حکمران، اپوزیشن، عوام سچ بولیں، مسائل کم ہو جائیں گے

حکمران، اپوزیشن، عوام سچ بولیں، مسائل کم ہو جائیں گے

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، تہذیب، جدت، جمہوریت، آزادی ¿ رائے اور آئین و قانون کی عمل داری پر ترغیب، تلقین و تاکید، پڑھنے اور سننے میں آ رہی ہے۔ اب تو ذرائع ابلاغ، اخبارات و جرائد سے بڑھ کر برقی اطوار، یعنی ٹی وی چینلوں سے شب و روز، عوام کو تازہ خبریں، قومی و بین الاقوامی حالات، عجیب واقعات اور تفریحی معلومات کی فراہمی کا سلسلہ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی اطلاعات میں اضافے اور دلچسپی سے آگاہ و آشنا کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان سہولتوں کا اگر مثبت انداز سے استعمال کیا جائے، تو کافی تعداد میں عوام جدید اطلاعاتی سہولتوں سے مستفید ہو کر اپنی زندگی کے مسائل کم کرنے پر قائل و مائل ہو کر، اصلاح احوال کے راستوں پر کسی حد تک راغب و عامل ہو سکتے، لیکن اگر بعض منچلے معاشرتی اقدار کو غیر قانونی اور منفی روش پر چلانے پر تل جائیں، تو ان کی کج روی سے ان اقدار کی تباہی کے بُرے اثرات بھی ملک و قوم کے طول و عرض میں پھیل کر افسوسناک نتائج جلد وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔

 مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں حقائق مروجہ کو پیش نظر رکھ کر مثبت اقدار کو فروغ دینے کے راستے، ایک مسلسل اور تدریجی عمل کے ذریعے بروئے کار لانے کا انداز کار جاری رکھا جاتا ہے۔ غلط کاریوں کی نشاندہی اور بیخ کنی، ہر طبقے اور علاقے کے لوگوں میں، اگر باقاعدگی سے کسی حکومتی اور پرائیویٹ ادارے کی رہنمائی اور نگرانی میں کی جاتی رہے، تو اس خطہ ارض یا ملک و قوم میں بددیانتی کی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی ہونے سے مثبت اقدار و اصول، بلا شبہ فروغ پاتے اور پروان چڑھتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں حصول تعلیم پر بھی تمام طبقوں اور حلقوں کو خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہئے، کیونکہ اس جدید دور میں تعلیمی اداروں کی کتب اور سائنس کی تجربہ گاہوں میں وقت کی تبدیلیوں کے لحاظ سے نئے مضامین، رجحانات اور تخیلات، منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ اہل مغرب میں ایسی تبدیلیاں کئی سال قبل رونما ہو کر متوقع مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

بعدازاں بعض مشرقی ممالک بھی، ان کی کامیابی کے اقدامات سے استعفادہ کرنے پر راغب ہوئے ہیں۔ مثلاً بیشتر مغربی اور دیگر ممالک میں شرح خواندگی اور سائنسی ایجادات، اہل مشرق سے کہیں پہلے وقوع پذیر ہونے سے اُن کی معیشت، دفاع اور سیاسی سرگرمیاں نسبتاً بہتر، برتر اور استحکام پذیر تصور کی جاتی ہیں۔ انسانی فلاح و بہبود کا اصول و تقاضا یہ ہے کہ اپنے سے بہتر اور معیاری مقام و مرتبہ رکھنے والے اقدامات اور شخصیات کے راستوں کی پیروی کی جائے، تاہم جہاں اسلامی اصولوں کی صحیح پاسداری اور عمل داری کا تذکرہ آ جائے، تو ان کی خلوص نیت سے اسلامی تعلیمات اور اقدار کے لحاظ سے تمام مسلم حضرات اور خواتین کو پیروی پر ترجیح دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اسلام زندگی کے بہترین اصولوں سے تمام شعبوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ وطن عزیز میں حق گوئی یا سچ بولنے کی عادت کے دیگر جدید حالات اور تقاضوں کے مطابق تاحال بڑھنے کے اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔

 موبائل فون پر اکثر افرادیہ کہتے سنے گئے ہیں کہ وہ فلاں مقام پر کھڑے بول رہے ہیں، حالانکہ وہ مقامات ان سے کئی کلو میٹر دُور واقع ہوتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں حق گوئی یا سچ بولنے کی عادت کو ہر طبقے اور شعبے کے لوگوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے، کیونکہ جھوٹ بولنا، کسی مذہب،مہذب معاشرے اور ادارے میں قابل قبول تصور نہیں کیا جاتا، لیکن ہم میں سے کئی لوگ محض معمول دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر دانستہ غلط بیانی کا سہارا لیتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ منفی روش اپنانے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ عدالتوں میں متعدد گواہ سچ بولنے کا حلف اٹھا کر بھی غلط بیانی کر کے ملزمان کی سزا یا رہائی کے لئے سعی کرتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ حکومتی سطحوں پر بھی عدالتی کارروائیوں میں دانستہ غلط بیانی اختیار کر کے قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں اور اربوں روپے یا عوام کے تحفظات کو نقصانات سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اِسی غلط کاری، متعلقہ شعبوں کے اعلیٰ افسران کے ذریعے حکمران طبقے کرانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، جس کو جلد ترک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ٭

مزید : کالم