شہرِ چراغاں کا نوحہ

شہرِ چراغاں کا نوحہ
شہرِ چراغاں کا نوحہ

  

ظلم مٹے گا اور مٹ کے رہے گا۔ امن کا بیج خود بخود ظلم کی دھرتی کا سینہ پھاڑ کر نکلے گا اور تناور درخت بنے گا، جیسے شیشم کا بیج درخت بنتا ہے۔ فیصلہ ہو کر رہے گا کہ کراچی میں ظلم کی جیت ہوتی ہے یا امن کی۔ آج نہیں تو کل ظلم کی سیاہ رات امن کے سویرے سے مات کھا کر رہے گی۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ ظلم اور خوف سے اس شہر کا امن تباہ کرتے رہیں گے، ان کی مکروہ خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ ساحر لدھیانوی یاد آ رہے ہیں:

ظلم کا سینہ چیر کے دیکھو ، جھانک رہا ہے نیا سویرا

ڈھلتا سورج مجبور سہی ، چڑھتا سورج مجبور نہیں

لُوٹ پہ کب تک پہرہ دیں گی زنگ لگی خونیں شمشیریں

رہ نہیں سکتا اس دنیا میں جو سب کو منظور نہیں

روشنیوں کا شہر ہی صرف اندھیرے میں نہیں ڈُوبا، خوف کی تاریکی نے انسانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سب جانتے ہیں، مگر بولتا کوئی نہیں کہ اصل کہانی کیا ہے۔ چار سُو پھیلی تاریکی ہی تاریکی، خوف ہی خوف ، اے کراچی تیری رنگینیوں کو کس کی نظر لگ گئی کہ تیری داستان کربلا سنانے والا کوئی نہیں، تیری شام غریباں پر ماتم زدہ کوئی نہیں، شہر چراغاں سے شہرپُر آشوب بننے پر کوئی آبدیدہ نہیں۔ محترم عطاءالحق قاسمی نے اس شعر میں یہی المناک منظر سمو دیا:

اپنے گھر کے تاریک گھروندے سے نکل کر کوئی

کاش ! اس شہر چراغاں کی کہانی لکھے

کراچی ایک عرصے سے جل رہا ہے، لیکن پچھلے چند ماہ سے جو بدامنی کی لہر آئی ہے، اس نے اس کے باسیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جو پورے ملک کے غریب لوگوں کے لئے شہر پناہ تھا، وہ شہر جفا بن چُکا کہ لوگ اپنی زندگیاں بچانے کے لئے اسے چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ شہزاد نیئر کہتا ہے:

ایسی بستی میں کیا کریں کہ جہاں

دن نکلتے ہی شام ہو جائے

حالات کا جبر دیکھئے کہ کراچی پر پچھلی دو دہائیوں سے حکومت کرتی ایم کیو ایم بھی آخر چیخ اٹھی کہ کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ یہ مطالبہ ہے یا خواہش ؟....کہ ایم کیو ایم چند دن اقتدار سے باہر رہ کر اس مچھلی کی طرح تڑپنے لگی، جسے مگرمچھوں نے اپنی انا کی تسکین کے لئے دریا سے نکال کر ساحل پر پھینک دیا ہو اور اس کی تڑپ سے محظوظ ہو رہے ہوں۔ ایم کیو ایم کا کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کسی بھی طرح ایک دانشمندانہ مطالبہ نہیں کہا جا سکتا کہ فوج کا کام زمین فتح کرنا ہوتا ہے، انتظامی معاملات درست کرنا نہیں۔ یہ دنیا کے ہر مہذب ملک میں پولیس کا کام ہوتا ہے۔ کراچی کی بدانتظامی کا علاج کیا فوج کے پاس ہے؟.... پاکستان میں کتنے ایسے علاقے ہیں، جہاں ہم فوج کے ذریعے انتظامی معاملات درست کرنے کے ناکام تجربے کر چکے ہیں۔ آج کے بگاڑ کی اصل جڑ ہی آمریت کے ادوار ہیں، جن میں نفرتوں، عصبیتوں اور لسانیت کے زہر کو پھیلایا گیا۔ کراچی کے حالات کی درستگی کے لئے قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، جسے پولیس نافذ کر سکتی ہے، مگر پولیس؟.... سیاسی جماعتوں کے گماشتوں کو کالی وردی پہنا کر قانون کی حکمرانی ممکن نہیں ہوتی۔ پولیس کی کراچی بھر میں اوور ہالنگ کی ضرورت ہے، خالصتاً میرٹ پر پولیس کی بھرتی کی جائے اور انہیں سیاسی دباو¿ سے آزاد فیصلوں کا اختیار دیا جائے، پھر دیکھئے امن کی فصل کس قدر جلد پورے کراچی کی لہو رستی زمین پر اپنا وجود منواتی ہے۔ ایم کیو ایم کی کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کی تجویز عملی طور پر درست ہے، نہ منطقی طور پر اور نہ ہی تاریخی حقائق کی روشنی میں کوئی باشعور شخص اس کی تائید کر سکتا ہے۔ ٹانگ سے پھوڑا کاٹنے کی بجائے کہیں ٹانگ ہی نہ کٹوانا پڑ جائے کہ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا عمل پورے ملک میں امن کے نفاذ کا جواز بن کر آمریت کے سائے پھیلانے کا بہانہ نہ بن جائے۔ بڑا ہی بچگانہ اور غیر دانشمندانہ مطالبہ ہے۔ شہزاد نیئر کا ایک شعر زبان پر آگیا ہے:

