شام پر امریکی حملے کاپروگرام

شام پر امریکی حملے کاپروگرام

امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کسی بھی وقت شام پر حملہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔امریکی صدر نے شام پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر بھی شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے تیار ہیں۔ اس کے لئے کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی کانگرس میں بحث کے بعد منظوری لی جائے گی۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہو گا کہ امریکہ جو کہتا ہے وہ کرتا بھی ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں شام کی حکومت کی طرف سے شہریوں پر کیمیائی حملے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ کیمیائی حملہ انسانیت اور امریکی سلامتی پر حملہ تھا۔ امریکہ شام میں حکومت کے مخالفین کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں دس روز پہلے بدترین کیمیائی حملہ کیا گیا۔ 21اگست 2013ءکا یہ حملہ اکیسویں صدی کا بدترین حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی بھی ایکشن لینے کا پورا اختیار ہے۔ روس کی طرف سے شام کو دی گئی حملے کی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ امریکہ کو شام میں استعمال کئے گئے کیمیکل ہتھیاروں کے سلسلے میں ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹس کو حملے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم ترکی، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے حملے کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اگر ہوا ہے تو یہ بے حد افسوسناک واقعہ ہے، جس میں 1500سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انسان کس اذیت ناک طریقے سے ہلاک ہوتے ہیں۔ شام کے حکومتی حلقوں سے ایک بات یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ اگر کہیں ایسے ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے تو یہ خود باغیوں کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ حکومت کے پاس نہ ایسے ہتھیار ہیں نہ ان کا استعمال کیا گیا ہے۔ شام ایک عرصہ سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جس کی حکومت مخالف لوگوں پر قابو پانے کے لئے عام شہریوں کے خلا ف فوج کو بھی استعمال کررہی ہے۔ باغیوں کے ارادے بھی کسی طرح کی افہام و تفہیم کے بعد ملک میں امن قائم کرنے کے نظر نہیں آتے۔ احتجاج اور اپنے مطالبات کے لئے مظاہرے وغیرہ کرنے کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں ۔ اگر ان مظاہروں کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کر کے صرف حکومت وقت کو گرانا ہو تو ایسا انتشار صرف حکومت گرانے تک ہی محدود نہیں رہتا اس سے ملکی معیشت اور دفاع بھی بے حد کمزور ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ملک غیر ملکی طاقتوں کے لئے ترنوالہ بن کر رہ جاتا ہے۔ آج مختلف ملکوں پر قبضے کر کے ان کے وسائل کو اپنے عوام کی خوشحالی کے لئے نچوڑنے کے لئے بڑی طاقتیں پہلے قدم کے طور پر ان ملکوں میں جمہوریت یا انسانی حقوق کے نام پر باغیانہ سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں ، جب ایسی سرگرمیاں طول پکڑ کر ملکی دفاع اور معیشت کو کمزور کر دیتی ہیں تو اس وقت طاغوتی استعماری طاقتیں ہمیشہ اس ملک پر ایسے ہی منڈلانے لگتی ہیں جیسے نیم مردہ جان داروں پر مردار خور گدھ منڈلاتے ہیں، جو اکثر جاندار پر اس وقت حملہ کر دیتے ہیں، جب ابھی اس میں جان تو باقی ہوتی ہے، لیکن وہ ہلنے جلنے سے عاجز ہوتا ہے۔ آج پاکستان سمیت ان تمام اسلامی ممالک کو اندرونی انتشار کا شکار کر دیا گیا ہے، جن میں کسی بھی طاقتور سے طاقتور دشمن کے سامنے کھڑے ہونے کی طاقت ہے۔ پاکستان ، ترکی اور مصر کے علاوہ شام بھی انہی اسلامی ممالک میں شامل ہے۔

آج کے زمانے میں جنگ کو دشمن کے علاقے میں اس کے اپنے لوگوں کے درمیان دھکیل دینا ہی جنگی حکمت عملی کی سمارٹ نیس ہے۔ اس صورت حال سے ہر حال میں بچنا ہی قوموں کی دانائی ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کے مطالبات اور شکایات کو بڑھا کر انتہائی تلخیوں اور مظاہروں کے ذریعے بدامنی کی طرف لے جانے سے ہر حال میں بچنا قوموں کی بقاءکے لئے ضروری ہے۔ میڈیا اور دوسرے اَن گنت ذرائع ایسے ہیں جن کے ذریعے سیاسی جماعتیں یا جمہوریت اور انسانی حقوق کے حامی گروہ اپنے مطالبات کے لئے حکومتوں پر مسلسل دباﺅ ڈال سکتے ہیں ۔ کسی حد تک سیاسی مظاہروں اور جلسوں کے ذریعے بھی ان مطالبات پر زور دیا جا سکتا ہے، لیکن کسی طرح کا احتجاج اور تحریک شروع کرنے سے پہلے اسے اس کی حدود میں رکھنے کے تمام انتظامات کر لئے جانے چاہئیں ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو (اکثریہ ممکن نہیں ہوتا) تو کسی بھی محب وطن گروہ کی طرف سے ایسا کام کر کے ملک کو انتشار کے سپر د کرنے کمزور اور لاغر بنانے سے اجتناب برتنا چاہئے۔ یہی ہمارے اردگرد کے جدید حالات اور قوموں کی عالمی تاریخ ہمیں بتاتی ہے، جس میں اسلامی دنیا کے تمام سوچنے سمجھنے والے طبقات کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ مخالف جماعتوں کے ساتھ غم و غصہ اور رنجش ہو بھی تو اس کو قوم و ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی طرح بھی استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ آج کی جمہوریت میں قومی مفاد اور وقار کے تقاضوں کو جس وقت بھی نظر انداز کیا گیا اس کے نتائج مصر اور شام جیسی صورت میں قوم کے سامنے آئے۔ وطن عزیز اس وقت افغانستان جنگ کی بدولت اور خفیہ ہاتھوں کی طرف سے ہمارے ہاں فروغ دی گئی انتہاءپسندی کی بناءپر دہشت گردی اور بدامنی کے مسائل سے دوچار ہے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں اور مسلح افواج میں ملکی دفاع کے لئے دشمن کے ایسے تمام ہتھکنڈوں کو اس کی اپنی طرف پلٹ دینے کی استطاعت موجود ہے۔ قومی سیاسی قیادت بھی ارد گرد کے عالمی حالات سے سبق سیکھ رہی ہے۔ کسی بھی معمولی، بلکہ غیر معمولی سیاسی تنازعہ کو بھی طول دے کر ملک کے بگڑے ہوئے حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے نمٹانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جو ہمارے روشن مستقبل کی دلیل ہے۔

