گورنر چودھری محمد سرور تعمیراتی کاموں پر عمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں

گورنر چودھری محمد سرور تعمیراتی کاموں پر عمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں
گورنر چودھری محمد سرور تعمیراتی کاموں پر عمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں

  

ابھی کل کی بات ہے ورلڈ روڈ سیفٹی ڈے کے حوالے سے پی سی اور گورنر ہاﺅس میں ایک سیمینار ہوا،جس میں ذوالفقار چیمہ، ڈاکٹر رضوان، قلب عباس، پولیس کے جانے پہچانے نام سٹیج پر بیٹھے تھے، اُن کے ساتھ گورنر چودھری محمد سرور اور روزنامہ ”پاکستان“ کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی موجود تھے۔

کہتے ہیں جب تخت سجایا جاتا ہے تواس پر اُنہی لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے، جو اِس کے اہل ہوتے ہیں، بڑی بات یہ کہ وہ وقت بھی ضائع نہیں کرتے، وقت سے فائدہ دینے کوشش کرتے ہیں۔

مَیں وہاں موجود تھی، دیکھ اور سُن بھی رہی تھی، چند لوگ ایسے بھی آئے، بولے اور اُن کے بولنے سے سیمینار میں بیٹھے ہوئے لوگ گہری نیند سو گئے، مَیں اُن سوئے لوگوں کو دیکھ رہی تھی، کچھ کو تو مَیں نے موبائل میں محفوظ کر لیا، مگر مَیں جو لکھنا چاہ رہی تھی میرا دھیان اُسی طرف تھا، باری باری لوگوں نے خیالات کا اظہار کیا اور روڈ ایکسیڈنٹ سے بچنے کی ہدایت بھی کی اور نصیحت بھی۔ مجھے ان لوگوں میں سے ذوالفقار چیمہ کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ یہ واقعی اپنے عہدے کے مستحق ہیں، کیونکہ یہ جس شعبے میں بھی جاتے ہیں نظام کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ باقیوں نے بھی خیالات کا اظہار کیا، کہیں وہ اٹک جاتے تھے اور کہیں وہ روڈ ایکسیڈنٹ کے بارے میں کچھ بھول بھی جاتے تھے، زیادہ تر کی گفتگو میں روڈ پر کم عمر ڈرائیور ہونے کا بتایا گیا اور کچھ نے اَن پڑھ ڈرائیور سے حادثہ ہونے کا بتایا اور زیادہ تر نے میاں بیوی کے جھگڑے سے روڈ ایکسیڈنٹ پر زور دیا اور اس کے علاوہ ڈرائیو کرتے ہوئے موبائل سننے پر ایکسیڈنٹ کا ہونا قرار دیا گیا۔ یہ سب باتیں مَیں سنتی رہی اور ذہن میں بٹھاتی گئی۔

اس کے بعد جب مجیب الرحمن شامی کی باری آئی تو اُن کی گفتگو نے ہال میں سوئے لوگوں کو جگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ناامیدی اور مایوسی کی باتوں کو ترک کرنا ہو گا، ہمیں ایک باہمت اور پُرعزم قوم بن کر اپنے اہداف کو حاصل کرنا ہو گا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذوالفقار چیمہ موٹروے میں تبدیلی کی علامت ہیں وہ جہاں بھی گئے اداروں کو بہتر کیا۔ ان کے بعد گورنر چودھری محمد سرور کی باری آئی، انہوں نے کہا جو مَیں کہنا چاہتا ہوں وہ میرے سے پہلے سب اپنی اپنی زبان میں بول چکے ہیں۔ گورنر صاحب کی بات سے انداز ہوا کہ1122انہی کے نظریے کی تعمیر ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ چودھری صاحب کا پچھلی حکومتوں سے بھی تعلق رہا اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ گورنر صاحب محب الوطن ہیں، وہ لندن بیٹھ کر بھی اپنے مشوروں پر عمل کراتے رہے، کہتے ہیں بیٹا پردیس جاتا ہے، زندگی وہاں گزارتا ہے مگر اس کا دل اپنی مٹی اپنے ماں باپ اور وطن کی طرف ہی ہوتا ہے جیسا کہ چودھری محمد سرور نے اپنی زندگی کا باقی حصہ اپنے ملک کو سنوارنے میں گزارنے کا سوچ لیا۔

