چینی فوج میں سب سے بڑی تبدیلی کا فیصلہ، صدر کی جانب سے اعلان متوقع

چینی فوج میں سب سے بڑی تبدیلی کا فیصلہ، صدر کی جانب سے اعلان متوقع
چینی فوج میں سب سے بڑی تبدیلی کا فیصلہ، صدر کی جانب سے اعلان متوقع

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کی معیشت پر غلبہ پانے کے بعد اب چین اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ چین کی تاریخ کا ایک اہم ترین فیصلہ کر چکے ہیں جس کے تحت وہ چینی فوج کی تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کریں گے اور اسے امریکی فوج کی طرز پر مشترکہ کمانڈ سٹرکچر کے ضابطے میں لائیں گے۔ چینی صدر کی طرف اس فیصلے کا اعلان رواں ماہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اشاعتی ادارے ”بلومبرگ“ کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر اپنی فوج، نیوی، ایئرفورس اور سٹریٹجک میزائل کور کو ایک کمانڈ کے ماتحت لے آئیں گے۔چین کے اس اقدام سے فوج کے اعلیٰ عہدوں میں کمی واقع ہو گی اور آج کے جدید دور میں زمینی فوج کی بجائے نیوی اور ایئرفورس کا کردار بڑھ جائے گا۔چینی صدر کے اس اقدام سے ملک میں فوج کے 7ملٹری ریجن کی تعداد کم ہو کر 4ہو جائے گی اور زمینی فوج کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شی جن پنگ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کی تقریبات کے دوران اس اقدام کا اعلان کریں گے۔ چینی صدر اپنی افواج کو ایسے قالب میں ڈھالنا چاہتے ہیں جو آج کی جدید جنگیں لڑنے اور جیتنے کی صلاحیت سے مالامال ہوں۔ شی جن پنگ یہ فیصلہ کئی ماہ قبل ہی کر چکے ہوتے لیکن فوج میں کرپشن بے نقاب کرنے لیے تعینات تحقیقاتی افسروں نے فوج کے کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ جنرنیلوں کو کرپشن کے الزام عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جس کے باعث شی جن پنگ کو یہ فیصلہ ملتوی کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ صدر شی جن پنگ نے فوج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اس میں سے کرپشن کے خاتمے کا فیصلہ کیا تھا اور اس مقصد کے لیے یہ تحقیقاتی افسر تعینات کیے تھے جو فوجی افسروں کی جاسوسی کرتے اور ان پر مقدمات قائم کرواتے ہیں۔ گزشتہ جولائی میں ان تحقیقاتی افسران نے متعدد جرنیلوں پر مقدمات چلوائے تھے۔

مزید : بین الاقوامی