بخیہ گری کے شوق میں مجھ سے بڑی خطا ہوئی

چاکِ جنوں کے ساتھ ہی چاکِ خرد بھی سِل گیا

ایم کیو ایم کو اپنے مطالبے کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ لگتا ہے کہ اس مطالبے پر مشاورت نہیں کی گئی، کیسے ممکن ہے کہ ایک سیاسی جماعت جو ماضی میں کراچی کے حوالے سے فوج کے اختیارات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہو، وہ خود اس قسم کے مطالبے کرنے لگے۔ ایم کیو ایم سنجیدگی سے اپنے مطالبے پر غور و خوض کرے ،ایک سیاسی جماعت کو اس قسم کا مطالبہ کرنا چاہئے؟ ایسا نہ ہو کہ کل کو فوج آنے پر ایم کیو ایم اپنے مطالبے پر پچھتا رہی ہو اور نوشی گیلانی کے اس شعر کی تصویر بن جائے۔

ہونٹ پیاسے رہے، حوصلے تھک گئے، عمر صحرا ہوئی

ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں

دنیا کے کس خطے میں آج تک افواج نے انتظامی امور انجام دے کر وہاں امن قائم کیا؟ کتنے ایسے ممالک اور شہر ہیں، جنہیں فوج کے حوالے کر کے قانون کی عمل داری کو لاگو کرنا ممکن ہوا۔ یہ سراسر پولیس کی ذمہ داری ہے کہ فوج کی ایسی کوئی تربیت نہیں ہوتی۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری پولیس پر ہوتی ہے، مگر پولیس ہونی اصل چاہئے.... کیا ایم کیو ایم اس بات کا جواب دے گی کہ پچھلی دو دہائیوں سے کراچی پولیس کے تھانیدار کس نے بھرتی کئے اور کس کی سفارش پر یہ لوگ نوکریاں حاصل کر سکے۔ ان کی صلاحیتوں کا کون سا معیار دیکھا گیا۔ ایم کیو ایم پولیس سے کیوں مطالبہ نہیں کرتی کہ شہر میں امن قائم کرے۔ سکایٹ لینڈ یارڈ آج اگر دنیا کی بہترین پولیس مانی جاتی ہے اور لندن پُرامن شہر کہ جہاں ہمارے لیڈر گھر خرید کر رہنا نعمت سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے ۔ کیا لندن کسی دوسری دنیا کے حصے کا نام ہے یا سکاٹ لینڈ یارڈ کے لوگ کوئی خلائی مخلوق ہیں، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں کی پولیس حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہوتی ہے، وہاں کا تھانیدار سیاسی جماعتوں کا ممبر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی پہلی و آخری وابستگی قانون کے نفاذ سے ہوتی ہے۔

کراچی کا امن واپس لانے میں اگر ایم کیو ایم اور دوسری جماعتیں سنجیدہ ہیں، تو انہیں مل بیٹھ کر ایک جامع پلان بنانا ہوگا، جس میں پولیس پر سیاسی جماعتوں کا دباو¿ ختم کیا جائے۔ پولیس کی مکمل اوور ہالنگ کی جائے اور میرٹ پر پولیس اہلکار بھرتی کر کے انہیں قانون کی حکمرانی کے لئے مکمل آئینی اختیارات دے دئیے جائیں۔ دیکھئے پھر کراچی کی روشنیاں کتنی جلدی واپس لوٹتی ہیں اور پولیس کیسے جرائم پیشہ لوگوں کا ناطقہ بند کرتی ہے، جس کی ساری تفصیل خفیہ ایجنسیاں سپریم کورٹ میں جمع کرا چُکیں۔ قانون پر عملدرآمد صرف پولیس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آنکھ کے آپریشن کے لئے گردے کے ڈاکٹر سے آپریشن کا مطالبہ کیا جائے.... ”جس کا کام اسی کو ساجھے“.... پولیس کو سیاسی دباو¿ سے آزاد کیا جائے تو امن و امان ممکن ہے۔ فوج کو کبھی بھی اپنے شہروں میں بلانے کا مطالبہ کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ فوج کی لڑائی دشمن سے ہوتی ہے۔ فوج کا مقابل دشمن ہوتا ، جبکہ شہری فوج کے فطری حلیف ہوتے ہیں۔ فوج کے پیچھے دوسری دفاعی لائن شہریوں کی ہوتی ہے۔ اسے کمزور کرنا یا گرانا سراسر حماقت ہے۔ دونوں کو ہرگز ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہیں آنے دینا چاہئے۔ اس میں دونوں کے جذبوں کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

کراچی کو اس کی روشنی واپس دلانے کے لئے سب سیاسی جماعتوں کو مل کر لائحہ عمل بنانا ہوگا، جب تک سیاسی جماعتیں یہ عہد نہیں کر لیتیں کہ کراچی میں پولیس کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہو کر کام کرنے دیا جائے، کراچی میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ آج کراچی کا ہر شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ کراچی کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو بدامنی اور لاقانونیت کا شکار نہ ہو۔ روشنیوں، امیدوں، روزگار، تمام قومیتوں کے لوگوں کا مسکن ”منی پاکستان“ کے درو دیوار اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں سے شکوہ کر رہے ہیں کہ شہرِ وفا کا اصل حسن واپس لوٹادیں:

ہر ایک دیوار ہے ، دیوارِ گریہ

اسی کا نام کیا شہر وفا ہے

ظلم مٹنے کے لئے ہے اور مٹ کر رہے گا۔ امن کا بیج خود بخود ظلم کی دھرتی کا سینہ پھاڑ کر نکلے گا اور تناور درخت بنے گا، جیسے شیشم کا بیج درخت بنتا ہے۔    ٭

مزید : کالم