مجھے حمزہ شہباز کا نہیں، اپنا پاک ٹی ہاﺅس چاہیے

مجھے حمزہ شہباز کا نہیں، اپنا پاک ٹی ہاﺅس چاہیے
مجھے حمزہ شہباز کا نہیں، اپنا پاک ٹی ہاﺅس چاہیے

  

لاہور اور اہل ِ لاہور کی قسمت کے فیصلوں پر مامور، بیورو کریسی اِن دِنوں پاک ٹی ہاﺅس کے بارے میں مزید غورو خوض کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔ اس کی ساری توجہ اس بات پر ہے کہ پاک ٹی ہاﺅس میں ایسا کیا نیا ہو کہ میاں حمزہ شہباز اُسے داد دینے پر مجبور ہو جائیں۔ بس یہی بنیادی غلطی ہے جو ہماری بیورو کریسی ہمیشہ سے کرتی چلی آ رہی ہے وہ ہمیشہ اپنے سیاسی سرپرستوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

کتنی حیران کن بات ہے کہ پاک ٹی ہاﺅس ہے تو ادیبوں، شاعروں کی نشست گاہ، لیکن اس کی قسمت کا فیصلہ کمشنر لاہور جناب امداد اللہ بوسال اپنے ماتحتوں کے ساتھ بیٹھ کر تن تنہا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاک ٹی ہاﺅس کے لئے اب تک جتنے بھی اجلاس بلائے ہیں اُن میں کبھی کسی ادیب شاعر کو بلانے کی زحمت نہیں کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاک ٹی ہاﺅس لاکھوں روپے کے اخراجات کے باوجود وہ صورت نہیں پا سکا جو لاہور کے ادیبوں شاعروں کے ذہنوں میں موجود ہے۔

 یہ اب یک ایسا ریسٹورنٹ بن گیا ہے، جہاں ہر وہ شخص آ سکتا ہے، جس کی جیب میں کم از کم 500 روپے موجود ہوں۔ پاک ٹی ہاﺅس نفع نقصان کے بغیر چلانے کی کوشش کی جاتی تو یہ ایک بار پھر آباد ہو سکتا تھا، لیکن یہاں ایسی کوئی کوشش سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ اسے ایک منافع بخش کاروباری مرکز بنا دیا گیا ہے جہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات، ارد گرد واقع بنکوں کے ملازمین، لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے والے وکلاءصاحبان اور نیلا گنبد میں گاڑیوں کے ٹائر اور رم بدلوانے کے لئے آنے والے لوگ کچھ دیر آرام کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں۔ بے چارے ادیبوں کو یہاں بیٹھنے کے لئے جگہ ہی نہیں ملتی۔ اگر جگہ مل جائے تو وہ بے چارے کچھ کھا پی نہیں سکتے کہ یہاں چائے، پریس کلب کے نرخ کی بجائے، شیزان (مرحوم) کے نرخ پر ملتی ہے۔ ڈی سی او نور الامین مینگل نے پاک ٹی ہاﺅس کی تزئین و آرائش کرتے ہوئے اس خاکسار سے بھی مشاورت کی اور کئی دیگر ادیبوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھا، لیکن نئے ڈی سی او صاحب اپنی فیصل آبادی اور ملتانی فتوحات کے نشے میں اتنے سرشار ہیں کہ لاہور کے اصل مسائل پر ان کی نظر ہی نہیں ٹھہرتی۔ ڈی سی او نسیم صادق صاحب، کمشنر لاہور کی رہنمائی میں اگر پاک ٹی ہاﺅس کے بارے میں وہاں سے سوچنا شروع کریں جہاں نور الامین مینگل نے اسے چھوڑا تھا تو بہتری کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ مثلاً ادیبوں، شاعروں کی میزیں اوپر والی منزل پر ہر وقت خالی رکھی جائیں ان پر عام گاہکوں کو نہ بیٹھنے دیا جائے۔ ادیبوں، شاعروں کی پاک ٹی ہاﺅس کے لئے ممبر شپ کر لی جائے۔ (یہ ممبر شپ، حلقہ ارباب ِ ذوق کے تمام ارکان کو دی جا سکتی ہے)۔ پاک ٹی ہاﺅس کے ممبر ادیبوں شاعروں کو اشیائے خورو نوش پر، پریس کلب کی طرز پر سبسڈی دی جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہو گا کہ ادیب اور شاعر یہاں آنا شروع کر دیں گے اور اسے ایک بار پھر وہی پہچان مل جائے گی، جو اس کے ساتھ مخصوص رہی ہے۔ ماضی میں بیرون ِ لاہور اور بیرون ِ ملک سے آنے والے ادیب، لاہور کے اہل قلم سے ملنے کے لئے پاک ٹی ہاﺅس ہی آیا کرتے تھے۔ اب ایسا ممکن ہی نہیں رہا، لیکن اب بھی ایسا ممکن ہے۔ شرط یہ ہے کہ ادیبوں کے لئے یہاں چیزوں کے نرخ اور رکھے جائیں اور عام لوگوں کے لئے کچھ اور۔ یہاں ادیبوں کے لئے پوسٹ بکس بھی رکھوائے جا سکتے ہیں۔ یوں ادیبوں کا اپنے اس مرکز سے مسلسل رابطہ رہے گا۔

لاہور کے موجودہ ڈی سی او جناب نسیم صادق ضرورت سے زیادہ پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی توجہ ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کے بجائے سماجی، سیاسی، معاشی اور کاروباری معاملات پر ہے۔ ابھی چند روز قبل ہمارے مستعد اور سرگرم ڈی سی او صاحب کے حکم پر وزارت صحت سے منظور شدہ ادارے نیشنل کونسل فار طب کے سند یافتہ حکیموں کے مطبوں پر چھاپے مارے گئے، لیکن ٹی وی چینلوں پر پبلسٹی کے زور پر مشہور ہونے والے ”حکیم“ ”ڈاکٹر“ اور پروفیسر“ ابھی تک ان کی گرفت سے آزاد ہیں۔ یہ لوگ مسلسل انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ دیسی طریقہ علاج، ہمارا ثقافتی اثاثہ ہے،لیکن جو لوگ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہئے۔

کمشنر لاہور اور ڈی سی او لاہور اگر مناسب سمجھیں تو ثقافتی اور ادبی معاملات میں اپنے ادیب دوستوں سے بھی مشاورت کر لیا کریں تاکہ ان کے فیصلے سب کے لئے قابل ِ قبول ہوں، بالخصوص کمشنر لاہور سے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ پاک ٹی ہاﺅس، حمزہ شہباز کے لئے نہیں، لاہور کے ادیبوں شاعروں کے لئے بنایا گیاہے۔ وہ تو میاں نواز شریف کے ساتھ اس کی افتتاحی تقریب میں آئے تھے اور بس۔ اب وہ روز روز تو یہاں نہیں آئیں گے ناں۔ روز تو یہاں ہمیں بیٹھنا ہے۔ سو ہمیں ہمارا پاک ٹی ہاﺅس چاہئے،حمزہ شہباز کے لئے پہلے ہی بہت سے پاک ٹی ہاﺅس موجود ہیں۔

 

مزید : کالم