پھر وہی کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ....!

پھر وہی کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ....!
پھر وہی کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ....!

  

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ امریکہ بہادر شام کی ”مُنہ زور“ قیادت کو لگام دینے اور عالمی امن کے قیام کو ”دوام“ دینے کے لئے شام پر فوجی حملہ کرنے والا ہے، امریکی بحری بیڑہ شام کی سرحدوں کے قریب پہنچ چکا ہے، ساری تیاری مکمل ہے، بس صدر امریکہ کے حکم یا اجازت کی دیر ہے، شام میں حکوت کا خاتمہ کر کے عوام کو ”جمہوریت“ اور ”آزادی“ کا تحفہ دیا جائے گا۔

شام میں حافظ الاسد کے طویل ظالمانہ دور، اس کے بعد موروثی بادشاہت کی طرح اپنے بیٹے کو جانشین بنا کر دُنیا سے رخصت ہونے کا عمل کسی کو پسند نہیں، بلاشبہ یہ طویل شخصی آمریت اور”موروثی جمہوریت“ ختم ہونی چاہئے، مگر اس کے لئے امریکہ نے اپنی افواج اتارنے کا جو منصوبہ بنایا ہے، وہ دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت جائز نہیں۔ اس سے پہلے وہ افغانستان اور عراق میں ”جمہوریت“ کی بحالی کے لئے ”تاریخی“ کردار ادا کر چکا ہے۔ صدام جو کلی طور پر امریکی گھوڑا تھا اور جس نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے ایران سے جنگ کی، لاکھوں بے گناہ شہری مارے گئے، اُن کاقصوریہ تھا کہ وہ کلمہ گو تھے، خواہ ایرانی ہوں یا عراقی! صدام نے قطر اور سعودی عرب پر حملہ کر کے امریکی حکمرانوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے دوستوں کے تحفظ کے لئے اپنی فوجیں لے کر آیا، کویت کی بادشاہت کو بچایا، سعودی عرب کے شاہی نظام کو تحفظ دیا، یو اے ای اور قطر میں فوجیں اتار دیں، اس طرح بغیر کسی جنگ کے، عالمی امن کا داعی اور مسلمانوں کا دوست بن کر سیال سونے سے مالا مال ان خطوں پر قبضہ کر لیا۔15سالہ معاہدہ اب 35سال پر محیط ہو چکا ہے۔ ان ممالک کے وسائل کو جونک کی طرح چوس رہا ہے اور پھر بھی ”نجات دہندہ“ ہے۔

آج سے چند سال پہلے جب صدر صدام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لیا تو اس سے نجات پانے کے لئے پہلے اسرائیل سے اس کی تنصیبات کو تباہ کروایا، پھر یکایک اس کے کیمیاوی ہتھیاروں کا شور برپا ہوا۔ امریکہ کی خبر رساں ایجنسیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ صدام حسین کے پاس کیمیاوی ہتھیار ہیں، جو عالمی امن اور خود عالم اسلام کے لئے خطرہ ہیں۔ اپنے زر خرید غلام البرادی کو یو این او کا نمائندہ بنا کر کیمیاوی ہتھیاروں کی تلاش کے لئے بھیجا گیا، جب کچھ نہ ملا تو کہا صدام حسین نے ہتھیار چھپا لئے ہیں، امریکی فوج خود تلاش کرے گی۔ صدام حسین کو عبرتناک انداز سے ختم کر دیا گیا، مگر کیمیاوی ہتھیار آج تک بازیاب نہیں ہوئے، اب وہی پرانا آزمودہ کیمیاوی ہتھیاروں کا بہانہ تراش کر امریکہ شام کا بھی ”ناشتہ“ کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ ایک ایسا عالمی بھیڑیا ہے، جوخود ہی میمنے کو پنجہ مار کر اس کو چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے۔ عالم اسلام کی ساری ریاستیں اور اس کے حکمران بزدل میمنے ہیں، جو باری باری اس کی ”محبت“ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جہاں امریکہ کو ایسے گھوڑے میسر آ جاتے ہیں، جن پر سوار”سپہ سالار اپنے ہی ملک کو فتح کر کے جمہوریت کا پرچم گاڑ دیتے ہیں، جیسے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور اب مصر، وہاں خود حملہ نہیں کرتا، جہاں مزاحمت ہو، وہاں خود قوموں کی خدمت کے لئے پہنچتا ہے۔ بھارت نے اسی طرح مشرقی پاکستان پر حملہ کیا۔ یو این او سلامتی کونسل موجود تھے۔ اب امریکہ شام پر حملہ کرناچاہتا ہے۔  ٭

مزید : کالم