مجھے امید ہے کہ گورنر صاحب موٹروے کی پڑھی لکھی پولیس کی طرح روایتی پولیس کو بھی موٹروے کی طرح مثالی بنائیں گے، جب یہ مثال شہروں اور گاﺅں گاﺅں میں پھیل جائے گی، تو پھر کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہو گا، کوئی بچہ18سال کی عمر سے پہلے ڈرائیونگ نہیں کرے گا، ایجوکیشن بڑھتی جائے گی، قانون اور رولز پر عمل ہو گا، کوئی ٹرک ڈرائیور اَن پڑھ نہیں ہو گا، داخلی اور خارجی امور بہتر ہوں گے اور چودھری صاحب کے چھوڑے ہوئے لندن کی طرح یہاں پر بھی پولس ذمہ دار ہو گی، چالان ہو گا، تو سفارش نہیں ہو گی، موٹروے کی طرح! خدانخواستہ کبھی کسی کا ایکسیڈنٹ ہو گا، تو قصوروار کو سزا ملے گی، ہر ڈرائیونگ کرنے والے کے پاس لائسنس ہو گا، موبائل ڈرائیونگ کرنے والا شوہر نہیں، جھگڑنے والی بیوی سنے گی۔ رول اصول ہر ایک پر لاگو ہو گا۔ 1122برطانیہ میں ٹائم لیمٹ7منٹ کے اندر پہنچتی ہے اور پھر پاکستان میں بھی1122....7منٹ میں ہی پہنچے گی تاکہ ایکسیڈنٹ سے زخمی ہونے والے کی جان بچائی جا سکے، ایمبولینس کے لئے راستہ الگ ہو گا، اگر پورے ملک میں چودھری صاحب1122کا جال بچھا دیں، تو بہت ساری زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

گورنر صاحب کے ارادے تو نیک ہوں گے، مگر ان کو مشیر بھی ایسے ہی ملنے چاہئیں اور ان کے حکم پر وزیروں کو عمل بھی کرنا چاہئے۔

گورنر صاحب جس دن سے گورنر ہاﺅس میں بیٹھے ہیں اُن کی زیادہ تر توجہ اس ملک میں تعلیم کی طرف ہے، خدا کرے کہ اُن کے آنے کی وجہ سے ہر بچہ سکول جانے لگے اور جو نہ جائے اس کے ماں باپ کو برطانیہ کی طرح نوٹس ملنا چاہئے۔ گورنر صاحب آپ کی سوچ تو بہت اچھی ہے، مگر یہ پاکستان ہے، پیارا پاکستان۔ اس کی سرسبز زمین بنجر بنانے کی حد کر دی گئی، خدا کرے اس کی کھیتیاں آپ ہی کی وجہ سے سرسبز ہوں اور لہرانے لگیں، ریسکیو ہی نہیں یہاں پر بہت سارے کاموں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ لندن کی طرح بجلی کی روشنی کی ضرورت ہے، فیکٹریوں کو چلانے کے لئے گیس اور بجلی کی ضرورت ہے، غریبوں کے سکول بھیجنے کے لئے پیسے کی ضرورت ہے، مزدور کو مزدوری کی ضرورت ہے اور جن کے پاس ڈگریاں ہیں اُن کو نوکری کی ضرورت ہے۔ کاش کہ آپ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کرانے کی کوشش کریں کہ یہ بچے جن کو تعلیم کی ضرورت ہے، اُن کے ماں باپ کو روزگار دلانے کے لئے فیکٹریاں چلا دیں، تو پھر آپ کا نام 1122کی طرح اور کاموں میں بھی تاریخ میں لکھا جائے، کیونکہ ہمارے ملک کو تعمیراتی کاموں کی ضرورت ہے۔  ٭

مزید : کالم