عوام کو زندہ لاش نہ بنائیں

عوام کو زندہ لاش نہ بنائیں
عوام کو زندہ لاش نہ بنائیں

  

 لکھنا تو مَیں امریکی صدر باراک اوباما کے جنگی جنون پر چاہتا تھا، جو شام پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، لیکن پھر سوچا کہ پہلے اپنے ملک کے حالات تو دیکھو، جہاں مخلوقِ خدا کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ہاتھوں زندہ دفن ہونے والی پاکستانی معیشت نے ملک کی 80 فیصد آبادی کو زندہ در گور کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرطیں تو سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم عملی صورت میں عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ جان لیوا شرائط کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ تین ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیسری بار بڑھائی گئی ہیں۔ اضافہ بھی کوئی معمولی نہیں کیا گیا۔ پچھلے دور میں ایسے اضافوں پر سوموٹو ایکشن لینے والی اعلیٰ عدلیہ بھی اب خاموش ہے اور عوامی نمائندوں کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ رہی اپوزیشن تو وہ اپنے مسائل میں اُلجھی ہوئی ہے۔ عمران خان اگر دھاندلی کے مسئلے پر ساری توجہ مرکوز کرنے کی بجائے عوام پر کئے جانے والی معاشی ڈرون حملوں کو اپنا ہدف بنائیں تو اُن کے سونامی میں پہلے سے زیادہ جان پڑسکتی ہے۔ حیرت ہے کہ محمد نواز شریف جیسے جہاں دیدہ اور تجربہ کار منتظم سے حالات کی سنگینی اوجھل کیوں ہے۔ کیا سوچ کر انہوں نے بے تدبیر معاشی پالیسیوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ پاکستان کے عوام غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں کس عذاب سے گزر رہے ہیں؟ اُن سے زیادہ یہ بات کون جانتا ہے کہ اگر عوام خوش نہ ہوں تو بھاری مینڈیٹ کام آتا ہے اور نہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے اپنے وفادار لوگ، پھر توجو بھی ہوتا ہے عوام تالیاں بھی بجاتے ہیں اور مٹھائیاں بھی بانٹتے ہیں۔

کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ موجودہ حکومت کو حالات کی سنگینی کا علم نہیں تھا۔ مسلم لیگ (ن) خود پنجاب میں برسرِ اقتدار تھی اور سب کچھ سامنے ہو رہا تھا کہ وفاقی حکومت کس طرح معیشت کو کھوکھلا کر رہی تھی، جس بات نے موجودہ حکومت کو صرف تین ماہ کے عرصے میں غیر مقبول بنا دیا ہے، وہ اُس میں ناپیدا وژن ہے۔ حکومت کو کچھ علم ہی نہیں کہ حالات سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے؟ وزیراعظم محمد نواز شریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں جو کچھ بھی کہا، وہ خواہشات کے زمرے میں آتا ہے۔ ان خواہشات کو عملی جامہ کیسے پہنانا ہے۔ اس بارے میں اُن کے پاس کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔ بڑے بڑے معاشی دعووں کے برعکس اگر حکومت چند عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو ایک سمت میں ڈال دیتی تو یہ کہیں بہتر ہوتا ۔ انتخابات میں پیش کئے جانے والے منشور میں دعوے تو بہت کئے گئے تھے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی بات بھی کی گئی تھی، مگر اس ضمن میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا اور گھوم پھر کر نزلہ غریب عوام پر ہی گرایا جا رہا ہے۔

 جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ ہو یا پٹرولیم و بجلی کی قیمتوں میں عوام دشمن ردوبدل ، سب اقدامات ایک روایتی اقتصادی پالیسی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسا تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور تاریخ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے معیشت کبھی بہتر نہیں ہو سکتی۔ اقتصادی ترقی کا ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ عوام کی قوت خرید بڑھائی جائے، کیونکہ جب تک عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا، معیشت کا پہیہ چل ہی نہیں سکتا، جبکہ آئی ایم ایف کی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ عام آدمی کو کوئی ریلیف نہ دیا جائے۔ اُنہیں سرمایہ دارانہ نظام سے غرض ہے، فلاحی نظام سے نہیں۔ جس طرح ایک بنئے کی سوچ صرف دولت کے ارتکاز تک محدود ہوتی ہے، اُسی طرح آئی ایم ایف بھی صرف اپنے مفادات کو دیکھتا ہے۔ جس طرح کی تابعداری موجودہ حکومت کر رہی ہے، ایسی تو غیر جمہوری حکمرانوں نے بھی نہیں کی۔ اس پہلو پر سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی جا رہی کہ عوام پر جو بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وہ اس کی سکت بھی رکھتے ہیں؟

