کیا پی ٹی آئی کے پاس غلطی کی گنجائش ہے؟

کیا پی ٹی آئی کے پاس غلطی کی گنجائش ہے؟
کیا پی ٹی آئی کے پاس غلطی کی گنجائش ہے؟

  

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان گزشتہ17 سال سے ملک میں تبدیلی لانے کی باتیں تسلسل سے کر رہے تھے، لیکن عوام نے اُن کی باتوں پر زیادہ یقین نہ کیا۔ پہلی بار 2002ءکے عام انتخابات میں وہ میانوالی سے ایم این اے منتخب ہوگئے، لیکن جلد ہی وہ اس سیٹ سے مستعفی ہوگئے۔ 2008ءکے عام انتخابات کا انہوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ 2013ءکے عام انتخابات میں اُنہوں نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا۔ اس بار وہ پنڈی، پشاور اور میانوالی کے تین حلقوں سے ایم این اے منتخب ہوگئے۔ راولپنڈی والی سیٹ انہوں نے اپنے پاس رکھی ۔ باقی دو نشستوں سے وہ مستعفی ہوگئے جو 22 اگست کے ضمنی الیکشن میں اے این پیNA1 پشاور اور NA71 میانوالی مسلم لیگ(ن)لے گئی جو عمران خان اور پی ٹی آئی کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ پی ٹی آئی کے ضمنی الیکشن کی اس شکست کو کچھ لوگ پی ٹی آئی پر ووٹروں کا عدم اعتماد سمجھ رہے ہیں، لیکن شاید عدم اعتماد تو فی الحال نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کے لئے ایک انتباہ کال ضرور ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس شاید غلطی کی مزید گنجائش نہیں ہے، بلکہ اُنہیں اپنی سابقہ غلطیوں کی فوری اصلاح کرنی چاہئے۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کو عروج 31اکتوبر 2011ءکے لاہور کے جلسہ عام سے حاصل ہوا، جس کے بعد لوگ جوق در جوق اس پارٹی میں شامل ہونا شروع ہوئے۔ خاص طورپر نوجوان طبقہ اس پارٹی کو اپنا مستقبل سمجھ کر شامل ہو رہا تھا۔ نوجوانوں کے علاوہ ملک کی پہلے سے آزمائی ہوئی پارٹیوں کے بہت سے لیڈر بھی دھڑا دھڑ اس پارٹی میں شامل ہونا شروع ہوگئے، جس پر میڈیا میں بہت شور ہوا کہ یہ لوگ شاید کسی ایجنسی کے کہنے پر پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ یہ آزمائے ہوئے لوگ کیا عمران خان کے ایجنڈے سے اتفاق کریں گے، کیونکہ یہ سارے تو سٹیٹس کو قائم رکھنے والے ہیں اور عمران خان تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ یہ متضاد نظریے کے لوگ ایک ساتھ کیسے چلیں گے۔ اس موقع پر عمران خان یہ فرماتے رہے کہ مَیں کسی کو پارٹی میں آنے سے کیسے روک سکتا ہوں۔ بہرحال جب عام انتخابات کے لئے ٹکٹوں کااعلان کروں گا تو میری پالیسی واضح ہو جائے گی۔ عام انتخابات سے قبل ہی نئی اور پرانی قیادت میں پارٹی کے اندر رسہ کشی شروع ہوگئی، کیونکہ پرانی پارٹیوں سے آئے ہوئے نام نہاد قد کاٹھ والے پارٹی کے آگے آگے اور عمران خان کے دائیں، بائیں تھے، جو آج بھی ہر وقت ان کے دائیں، بائیں ہیں۔ اسی اثناءمیں پتہ نہیں کس ہو شیار اور چالاک شخص نے عمران خان کو بھی قائدانہ رسہ کشی کا علاج تجویز کیا کہ پارٹی کے اندر الیکشن کروا دئیے جائیں۔ اس پارٹی الیکشن کی وجہ سے پارٹی کا ایک قیمتی سال ضائع ہوگیا۔ بجائے عام انتخابات کے لئے کام کرنے کے پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار ہوگئی اور پارٹی کے اندر نہ ختم ہونے والے گروپ بن گئے، جس کا نقصان پارٹی نے 2013ءکے عام انتخابات میں اٹھایا۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پارٹی میں الیکشن پیسے کے زور پر ہوا اور پیسے والوں نے یونین کونسل سے لے کر مرکز تک پارٹی میں اپنا گروپ مضبوط کر لیا، جس کا مظاہرہ لاہور کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی صورت میں بھی سب کے سامنے ہوا ہے۔

