”امریکی بلیک بجٹ“ یا بہتی گنگا؟

”امریکی بلیک بجٹ“ یا بہتی گنگا؟
”امریکی بلیک بجٹ“ یا بہتی گنگا؟

  

سنوڈن کے افشا کردہ رازوں میں سے ایک راز یہ کھلا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا بجٹ جسے ”بلیک بجٹ“ کہا جاتا ہے ، وہ سامنے آ گیا ہے۔ 1452 صفحات کی بجٹ دستاویز کے مطابق نائن الیون کے بعد امریکہ کے محکمہ جاسوسی کا بجٹ دو گنا بڑھ گیا ہے۔ اس پر مجھے بے ساختہ وہ لاف زن یاد آیا، جو باپ کے مرنے پر تعزیت کے لئے آنے والوں کو بار بار بتا رہا تھا کہ تجہیز و تکفین پر بھاری خرچ اٹھا ہے اور ایک من تو صرف دیسی گھی خرچ ہو گیا ہے۔ مجلس میں موجود میراثی سے رہا نہ جا سکا، ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، حضور! کیا آپ نے اپنے والد کو دیسی گھی میں تل کر دفن کیا تھا؟

پاکستان میں صرف یہ خبر دی گئی ہے کہ اس بجٹ کے اخراجات میں اسامہ بن لادن کی نعش کا ڈی این اے کرانے کے اخراجات بھی شامل ہیں اور ڈی این اے کے نتیجے میں ثابت ہو گیا تھا کہ نعش اسامہ بن لادن کی تھی۔ اس میں تو شاید کسی کو کوئی شک نہیں ہوگا کہ نعش بلا شبہ اسامہ بن لادن ہی کی تھی، لیکن اس سلسلے میں سی آئی اے کے ترک نژاد اہلکار برکان یاشر کا روسی ٹی وی چینل نمبر ایک سے انٹرویو اب بھی حرف آخر ہے، جس کے مطابق اسامہ بن لادن اس کے سامنے طبعی موت مَرا تھا اور اس کو خفیہ طور پر دفنانے والے چار لوگ تھے، جن میں ایک فرد سمیع کا برکان یاشر سے بہت عرصے تک رابطہ رہا۔ برکان یاشر کے مطابق آخری بار سمیع کا فون پاکستان سے آیا تھا، جس کے بعد برکان کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اسے اغوا کر لیا.... (جیسے بہت سے دیگر لوگوں کو اغوا کیا گیا، یا پرویز مشرف نے انہیں پکڑ کر امریکہ سے ڈالر وصول کر لئے) ....برکان یاشر کو یقین ہے کہ امریکیوں نے سمیع پر تشدد کر کے اسامہ بن لادن کی لاش دریافت کر لی، لیکن ظاہر ہے کہ تشدد کے ذریعے سمیع سے حاصل ہونے والی معلومات پر امریکی کیوں کر اعتبار کر سکتے تھے، اس کے لئے انہیں ایبٹ آباد کا ڈرامہ رچا کر نعش کی شناخت کے لئے ڈی این اے کرانا پڑا۔

 سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان میں قائم ڈی این اے لیب امریکی لیبارٹریوں سے زیادہ جدید اور بہتر تھی۔ آخر افغانستان میں ڈی این اے کرانے کو کیوں ترجیح دی گئی،جبکہ امریکہ میں زیادہ بہتر اور تفصیلی ڈی این اے ہو سکتا تھا۔ اس کا ایک ہی ممکنہ جواب ہے کہ اگر ڈی این اے امریکہ میں کرایا جاتا، تو کوئی سنوڈن نعش کے پرانا ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیتا۔ افغانستان میں کرائے گئے ڈی این اے کا ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد ریکارڈ تک نہ ملے۔ لاش سمندر برد ہو گئی، ڈی این اے افغانستان میں رہ گیا.... بہرحال اصل قصہ یہ ڈی این اے نہیں ہے، بلکہ وہ بھاری اخراجات ہیں،جو امریکی خفیہ ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ امریکی اور برطانوی میڈیا نے اس پر زیادہ توجہ دی ہے۔ 2013ءکے اخراجات کے لئے امریکہ کی سولہ خفیہ ایجنسیوں نے52.6بلین ڈالر طلب کئے تھے،جس میں سب سے بڑا حصہ سی آئی اے کو14.7بلین ڈالر ملے۔ امریکی عوام اور دُنیا بھر کی جاسوسی میں ملوث این ایس اے کے حصے میں 10.45 بلین ڈالرآئے۔ بجٹ کے مطابق3.7بلین ڈالر کاﺅنٹر انٹیلی جنس کی مد میں ظاہر کئے گئے ہیں، یعنی اپنی صفوں میں موجود سنوڈن جیسے لوگوں کا پتہ چلانے کے لئے اپنے ہی جاسوسی اداروں کے40ہزار اہلکاروں کی نگرانی کی گئی اور سنوڈن پھر نکل گیا۔

ان خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تعداد ماشاءاللہ ایک لاکھ سات ہزار پینتیس ہے، جن کی تنخواہوں کی مد میں62.3 بلین ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ امریکہ کے ہر شعبے میں رائج ٹھیکیداری نظام کے مطابق سنوڈن جیسے اہلکاروں کی تعداد 21 ہزار سات سو چون ہے، جن کو 5 بلین ڈالر ادا کئے گئے۔ بجٹ کے ابتدایئے میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلپر نے دعویٰ کیا ہے کہ اخراجات بدستور کم کئے جا رہے ہیں۔کلپر نے روس، چین، ایران، کیوبا اور اپنے پیارے اسرائیل میں جاسوسی کی کارروائیوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان ممالک کے جاسوسی کے اداروں میں گھس کر کاﺅنٹر انٹیلی جنس کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ چین اور روس کے بارے میں حاصل کردہ معلومات میں بہت بڑے خلا کا اعتراف بھی کیا گیا ہے اور شمالی کوریا میں مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ وہاں انٹرنیٹ اور جدید مواصلات موجود نہیں ہیں۔

پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کلپر اسے Troublesomeحلیف کہتا ہے اور اس کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایک Intracable ٹارگٹ ہے۔ ان ایجنسیوں میں دوسری زبانوں کے ماہرین کے بارے میں لکھا ہے کہ سپینش زبان بولنے والے تین ہزار ہیں (امریکہ میں سپینش بولنے والے سب سے زیادہ تعداد میں ہیں) عربی بولنے والے 1100، چینی زبان بولنے والے900اور اُردو اور پشتو بولنے والے گنے چنے ہیں۔ امریکی ادارے امریکی عوام کے ٹیکسوں کی کمائی کو بے دردی سے اڑانے میں اپنی مثال نہیں رکھتے، لیکن خصوصی طور پر سیکیورٹی ادارے اس سلسلے میں سب سے آگے ہیں۔ خوف کی فضا پیدا کر کے اور اپنی مصنوعی کارکردگی کے ڈرامے رچا کر یہ زیادہ سے زیادہ بجٹ کے حصول کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد صدر بش نے اندرونی سیکیورٹی کے لئے کئی اداروں کو جذب کر کے ایک نیا ادارہ ہوم لینڈ سیکیورٹی قائم کیا۔ امیگریشن کو بھی اسی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ اس ادارے کو امریکی آئین سے متجاوز اختیارات دیئے گئے ہیں،جنگ کا اس کے فرائض سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اس ادارے نے2012ءمیں اپنے لئے عام قسم کے3لاکھ60 ہزار راﺅنڈ اور کھوکھلی نوک والی گولیاں ڈیڑھ بلین(1.5 بلین) کی تعداد میں خریدیں۔