دو ایسی خبریں میری نظروں سے گزری ہیں کہ مَیں سر پیٹ کے رہ گیا ہوں۔ کیا اس قسم کی ترجیحات سے معاشرے کو زندہ رکھا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نجانے کون دے گا؟.... اس وقت معاشرے کو بھوک اور خوف نے گھیر رکھا ہے۔ حکمرانوں کی سب سے پہلی ترجیح ان دونوں کا خاتمہ ہو نا چاہئے۔ ان دونوں کو تو قرآن مجید میں بھی بہت بڑی آزمائش قرار دے کر ان سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے، مگر افسوس کہ ان دونوں کی طرف حکومتوں کی کوئی توجہ نہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ دہشت گردی سے پیدا ہونے والا خوف تو ایک بڑی سازش کا حصہ ہے، مگر یہ بھوک تو ہمارے حکمرانوں کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ اسے ختم کرنے کے لئے تو ترجیحات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے۔ مَیں نے جن دو خبروں کا ذکر کیا ہے، اُن میں پہلی خبر یہ ہے کہ پنجاب حکومت آٹے پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر رہی ہے، جس سے حکومت کو 14 ارب روپے کی بچت ہوگی، جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ پنجاب حکومت لاہور میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو ہر ماہ کروڑوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، کیونکہ مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی نسبت اخراجات کئی گنا زیادہ ہیں۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مَیں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ آج آٹے کے نرخ پچاس روپے کلو گرام تک پہنچ گئے ہیں۔ سبسڈی ختم کر کے آٹا مہنگے داموں فلور ملز کو فراہم کیا گیا تو شاید ستر روپے کلو گرام بکے۔ اب آپ سوچئے کہ غریبوں کو صرف روٹی ہی ملتی ہے۔ اگر وہ بھی اُن کی پہنچ سے باہر ہوگئی تو وہ جئیں گے کیسے؟ اگر کوئی چھوٹا گھرانہ2 کلو گرام آٹا روزانہ استعمال کرتا ہے تو اُس کا ماہوار خرچہ ساڑھے تین ہزار کے قریب پہنچ جائے گا۔ کم از کم اُجرت10 ہزار کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ اگر صرف آٹے کی مد میں ساڑھے تین ہزار روپے خرچ ہوگئے تو باقی رقم سے وہ پورا مہینہ کیسے گزارا کرے گا؟ بجلی کا بل ہی اس کے ہوش ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ باقی اخراجات کی تو بات ہی کیا ہے۔

جس ملک کی معیشت کا یہ حال ہو کہ عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ایک عذاب سے گزرتے ہوں، کیا وہاں میٹرو بس یا بُلٹ ٹرین جیسے منصوبوں کی فوری ضرورت ہے؟ جب چادر چھوٹی ہو تو اصل ذہانت یہ ہے کہ پاو¿ں اُسے دیکھ کر پھیلائے جائیں۔ حیرت ہے کہ اپنے پچھلے دورِ حکومت میں سستی روٹی دینے والی حکومت اب مہنگی روٹی دینے کے اسباب پیدا کر رہی ہے۔ آٹے پر سبسڈی واپس لے کر14 ارب روپے کی بچت کا سوچنے والے یہ بھی سوچیں کہ کیا عوام کو زندہ لاشیں بنا کر بچت کے منصوبے ملک و قوم کے لئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں؟....”روٹی نہ ملے تو ڈبل روٹی کھا لو“ والی سوچ احمقانہ ہے۔ میٹرو بس پر چاہے پورا لاہور بھی روزانہ سفر کرے، ترجیح پھر بھی یہ ہونی چاہئے کہ سب سے پہلے عوام کو پیٹ بھر کر کھانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

 حضرت عمرؓ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر کسی کو مکہ سے مدینے جانے کے لئے اونٹ کی سواری نہ ملی تو اللہ مجھ سے باز پُرس کرے گا، بلکہ یہ کہا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کُتا بھی بھوک سے مرا تو عمر کو آخرت میں جواب دینا پڑے گا۔ گویا سب سے اہم بات بھوک کا تدارک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلاحی معاشروں میں سب سے پہلے خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہانے کا عمل جاری ہے۔ آٹے پر سبسڈی ختم کردو اور میٹرو بس کو سبسڈی دو۔ میٹرو بس کے تو بیسیوں متبادل ذرائع آمد و رفت موجود ہیں، بھوک مٹانے کا اور کوئی ذریعہ ہی نہیں، کسی شاعر نے کہا تھا کہ” بھوک بڑھتی ہے تو تخریب جنم لیتی ہے“.... اس بھوک کو ختم کرنے کی بجائے جب بھوکوں کو ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی تو معاشرہ کیونکر انتشار کا شکار نہیں ہوگا؟

موجودہ حکومتیں پانچ برسوں کے لئے منتخب ہوئی ہیں اور اُنہیں اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہئے، مگر اس خواہش کو عملی جامہ اُسی صورت میں پہنایا جاسکتا ہے ، جب فیصلے کرتے ہوئے عوام کی حالت اور زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے۔ وفاقی حکومت کی اقتصادی پالیسی ابتدا ہی میں سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اس کی سمت اگر درست نہ کی گئی اور آمدنی بڑھانے کے روایتی طریقے ہی اختیار کئے گئے تو نہ صرف عوام کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی، بلکہ سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقتصادی منیجروں کو یہ حقیقت پلے باندھ لینی چاہئے کہ ابھی عوام کے معاشی حالات اس قدر بہتر نہیں ہوئے کہ تمام سبسڈیز کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ آئی ایم ایف کا ایجنڈا ہے کہ عوام کو تمام رعایتوں سے محروم کر دیا جائے تاکہ پاکستان میں بے چینی اور بے یقینی موجود رہے اور حکومتوں کو کمزور رکھ کر امریکہ اور امریکی مفادات کے لئے من مانے فیصلہ کرائے جا سکیں۔ کہتے ہیں کہ جمہوری حکومتوں کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے، مگر یہاں جمہوری حکومت عوام سے بالکل لا تعلق نظر آتی ہے، جبھی تو ایک جاں بہ لب مریض کے چہرے سے آکسیجن تک ہٹانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔   ٭

مزید : کالم