جب عام انتخابات2013ءمیں پارٹی ٹکٹ کا مسئلہ آیا تو پھر وہی تمن دار ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے والوں میں موجود تھے۔ پارٹی ٹکٹ کس کو ملنا چاہئے، اُس کے لئے اصول واضح تھا(1)جیتنے والا(ELECTABLE) امیدوار ہو، چاہے اُس کا ماضی کیسا ہو(2)کروڑ پتی امیدوار ہونا چاہئے۔ ان دو اصولوں کے ہوتے ہوئے بھلا تبدیلی کیسے ممکن تھی اور 80 فیصد ٹکٹ ایسے لوگوں کے ہاتھ لگا جو ہمیشہ سے تبدیلی کے خلاف رہے اور ہر بار پارٹی بدل کر اقتدار میں رہنا جن کا اصول ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام انتخابات میں عمران خان صاحب کے فلسفے پر عام لوگ اعتراض کرتے رہے، لیکن عمران خان کے بقول الیکشن میں دھاندلی ہوئی.... یہ بھی کسی حد تک ٹھیک ہے۔ کچھ سیٹوں پر دھاندلی ہوئی، لیکن اصل دھاندلی تو پارٹی قیادت نے ٹکٹوں کی غلط تقسیم کے وقت خود شروع کی۔ اگر پی ٹی آئی قیادت ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت خود” سٹیٹس کو“ کی پارٹیوں سے آئے ہوئے لوگوں کو کم سے کم ٹکٹ دیتی۔ پارٹی کے اندرونی الیکشن میں ایک سال کا عرصہ ضائع نہ کرتی تو عام انتخابات میں شاید نتیجہ بہت مختلف ہوتا۔

بہرحال اب ضمنی الیکشن بھی مکمل ہوگئے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں بھی پی ٹی آئی دوسری بڑی جماعت رہی ہے۔ اچھے خاصے ووٹ ملے ہیں۔ ابھی تک عوام شاید پی ٹی آئی سے مایوس تو نہیں ہوئے ، مگر چوکنے اور ہوشیار ضرور ہوگئے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کی کارکردگی ووٹ بنک کی ضامن ہوگی۔ اب پی ٹی آئی صرف نعرے سے ووٹ بنک میں اضافہ نہیں کر سکے گی۔ اگلا ووٹ بنک صرف کارکردگی کی بنیاد پر ملے گا۔ اب پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے۔ پنجاب میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہے۔ مرکز میں اچھی نمائندگی ہے، انہیں اب کارکردگی دکھانی ہوگی اور عمران خان کو سب سے پہلے مندرجہ ذیل لوگوں سے ہوشیار رہنا پڑے گا۔

(1) جن لوگوں نے انہیں پارٹی کے اندر الیکشن کروانے کا غلط مشورہ دیا۔

(2)جن لوگوں نے غلط لوگوں کو ٹکٹ دلوائے۔

(3)جن لوگوں نے عمران خان کو اُن کی آبائی سیٹ این اے 71 چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

(4) جن لوگوں کے کہنے پر عمران خان نے چلے ہوئے پنڈی وال کارتوس کو ساتھ ملانے اور اسے پنڈی سے سیٹ دینے کا مشورہ دیا۔

(5)اعلیٰ عدالتوں کے چکروں اور پھڈوں سے باز رہیں۔

اب پی ٹی آئی کو دھاندلی، دھاندلی اور کرپشن، کرپشن کے نعروں سے باہر نکلنا ہوگا۔ عوام کے حقیقی مسائل.... لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، بے روزگاری، مہنگائی، لاقانونیت، کراچی بلوچستان اور باقی ملک میں قتل و غارت گری، عدم تحفظ، تعلیم و صحت کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔

18 ویں آئینی ترمیم کے بعد 75 فیصد وسائل اور مسائل صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ آپ کے پاس ایک صوبے کی مکمل حکومت ہے.... لیکن یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ جیل توڑ کر دہشت گرد باقی دہشت گردوں کو لے گئے۔ آپ کی حکومت کچھ نہ کر سکی۔ آپ خیبر پختونخوا کو رول ماڈل صوبہ بنائیں، یہ آپ کا امتحان ہے۔ خیبر پختونخوا میں گشتی انصاف عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان کو فوری ختم کر کے عام عدالتوں کو بہتر بنائیں۔ یہ نیا تجربہ کسی صورت کامیاب نہیں ہوگا۔ آپ کے صوبہ میں چھوٹے بڑے سارے دریا ہیں، اُن پر پن بجلی کے منصوبے شروع کروائیں، ڈیم بنائیں تاکہ سستی بجلی میسر ہو اور سیلاب سے بھی نجات ملے۔ صرف دھرنے، احتجاج اور اسمبلیوں کے اندر ہلڑ بازی سے بھوکے، ننگے، عوام کے پیٹ نہیں بھرے جا سکتے اور نہ ہی ووٹ بنک میں اضافہ ممکن ہے۔ گزشتہ5 برسوں میں پی پی پی والے مرکز میں دیدہ دلیری سے کرپشن میں لگے رہے اور پنجاب میں وہ احتجاج اور ہلڑ بازی کرتے رہے، جیسے سابقہ کئی دنوں سے پی ٹی آئی کے ممبر پنجاب اسمبلی میں کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس وقت بہت کم اور مقابلہ بہت سخت اور غلطی کی گنجائش نہیںہے۔  ٭

مزید : کالم