حکومتی احتساب کے ادارے کے سربراہ چک ینگ کے مطابق اس معاملے کی تحقیق کی جا رہی ہے۔ نیو یارک میں خطرے کا ہوا کھڑا کر کے بھاری بجٹ اور مرکز سے بھاری امداد طلب کی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد مساجد کی نگرانی، راستے میں ٹریفک روک کر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو (سیاہ فاموں، سپینشوں، عربوں، چینی، کورین، پاکستانی اور بھارتیوں کو) روک کر انہیں دیوار کے ساتھ لگا کر اُن کی جامہ تلاشی لینا اور گاڑیوں کی تلاشی کو اگرچہ میئر بلوم برگ اور پولیس کمشنر کیلی دہشت گردی کے امکانات کو رفع کرنے کا نام دیتے ہیں، لیکن یہ بھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے زیادہ بجٹ حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مساجد کی نگرانی کے خلاف ایک مسلمان تنظیم نے مقدمہ دائرر رکھا ہے، جبکہ جامہ تلاشی کے خلاف فیڈرل عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں کافی عرصہ پہلے پیش ہونے والے بل کو میئر نے ویٹو کر دیا۔ سٹی کونسل نے اس بل کو دوبارہ پاس کر کے میٹر کے ویٹو کو بے اثر کر دیا ہے۔ اب میئر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

گزشتہ بجٹ میں ایف بی آئی نے بھاری بجٹ کا تقاضا کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دہشت گردی کی 25وارداتیں ناکام بنائی ہیں، جس پر فاکس نیوز چینل نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ان25میں سے 16یا 18 خود ایف بی آئی کی سٹیج کی ہوئی وارداتیں تھیں۔ ایف بی آئی نے خود ان کا تانا بانا بنا اور آخر میں کارروائی ڈال کر اسے ناکام بنانے کا ڈرامہ کیا، حالانکہ اس میں نہ تو دہشت گرد اصلی دہشت گرد تھے، نہ انہیں ایف بی آئی نے اصلی اسلحہ اور بم فراہم کئے تھے، اس لئے حقیقی خطرہ تو تھا ہی نہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پہلے امریکہ منشیات کے خلاف بھی ایک جنگ لڑ چکا ہے۔ اس وقت کولمبیا کے دو بھائیوں روڈریگویز برادرز کو پکڑنے کے لئے جاسوسی اداروں نے کئی سال پر مشتمل کارروائی کی اور ان اداروں کے اہلکار ان منشیات فروشوں کو پکڑنے کے نام پر سرکاری خرچ پر اٹلی میں عالمی فٹ بال میچ دیکھتے رہے کہ یہاں شاید روڈریگویز برادران میچ دیکھنے کے لئے آ جائیں، تو انہیں پکڑ لیا جائے۔

2009ءمیں صدر بش کے دور میں دہشت گردی کا خوف پھیلانے کے ساتھ ساتھ سوائن فلو کا خوف پھیلا دیا گیا۔ امریکہ کے ایک سرکاری محکمے سی ڈی سی Center for Disease Control کی ویب سائٹ پر اب بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عام نزلہ زکام سے ہر سال 30سے40ہزار امریکی مر جاتے ہیں، سوائن فلو سے اس تعداد کا صرف ایک فیصد موت کا شکار ہوئے۔ بعد میں اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ¿ صحت( ڈبلیو ایچ او )نے بھی کہہ دیا کہ سوائن فلو کے بارے میں مبالغہ آرائی کی گئی تھی، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن صدر بش نے سوائن فلو کے نام پر وبائی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ سوائن فلو کی ویکسینTamiflu کا لگوانا قانونی طور پر لازمی قرار دے دیا گیا۔ باہر سے امریکہ میں داخل ہونے والوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا حکم جاری ہو گیا اور تین بلین ڈالر ویکسین پر خرچ کر دیئے گئے۔

یہ ویکسینGildea Scienceکی دریافت ہے، جس نے ویکسین کی مارکیٹنگ کے جملہ حقوق سوئس دوا ساز ادارے ”روش“ کو فروخت کر دیئے ہیں۔ بش حکومت کے وزیر دفاع جیمز رمز فیلڈ1987ءسے Gildeaکے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔1997ءمیں Gildea کے چیئرمین ہو گئے، اس کمپنی میں بہت بڑے حصے کے مالک بھی ہیں۔ صدر بش نے ویکسین Tamiflu کی 80ملین خوراکیں خریدنے کا حکم دے دیا او اس کی جینرک قسم پر پابندی لگا دی۔ ایک خوراک 100ڈالر کے حساب سے20ملین خوراکیں فوراً خرید لی گئیں۔ مجموعی طور پر اس کھاتے میں تین بلین ڈالر خرچ کر ڈالے گئے۔ صدر باراک اوباما برسر اقتدار آئے تو اس پروگرام کو بند کر دیا، لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ یہ امریکی این آر او ہے۔

اس سے قبل مَیں ایک کالم میں رمز فیلڈ کی مصنوعی سیٹھے سپارٹیم کو منظور کرانے کے بارے میں لکھ چکا ہوں کہ کیسےGD Searleکی اس دریافت کو چوہوں پر آزمایا گیا، تو پتہ چلا کہ اس سے کینسر پیدا ہونے کے امکان بہت وا ضح ہیں۔ سرل کو محکمہ صحت سے سپارٹیم کو منظور کرانے کے لئے بہت مشکلات پیش آئیں۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ المختصر سرل نے رمز فیلڈ کو اپنی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کر لیا، جب رمز فیلڈ چیف آف سٹاف کی حیثیت سے وائٹ ہاﺅس میں پہنچے تو انہوں نے منظوری دینے والے ادارے میں اپنے آدمی شامل کرا کے سپارٹیم کو استعمال کے قابل قرار دلوا دیا۔

عراق پرحملے کے بعد وہاں بحالی اور ترقیاتی کاموں کے لئے صدر بش نے جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے، ان میں نائب صدر ڈک چینی اور وزیر دفاع رمز فیلڈ حصے دار تھے۔ ان ٹھیکوں کے لئے ٹینڈر طلب نہیں کئے گئے۔ دوران جنگ صدر کو حاصل خصوصی اختیارات کے تحت یہ ٹھیکے دے دیئے گئے، جب میڈیا میں شور مچا تو صدر کے خصوصی اختیارات کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ اگر ٹینڈر بھی طلب کئے جاتے، تو ان کمپنیوں کے علاوہ کسی کو ٹھیکے نہیں مل سکتے تھے، کیونکہ ان کاموں کے لئے یہی کمپنیاں معیار پر پوری اترتی تھیں۔ بش انتظامیہ نے اس وقت ایسی فضا پیدا کر دی تھی کہ جنگ کے خلاف کوئی لفظ بولنا غداری کا الزام لگوانا تھا۔ جو جنگ کی مخالفت کر رہے تھے انہیں گالیاں پڑ رہی تھیں۔ ڈیمو کریٹ بھی اسے قانونی غلط بخشی قرار دے کر چپ ہو رہے، یہی وجہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں ایل گور بھی ہار گئے اور کیری بھی ہار گیا، دونوں نے بش انتظامیہ کا ساتھ دیا تھا۔

مالی گھپلوں یا شاہ خرچیوں کا یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک جاری ہے۔ نیو یارک میں تین بارو کو ملانے والے Triboro پُل کا نام صدرکینیڈی کے نام پر رکھنے پر چار ملین ڈالر کا خرچ آیا۔ یہ خرچ صرف سائینز بدلنے کا تھا، جہاں ایک پُل کا نام تبدیل کرنے پر چار ملین ڈالر خرچ ہو سکتا ہے، و ہاں16خفیہ ایجنسیاں مل کر ساڑھے باون ارب ڈالر خرچ کر ڈالیں، تو جیمز کلپر کی بات ماننا پڑے گی کہ اخراجات ہر سال کم کئے جا رہے ہیں۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم