آئل امپورٹ لابی نے مبینہ طور پر ذاتی مفاد کیلئے ایل این جی درآمد منصوبے کو خطرناک قراردیدیا

آئل امپورٹ لابی نے مبینہ طور پر ذاتی مفاد کیلئے ایل این جی درآمد منصوبے کو ...
آئل امپورٹ لابی نے مبینہ طور پر ذاتی مفاد کیلئے ایل این جی درآمد منصوبے کو خطرناک قراردیدیا

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) آئل امپورٹ لابی نے ایل این جی کے درآمدی منصوبے کوآبادی اور صنعتی علاقے کیلئے خطرناک قراردیدیاہے جبکہ دلچسپی رکھنے والے عناصر نے مکمل محفوظ قراردیا۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق آئل امپورٹ لابی نے اپنا نقصان دیکھتے ہوئے پورٹ قاسم پر ایل این جی کی درآمد کو غیرمحفوظ قرار دیتے ہوئے موجودہ ٹرمینلز پر ایل این جی کی درآمد کو بندرگاہ کے دیگر ٹرمینلز اور ٹرانسمیشن پائپ لائن کو اردگرد کی آبادی اور صنعتی علاقے کے لیے خطرہ قراردیدیا۔ ایل این جی کی درآمد میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے آئل امپورٹ لابی کی جانب سے پورٹ قاسم پر ایل این جی کی درآمد کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تھر کے کوئلے کی طرح ایل این جی کی درآمد کے منصوبے کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں اور آئل امپورٹ لابی کے مفاد کے لیے سرگرم عناصر ایل این جی منصوبے کے خلاف بھی پراپیگنڈہ کررہے ہیں جس سے سرکاری حلقوں اور بیوروکریسی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ منصوبے کے مخالف عناصر پاکستان میں توانائی کے بحران کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات پورے کرنا چاہتے ہیں جن میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد سے فائدہ اٹھانے و الے عناصر پیش پیش ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل پاکستان سٹیٹ آئل کے سبکدوش ایم ڈی نعیم یحییٰ کی جانب سے پاکستان سٹیٹ آئل کو ایکسپلوریشن کمپنی کی شکل دینے اور پی ایس او کی اپنی ریفائنری کے قیام کے منصوبے کی بھی بھرپور مخالف کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے لیے زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات خلیجی ریاستوں سے درآمد کی جارہی ہیں جہاں تیار کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات ترقی یافتہ ملکوں کو فروخت نہیں کی جاسکتیں اور ترقی یافتہ ملکوں کے معیار کے مطابق لانے کے لیے ان ریفائنریز کو بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان سٹیٹ آئل کی ایکسپلوریشن اور ریفائنری کے کاروبار کی مخالفت میں بھی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے والی لابی پیش پیش رہی۔

مزید : بزنس