔تم تو وہاں پہاڑ پر چڑھ کر بیٹھے ہو پشاور میں۔ویسے پشاور ،پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔

خیر جہاں کہیں بھی ہو ،خوب ہے۔ مَیں بھی چاہتا ہوں کہ کسی ایسی جگہ چلا جاﺅ ں، جہاں کوئی اخبار نہ آتا ہو، کوئی ڈاک خانہ نہ ہو،کوئی ریڈیو نہ ہو،کوئی ٹی وی.... ریڈیو کیسٹ تو آج کل گاﺅں کی پگڈنڈیوں پر رینگتے ہوئے گدھوں کے گلے میں بھی لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور ٹی وی والوں کو تمہارے جانے کی خبر ملے گی تو نسیم حجازی کا تیسرا ناول لے کے آجائیں گے سلیم بھائی۔وہاں فرصت ملے گی،ذرا آتے ہوئے ایک نیا سیریل بنا کے لیتے آئیے گا،تم ضرور آﺅ۔ہم بھی پشاور سے باہر سمجھوایک گاﺅں میں ہی رہتے ہیں۔مگر یوں کرنا کہ ناول ساتھ لے کے نہ آنا۔ سیریل بے شک لکھ ڈالنا۔

ناول تو خیر پہلے بھی بس کہیں کہیں سے اُٹھا کر کبھی دیکھ لیتا تھا اور دوسرا سیریل ملنے سے پہلے، ہاں اِسے ملنا ہی کہو،تم نے جو مجھے اور اسد محمد خاں کو بہت اچھی دُعا لکھی تھی کہ خدا تم دونوں کو اپنی امان میں رکھے۔اِس کے باوجود ہم دونوں باری باری ہفتے دس دن تک بخار میں پھنکتے رہے۔یہ بخار ناول پر اُترتا تو خوب تھا۔

مگر بچوں کے کپڑے کیسے سلتے؟ چلو چھوڑو ٹی وی والوں کو۔کہو شاعری اور تنقید کی صحت کاکیا احوال ہے؟

 وہ لمبی نظم لکھی تھی....مشرق....تم تو بہت دُور تھے۔جب لکھی جارہی تھی۔اب ایک ساتھ چھپے گی تو دیکھنا اور اقبال والی کتاب کا نیا ایڈیشن تیا رکرکے اضافوں کے ساتھ، ناشر کو بھیجا ہے۔چند ایک اعتراض کا جواب بھی اِس میں ہے۔ اور وہ سستے قسم کے اعتراض تو چھوڑ دئیے تھے نا؟؟نہیں،یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔سستے ہوں یا مہنگے، اعتراض تو اعتراض ہوتے ہیں یا گفتگو اور بحث کا ایک بہانہ،تم تو خیر عسکری کے دفاع کو بھی غیر ضروری سمجھتے ہو اور جو لوگ اُن کے خلاف مہم چلاتے ہیں اُن پر زبانی فقرے بازی کرکے دل کا بخار نکال لیتے ہو۔ مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے ایک بات شروع کی ہے تو اُسے آگے چلانا چاہیے یا اُسے صحیح سمت میں موڑ لینا چاہیے۔اِس لئے میں تو دھم سے کود پڑتا ہوں۔ اور اِس کے بعد پھیلے ہوئے جال کا منہ بند ہوجاتا ہے۔ماننا پڑتا ہے کہ اپنے مدیران کرام عقل کے اندھے سہی مگر گانٹھ کے پورے ہیں۔(جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -