’’2ستمبر یوم نفاذ اُردو‘‘

’’2ستمبر یوم نفاذ اُردو‘‘
 ’’2ستمبر یوم نفاذ اُردو‘‘

  

روئے زمین پر کوئی بھی ایسا مُلک نہیں، جس کی اپنی قومی شناخت نہ ہو،زبان اقدار،لباس،حتیٰ کی چرند پرند کو بھی اقوا م میں بڑی حیثیت و مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ قومیں اپنے اسلاف تہذیب و تمدن ثقافت کے بارے میں بڑی حساس ہوتی ہیں اور ان کو نظرانداز کرنے والوں کو قومی مجرم سمجھتی ہیں اور قومی شناخت کی دِل و جان سے عزت واحترام اور اسے اپنانے میں فخر محسوس کرتی ہیں، لیکن پاکستان، جس نے 14اگست کو اپنا 69واں یوم آزادی منایا وہ ابھی تک اغیار کی غلامی سے ذہنی طور پر آزادی حاصل نہیں کر سکا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ۔آئین و قانون کی رو سے اس زبان کا نفاذ ہوجا نا چاہئے تھا، مگر کتنی بدقسمتی اور بدبختی کی بات ہے کہ قوم کو اپنی زبان کی ترویج کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ صاحب نے اپنے منصب کا حلف قومی زبان اردو میں تحریر کردہ پڑھا، جس سے انہوں نے پاکستان کے پہلے چیف جسٹس کا قومی زبان میں حلف اٹھانے کااعزاز حاصل کر لیا۔باقی ہماری اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی ،افسر شاہی نے تاج برطانیہ کی جگہ کالے انگریزوں نے لے لی۔

پاکستان کی تقریباً 20کروڑ آبادی میں کروڑوں افراد تو لکھنے پڑھنے سے ہی محروم ہیں جو لکھنے پڑھنے کے قابل ہیں وہ انگریزی بولنے اور اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔فرانس،جرمنی، جاپان،چین،لاطینی امریکی ممالک،افریقی ممالک نے اپنی زبان میں ہر قسم کی ترقی کی ہے کیا امریکہ اور برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک جو تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہیں،انہوں نے فرانسیسی،جرمن یا جاپانی،چینی،کوریائی لاطینی عربی زبان کو اپنا کر اپنی شناخت حاصل کی ہے ہر گز نہیں۔ کسی بھی مُلک کی زبان سیکھنے میں بھلائی ہے یہ علم ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے،لیکن یہ کہنا کہ انگریزی کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے صریحاً جھوٹ ہے۔ ہم قومی زبان اُردو کو اپنا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ آئے روز سرکاری اداروں،آئینی قانونی اداروں سے انگریزی زبان میں سرکلرز، نوٹسزفیصلے شائع ہوتے ہیں، تو پاکستانیوں کی اکثریت ان فیصلوں کے انگریزی متن کے اُردو میں ترجمے کے لئے ماری ماری پھر رہی ہوتی ہے۔ 69برسوں میں ہم قومی لباس قومی اقدار قومی ترانے قومی زبان کی پاسداری نہ کرسکے اور چلے ہیں ایشئن ٹائیگر بننے۔

ابھی کچھ ماہ قبل چین کے صدر پاکستان تشریف لائے، انہوں نے پاکستانی پارلیمینٹ اور دیگر جگہوں پر خطابات کئے وہ بھی اپنی زبان میں اور ہماری حکومت، حکمران، بیورو کریسی اُردو کے استعمال کی بجائے انگریزی زبان کاپر چار کرتے رہے اور ہماری قومی زبان اپنی حسرتوں پر آنسو بہاتی رہی۔دُنیا کے کسی ملک کے پبلک مقامات پر چلے جائیں، اپنے شہریوں کی رہنمائی کے لئے بورڈ قومی زبان میں ہوتے ہیں اور ہمارے پیارے پاکستان میں ہماری عوام کو پبلک مقامات کے ایڈریسز اُردو زبان میں لکھے نہیں ملتے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ ٹی وی چینلز پر قوم کو ہاکی، کرکٹ کے میچز کی کمنٹری اُردو زبان میں سننے کو ملتی تھی اب وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔یہ حکمران جو ہر لمحہ آئین کو مقدم کہتے ہیں، جب آئین کو اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کی بات کریں تو ان کو چپ لگ جاتی ہے۔2ستمبر یوم نفاذ اُردو منانے کے فیصلے کو پوری قوم تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔پاکستان کے تمام طبقات 2ستمبر کو یوم نفاذ اُردو میں اپناحصہ ضرور ڈالیں یہ ان کی قومی خدمت ہو گی۔

مزید : کالم