بہت دیر کی مہرباں جاتے جاتے

بہت دیر کی مہرباں جاتے جاتے
 بہت دیر کی مہرباں جاتے جاتے

  

خدا خدا کرکے زرداری میاں کی رخصتی قریب آئی ۔ چند روز پہلے فرمایا عزت سے جارہا ہوں۔ یہ دراصل حیرانی کا اظہار تھا ۔ سوچتے ہوں گے عزت والا کام تو کوئی کیا نہیں۔ پھر بھی عزت سے جارہا ہوں۔ لیکن اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں نے عزت اور ذلت کے معیار بدل دئےے ہیں۔ اب ہر قسم کی عزت سیاستدانوں نے اپنے لئے reserveکروا لی ہے ۔ ان کا استحقاق جو پہلے مجروح ہوا کرتا تھا اب مجروح کرتا ہے ۔ کس کی مجال ہے عوامی نمائندوں کا استحقاق مجروح کرکے کسی ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں جاپہنچے ۔ ہسپتال بھی مقدر سے ملتا ہے ،بیچ میں تھانہ آتا ہے ۔ کہا جاتا ہے جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے ہی حکمران خدا مسلط کردیتا ہے ۔ خدا لگتی کہےےے ہمارے عوام تو ایسے نہیں ہیںجیسے ہمارے حکمران ہیں۔ عوام مظلوم ہیں لیکن حکمران تو مظلوم نہیں ہیں۔ وہ تو غریب عوام کے وسائل کی لوٹ مار کی بدولت عرب شیوخ سے بھی زیادہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر اس بات میں تھوڑی سی ترمیم کر لی جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ جس قسم کے نمائندے عوام منتخب کرتے ہیں( ؟) خدا ویسے ہی حکمران مسلط کر دیتا ہے۔ جمہوریت میں عوام کے غبارے سے ساری ہوا نکل کر عوامی نمائندوں میں بھر جاتی ہے ۔ اب ہمیں جمہوریت کی وہ تعریف کرنی چاہےے جو سچ پر مبنی ہو۔ پاکستانی جمہوریت پر تو ابراہم لنکن کی تعریف صادر نہیں آتی ۔ پاکستانیوں کو سمجھ لینا چاہےے بلکہ وہ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں عوامی نمائندے ، اپنے مقاصد کی تکمیل اور عوام کی تذلیل کرنے کے لئے ، بے بس عوام پر باری باری حکومت کرتے ہیں۔ یہ عوامی نمائندے پانچ سات گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے ہیں لیکن اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کسی کی ٹانگ ٹوٹنے نہ پائے کیونکہ ان کی جنگ بھی پہلے سے فکسڈ ہو تی ہے ۔نتائج پہلے مرتب ہوتے ہیں، جنگ بعد میں لڑی جاتی ہے ۔ کرکٹ والوں نے انہی عوامی رہنماﺅں سے رہنمائی حاصل کی ہے ۔

زرداری اینڈ کمپنی (کرپشن اَن لمیٹڈ) کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈر ز کو اس کارنامے پر فخر ہے کہ انہوں نے عوامی لُوٹ مار کے پانچ سال نہایت کامیابی سے پورے کر کے اور کمپنی کا نام بدل کر اسے پُرامن انتقالِ زر و مال کے ذریعے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حوالے کر دیا ہے جن کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ لیکن ان پانچ سالوں میں زرداری گینگ نے مُلک اور عوام کا جو کباڑا کیا ہے اور مُلک کو کباڑ خانے میں تبدیل کیا ہے اُس کی مثال ملنا محال ہے ۔

زرداری میاں کی سیاست کا بنیادی اصول تھا ” سب کو ساتھ لے کر چلنا“ ۔ ہم سب کو ساتھ لے کرچلنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اصولوں سے کوئی غرض نہیں۔ ہمیں صرف عددی قوت چاہےے۔ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔ چاہے کوئی چور ہو یا سعد، مسٹر ہو یا مولانا، کالا ہو یا گورا ، سوشلسٹ ہو یا شوشہ لسٹ، حیادار ہو یا بے حیا :

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

زرداری کا دل اتنا کشادہ ہے کہ اس دل کے دامن میں سارے جہان کی دولت ڈال دی جائے، تب بھی اس میں خاصی جگہ بچ جائے گی ۔مفاہمت کی سیاست چوروں اور ڈاکووﺅں میں تو ہو سکتی ہے، بااصول لوگوں میں کبھی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ بے اصول لوگوں سے کبھی مفاہمت نہیں کرتے ۔ حق و باطل ہمیشہ برسرِپیکاررہتے ہیں۔ بقول اقبال 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مُصطفوی سے شرارِ بولہبی

