پاکستان پر مزید ڈرون حملے

پاکستان پر مزید ڈرون حملے

امریکہ نے ایک بار پھر شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ کر کے چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی کر دیئے ہیں ۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے، جب پاکستانی طالبان سے حکومت پاکستان کے مذاکرات کی ابتدا ہو رہی تھی۔ بہت سی غلط فہمیاں دُور ہو گئی تھیں اور بہت سے معاملات میں فریقین میں افہام و تفہیم پیدا ہوگیا تھا۔ اس موقع پر اس حملے کو بہت سے مبصرین نے پاکستان کو مذاکرات سے دُور رکھنے کی کوشش قراردیا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا ہے، جبکہ پاکستان کی نئی حکومت امریکہ پر بار بار واضح کرچکی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہیں، جن سے بے گناہ جانوں کا نقصان ہوتا اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچتاہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کہا تھا کہ ڈرون حملے صرف عالمی قوانین کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔ امید کی جارہی تھی کہ امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان سے تعاون کیا جائے گا اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہو گا، لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ نہ پاکستان سے مخلص ہے نہ پاکستان کے عوام سے۔ اول و آخر اس کی پالیسیاں ہٹ دھرمی اور دوسروں پر جنگ ٹھونسنے پر ہی مبنی ہیں۔   ٭

مزید : اداریہ