تفریحی سرگرمیوں کی بجائے ریڈ زون لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

تفریحی سرگرمیوں کی بجائے ریڈ زون لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

  

 تجزیہ :شہباز اکمل جندران

پل پل بدلتی صورتحال ، جلاؤ گھیراؤ اور مارپیٹ سے رائے عامہ میں حکومت کی مخالفت بڑھنے لگی ہے۔ کیا عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کے بعد بھی فوج خاموش رہ پائیگی ۔؟ جاوید ہاشمی کے پنڈورا بکس کی تصدیق کون کریگا۔ ؟مقبول ڈراموں ، ٹی وی سیریز ، فلموں اور تفریحی سرگرمیوں کی بجائے شاہراہ دستور اور ریڈ زون لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے عمران خان پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور فوج کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان منصوبہ بندی کے تحت اسلام آباد آئے ہیں اور شارٹ کٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا تھا کہ فوج کے بغیر نہیں چل سکتے۔نئے چیف جسٹس سے معاملات طے ہیں۔ ستمبر میں انتخابات ہونگے۔جاوید ہاشمی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عمران کہتے ہیں کہ ً وہ کہتے ً ہیں کہ قادری کو ساتھ لیکر چلو۔باغی کے لقب سے شہرت رکھنے والے جاوید ہاشمی نے اپنے الزامات کے ثبوت میں کچھ پیش نہیں کیا۔ایسے میں عمران خان پر ان کے ان الزامات کی تصدیق کون کریگا۔؟ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے ۔باربار ناراض ہونے والے رہنما کی حیثیت سے شہرت رکھنے والے جاوید ہاشمی کے الزامات عمران خان کوکہ ثبوت کے بغیر نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔لیکن ان الزامات سے عوام ہیجان میں ضرور مبتلا ہوئیہیں۔ 17دنوں سے عوام کی نظریں ٹی وی سکرین پر مسلسل جمی بیٹھی ہیں۔شائد ہی کوئی لمحہ ایسا آتا ہو جب پاکستانی عوام کی سوچ کسی دوسرے مسئلے یا ایشو پر جاتی ہو۔ مقبول ڈراموں ، ٹی وی سیریز ، فلموں اور تفریحی سرگرمیوں کی بجائے شاہراہ دستور اور ریڈ زون لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔نیوز چینلز نے ریٹنگ میں سب کو مات دیدی ہے۔ملک کے 18کروڑ عوام پل پل بدلتی صورتحال ، جلاؤ گھیراؤ اور مارپیٹ سے آگاہ رہنا چاہتے ہیں۔لیکن یہ معاملہ اب یہاں تک ہی محدود نہیں رہا ۔ اب لوگوں کی رائے حکومت کے خلاف ہونے لگی ہے۔ ریڈزون اور شاہراہ دستور پر شیلنگ ، فائرنگ ، پتھراؤ اور لاٹھی چارج سے نہتے لوگوں کے لیے ہمدردی بڑھنے لگی ہے۔ نظریں باربار فوج کی طرف اٹھنے لگی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہونے لگا ہے۔ اور یہ سوال اہمیت اختیار کرنے لگا ہے کہ کیاعوام کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کے بعد بھی فوج خاموش رہ پائیگی۔حکومت کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے کا حل جلد نکالے، گزرتے وقت کے ساتھ حالات خراب سے خراب تر ہونگے۔

مزید :

تجزیہ -