شام کے اندر عرصہ سے استعماری طاقتوں کا شروع کیا ہوا کھیل جاری تھا ، اب تک احتجاج کرنے والوں کی تحریک کو بغاوت میں بدلا جا چکا ہے اور بیرون ملک سے انہیں ہر طرح کے جدید ہتھیار فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کسی دوسرے ملک کے عوام کی خیر خواہی میں کوئی بھی استعماری طاقت اپنے وسائل ضائع نہیں کرتی ۔ اس کی امداد و تعاون کے پیچھے بھی سودی جال میں پھنسانے یا ہمارے جیسے ممالک میں ایجنٹ اور غدار پیدا کرنے کے مقاصد ہوتے ہیں تاکہ ان کی مدد سے ہمارے دفاع اور معیشت کو کمزور کر کے استعماری مفادات کو پروان چڑھایا جا سکے۔ جب بھی استعماری طاقتوں کی طرف سے کسی ملک کے عوام سے ضرورت سے زیادہ ہمدردی ظاہر کی جانے لگتی ہے، اس ملک کی بدقسمتی کے دن قریب ہوتے ہیں۔ اس وقت کوئی بہانہ ہو یا نہ ہو امریکہ کی طرف سے شام پر حملے کا مقصد اس کی دفاعی طاقت کو کچلنا ہے تاکہ اس کی ہمسائیگی میں موجود اسرائیل خود کو سارے علاقے کا بلا کسی رکاوٹ کے تھانیدار بنا سکے۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک سے روس اور چین کی طرف سے اس امریکی حملے کی کھل کر مخالفت کی گئی ہے، لیکن محدود حملے کے نام سے امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے پر تلا ہوا ہے۔ دنیا کے کاروباری مراکز میں اس ممکنہ جنگ کے منفی اثرات کے پیش نظر کھلبلی مچی ہوئی ہے اور بہت سے ماہرین کی طرف سے اس حملے سے جنگ کے پھیل جانے اور اس کے پورے خطے،بلکہ عالمی معیشت کے لئے تباہ کن اثرات کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس جنگ سے باز رہنے کے لئے کہہ دیا ہے۔ تاہم طاقت ہمیشہ اندھی ہوتی ہے۔ زبردست کا ٹھینگا ہمیشہ سر پر ہوتا ہے۔ اس کے لئے دنیا کی طرف سے امریکہ کے خلاف جتنے بھی دلائل لائے جائیں ان کی کچھ اہمیت نہیں ہو گی۔ آج تک کی انسانی تاریخ میں اپنے اندرونی انتشار اور بدامنی کی اس حالت کو پہنچ جانے والی کسی بھی قوم کا انجام یہی ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر دوسروں کی ہمدردیاں اور ساتھ بھی نیم دلی ہی پر مبنی ہوتا ہے، جن کے منہ سے رال ٹپک رہی ہو وہ آگے بڑھ کر تر نوالہ مُنہ میں رکھنے سے گریز نہیں کرتے۔ تقدیر کے قاضی کا ازل سے یہی فتوی ہے کہ کمزور اور ناتوان ہو جانے والوں پر ایسی کوئی بھی مصیبت کسی بھی وقت اچانک نازل ہوسکتی ہے۔

آج بھی ملت اسلامیہ اپنے اتحاد و یکجہتی سے اپنی توانائیوں کو یکجا کرکے ایک قوت کی حیثیت سے دنیا میں ابھر سکتی ہے، لیکن ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی اس خواہش کے پورا ہونے کی کوئی امید اس لئے نہیں کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر آج تمام اسلامی ممالک کی حکومتیں بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہیں۔ ان ممالک کے عوام میں شعور و فہم کے ساتھ حقیقی جمہوری نظام یا کم از کم اپنے عوامی مفاد میں کام کرانے کے حق میں کوئی منظم تحریک شروع نہیں ہو سکتی۔ دراصل اس مقصد کے لئے ہنگاموں سے زیادہ عوامی فہم و شعور میں اضافے کے لئے بنیادی نظریاتی کا م کی ضرورت ہے ۔ یہ بنیادی قسم کا کام وقت طلب اور مشکل سمجھ کر ہر کوئی ہنگاموں اور بدامنی کا راستہ اپنانے کی سوچتا اور اپنے ملک کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ شام، مصر، ترکی اور عالم اسلام کے ساتھ مغرب کے سلوک کے خلاف غم وغصے کے اظہار کے علاوہ آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اس ساری صورت حال سے سبق بھی سیکھیں او ر قوم کے دانشور اس سبق کے تمام اہم نکات افراد قوم پر پوری طرح واضح کریں

مزید : اداریہ