جرمن وزیر خارجہ کا دورہ اور سمیڈا، جائیکا پروگرام

جرمن وزیر خارجہ کا دورہ اور سمیڈا، جائیکا پروگرام
 جرمن وزیر خارجہ کا دورہ اور سمیڈا، جائیکا پروگرام

  

پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت تیزی سے بہتر ہوتی جا رہی ہے گزشتہ حکومت میں خارجہ پالیسی افغانستان کے گرد گھومنا شروع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے خارجہ تعلقات میں پاکستان ایک دائرے میں محدود ہو گیا تھا۔ ترقی یافتہ ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کے دورے تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔ اب وزیر اعظم محمد نوازشریف کی نئی ٹیم نے خارجہ تعلقات کا نیا روڈ میپ تیار کیا ہے جس پر چلنے کے مثبت نتائج برآمد ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ دو روز پہلے امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس کا دورہ ختم ہوا تو ساتھ ہی جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک وائر کا دورۂ پاکستان دور رس نتائج کا حامل ہے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت آہستہ آہستہ بلندی کی طرف سفر کر رہی ہے اور ان حالات میں پاکستان کو یورپی یونین کے ساتھ اچھے تعلقات سے بھرپور فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جرمنی اس وقت چانسلر انجیلا مرکل کی ولولہ انگیز اور جرأت مندانہ قیادت میں یورپی یونین کو فرانس کے صدر الاندے کے تعاون سے بہت کامیابی سے آگے لے جا رہا ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل کو بہتر نتائج ملے ہیں جب یورپی یونین میں اس پر لگے ہوئے ٹیکس ختم کئے گئے ہیں۔ جرمنی کے ساتھ ماضی میں پاکستان کے تعلقات بہت خوشگوار رہے ہیں لیکن گزشتہ حکومت کی محدود خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کے تعلقات بہت سے ممالک سے سرد مہری کے ہو گئے تھے۔ اب جرمنی کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ ایک بہت اچھی پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ اب جرمن قوم ہو یا فرانسیسی وہ اپنی زبان میں اظہار فخریہ کرتے ہیں۔ اب یہ پاکستانی میڈیا خصوصاً پاکستان ٹیلی ویژن کا فرض بنتا ہے کہ وہ جرمن وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کو فوری طور پر اُردو یا انگریزی میں ترجمہ کر کے سناتا تاکہ ناظرین کو براہِ راست معلومات اور جرمن وزیر خارجہ کی سوچ تک رسائی ملتی۔ لیکن افسوس کہ پی ٹی وی نے کبھی ایسے موقع پر عوام کو براہِ راست ترجمہ کی سہولت فراہم کرنی پسند نہیں کی۔

جرمن وزیر خارجہ فرینک وائر نے بہت دوستانہ انداز میں پاکستان کی شاندار خدمات کا تذکرہ کیا خصوصاً دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کی بھرپور داد دی۔ مستقل میں بہتر تعلقات کے لئے بہت ضروری ہے کہ اکتوبر میں وزیر اعظم محمد نوازشریف امریکہ کا دورہ کرنے کے بعد بے شک واپسی پر جرمنی کا دورہ بھی کریں۔ اگر پاکستان کی ایکسپورٹ ڈبل کرنی ہے تو پھر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا تعاون حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی جرمنی بہت ترقی یافتہ ہے۔ خصوصاً چھوٹے مکانات بنانے اور زیر زمین کھدائی کے لئے جدید ترین مشینری جرمنی کے پاس دستیاب ہے پھر یورپی یونین کے رکن ممالک بہت سے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کر سکتے ہیں۔

امریکہ جرمنی کے بعد جاپان بھی پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے سرگرم نظر آ رہا ہے جائکا (JICA) جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی ماضی میں بھی پاکستان کی بہت مدد کرتی رہی ہے اب حال ہی میں جائکا نے پاکستان میں سمیڈا کے ساتھ مل کر توانائی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لئے فاؤنڈری آٹو سیکٹر کا انتخاب کیا ہے۔ اس سلسلے میں سمیڈا کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت جاپانی ماہرین کی ٹیم ایک پروگرام کے تحت دونوں انڈسٹریز میں توانائی کا ضیاع روکے گی۔ اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چند سال پہلے ایم بی اے کے ایک فارغ التحصیل طالب علم مراد نے جرمنی سے چند ماہرین کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے مختلف پیداواری یونٹوں میں بجلی کے نظام کو آڈٹ کیا تو ایسے حیران کن نتائج سامنے آئے کہ پاکستانی صنعت کار بھی حیران رہ گئے۔ اس انرجی آڈٹ کی وجہ سے معلوم ہوا کہ بہت سی توانائی استعمال ہونے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے یا کہیں پر زیادہ بجلی خرچ ہو رہی تھی۔ اس توانائی آڈٹ کے نتیجہ میں ان صنعت کاروں کو ماہانہ لاکھوں روپے کی بچت ہوئی۔

سمیڈا کے ترجمان لیاقت علی گوہر نے بتایا کہ جب سے محمد عالمگیر چوہدری سمیڈا کے سربراہ بنے ہیں تب سے ان کی ہر وقت یہی کوشش ہے کہ سمیڈا جس مقصد کے لئے بنایا گیا ہے اس کے مقاصد حاصل بھی کئے جائیں۔ پاکستان میں ایکسپورٹ ڈبل کرنے اور جن شعبوں میں ایکسپورٹ کم ہے ان شعبوں کا مطالعاتی تجزیہ کرایا جا رہا ہے کہ ان شعبوں کو کیسے فعال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یورپی یونین کو مچھلیوں کی ایکسپورٹ میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان جدید کشتیاں ملاحوں کو فراہم کر دے۔ اللہ نے پاکستان کو ہر قسم کی لذیذ مچھلیوں سے مالا مال کیا ہے لیکن اگر مچھیروں کی تربیت کر کے نہیں جدید کشتیاں اور سازو سامان فراہم کر دیا جائے تو پاکستان سے یورپی یونین کو مچھلیوں کی برآمد ڈبل ہو سکتی ہے۔ویسے حکومت کو بھی چاہئے کہ غیر ملکی امداد فراہم کرنے والے اداروں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ماہرین کا پینل قائم کرے تاکہ جائکا جیسے اچھے اداروں کی دی ہوئی امداد سے مثبت نتائج بھی حاصل کئے جا سکیں۔ وہ انجام نہ ہو کہ جائکا نے آموں کو جراثیم سے پاک کرنے کا ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ دیا جو ابھی تک ٹریڈ ڈویلپمنٹ نے کہیں پھینکا ہوا ہے۔

مزید : کالم