اگر چراغِ مُصطفوی، شرارِ بولہبی کو ساتھ لے کر چلتا تو آج اسلام کا نام بھی نہ ہوتا ۔

 پاک ٹی ہاﺅس میں چند شاعر بیٹھے تھے ۔ زرداری اینڈ ایسوسی ایٹس کے کارناموں کا ذکر ہونے لگا ۔ ایک شاعر نے کہا ” زرداری نے جمہوریت کو بدنام کر دیا “ یہ سُن کر باقی شعرا ءکی رگِ صداقت پھڑک اٹھی ۔ باری باری فرمانے لگے: ”مستقل طور پر ریلوے کا پہیہ جام کر دیا۔ پی آئی اے کا کام تمام کر دیا ۔ کرپشن کا وطیرہ عام کر دیا۔ قومی حمیت و غیرت کو نیلام کر دیا ۔ پاکستان کو نذرِآلام کر دیا ۔ غریب عوام کا جینا حرام کر دیا ۔ ہر عوامی نمائندے اور بڑے افسر کو خون آشام کر دیا ۔ اچھے مستقبل کو خیالِ خیام کر دیا ۔ جو کام دشمن بھی نہ کر سکتے تھے وہ کام کر دیا ۔ “ کہےے پسند آئی یہ نثری نظم جس کے مصرعوں میں وزن نہیں لیکن یہ بے وزن مصرعے بھی زرداری پر کافی بھاری رہیں گے ۔

زرداری کی مہربانی سے اب پاکستان میں کرپشن کو بُرا نہیں سمجھا جاتابلکہ کرپشن کو بُرا کہنے والوں کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے ۔ کرپشن کے معاملے میں پاکستان نے دنیا کی ہر قوم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ پہلے لوگ لاکھوں کی کرپشن کرتے تھے ۔ پھر کروڑوں تک نوبت پہنچی اور اب جو شخص کم از کم اربوں میں کرپشن نہ کرے اُس کو کم ظرف کہہ کر اقبال کا یہ شعر سنایا جاتا ہے

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ¿ داماں بھی تھا

تنگیِ¿ داماں کا علاج کرنے کے ماہر افتخار الا طّبا ، حکیم ِحاذق جناب آصف علی زرداری کی خدمات حاصل کرنا چاہییں۔ وہ لوگ جو چھپ کر تھوڑی بہت کرپشن کرتے تھے، اُن کے حلقہ¿ مریضاں میں داخل ہوتے ہی کروڑوں اربوں روپوں کو فاسٹ فوڈ کی طرح بغیر ڈکار لےے ہضم کر جاتے ہیں۔ ڈکار لینے کے لئے انہیں مزید چند کروڑ کے چورن کی ضرورت پڑتی ہے ۔

زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ وہ صدارت سے فارغ ہو کر پیپلز پارٹی کی تنظیمِ نو کے نام پر اس کی تقسیمِ نو کریں گے ۔ یعنی اگر اب بھی پارٹی میں کچھ لوگ بھٹو اور بےنظیر کے وفادار ہےںتو انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گاکیونکہ اُن کی زندگی کا مشن ہر شخص کے دل سے بھٹو کو نکالنا ہے ۔ بلاول بھی صرف نام کا بھٹو ہے ۔ وہ بھی اگر اب تک پورا پورا زرداری نہیں بن سکا تو اب بن جائے گا ۔ زرداری میاں کو چاہےے کہ وہ منافقت سے کام نہ لیں اور نہ عوام کو دھوکہ دیں ۔ بچارے بلاول کی ولدیت تبدیل نہ کرےں۔ اُسے بلاول زرداری ہی رہنے دے۔ بھٹو کے لفظ کا تڑکا نہ لگائےں۔ کیسی عجیب بات ہے بھٹو کے دشمن ووٹ مانگتے وقت بھٹو کا لفظ استعمال کرتے ہیںاور کامیاب ہو کر بھٹو ازم کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ آج کے جیالے بھٹو کے جیالے نہیں ہیں وہ زرداری کے جیالے ہیں۔ اب بھی جو جیالا بھٹو سے پیار کرتا ہے، اُسے چاہےے کہ زرداری پارٹی سے فوراً نکل جائے ۔ زرداری کو سمجھ لینا چاہےے کہ عوام مجبور، محکوم اور مظلوم تو ہےں لیکن مجہول بالکل نہیں ۔ ہمارے نظام نے اُن کے پاﺅں میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں۔ جس روز یہ بیڑیا ں ٹوٹیں، ظلم کا سورج بھی گہنا جائے گا ۔ فی الحال ہم اندھیروں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔پٹرول کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی کا جو نیا طوفان آرہا ہے ، عوام کو مبارک ہو ۔ (وما علینا الاالبلاغ)  ٭

مزید : کالم