کیا بھارت جنگ چھیڑنا چاہتا ہے؟

کیا بھارت جنگ چھیڑنا چاہتا ہے؟
 کیا بھارت جنگ چھیڑنا چاہتا ہے؟

  

بھارت کی طرف سے سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجہ میں پانچ سالہ بچے اور خاتون سمیت 10 افراد شہید اور 50زخمی ہو گئے۔ علاقے کے لوگ خوف کے باعث گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے۔ رینجرز نے بھارتی فائرنگ وگولہ باری کا مُنہ توڑ جواب دیا، جبکہ بلااشتعال فائرنگ پر بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بھارتی ہائی کمشنر سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے اور امن کی بحالی کے لئے 2003ء کے فائر بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔۔۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔دفتر خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں مداخلت کر کے دہشت گردی کرا رہا ہے اور اس کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیالکوٹ میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے دورہ کے دوران بلااشتعال بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دینے پر پنجاب رینجرز کو خراج تحسین پیش کیا۔ آرمی چیف نے سرحد پر تعینات فوجی دستوں اور مقامی آبادی کے حوصلے کو سراہا۔ آرمی چیف کے مطابق بھارت نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنا کر دہشت گردی کی ہر حد عبور کر لی۔ بھارت نے بین الاقوامی ضابطوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ اور غیراخلاقی کارروائی ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے۔ سرحد پر بھارتی جارحیت اور پاکستان میں دہشت گردی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بھارتی افواج جان بوجھ کر جارحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سرحد پر جارحیت کا تعلق مُلک کے اندر مبینہ طور پر بھارت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی سے ہے۔ بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے اور پاکستان کی شہری آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لئے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی حدوں کو پار کر لیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزارت دفاع اور خارجہ کو معاملہ بھارت کے سامنے اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود جنگ کا کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان پر حملے کی صورت میں ردعمل کا انحصار ہم پر ہے، وقت ہم طے کریں گے۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت سرحدی خلاف ورزیوں سے باز رہے۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ بھارت سرحد پر تناؤ کم کرے اور 2003ء کے سیزفائر معاہدے کی پاسداری کرے۔۔۔سیاسی رہنماؤں نے بھارت کی طرف سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ اور نہتے شہریوں کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت غلط فہمی میں نہ رہے۔ قوم متحد ہے اور بھارت کو مُنہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ نریندر مودی کِسی غلط فہمی میں نہ رہیں پاکستانی عوام، سیاسی و عسکری قیادت سے مل کر بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ ہم میں آج بھی 1965ء والا جذبہ ہے ہر محاذ پر لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ بھارت ہماری امن کوششوں کو کمزوری نہ سمجھے ۔بھارت امن کے راستے میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری نے ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم بھارتی جارحیت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں صرف احتجاج کافی نہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے۔ مسئلہ کشمیر میں کشمیری بنیادی فریق ہیں کشمیریوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارتی فائرنگ سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔ بدقسمتی سے مودی سرکار امن نہیں چاہتی۔ بلااشتعال فائرنگ سے قیام امن کی کوششیں سبوتاژ ہوں گی اور خطے کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی قومی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی گزشتہ ایک برس سے زائد عرصہ سے جاری ہے، جس میں اب تک سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت بیسیوں شہری شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مودی سرکار دُنیا کو خاطر میں لائے بغیر خواہ مخواہ کی جنگ مسلط کرنا چاہتی ہے اور اسے یہ احساس بھی نہیں کہ یہ جنگ روایتی نہیں،بلکہ ایٹمی ہوگی جو بالآخر پوری دنیا کی تباہی پر منتج ہو سکتی ہے۔ بزدل،مکار اور کینہ پرور مودی سرکار کو اس حوالے سے کسی زعم میں نہیں رہنا چاہئے کہ جرّی و بہادر اور حربی صلاحیت و استعداد سے مالا مال افواج پاکستان دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کے لئے ہمہ وقت تیار اور چاک و چوبند ہیں اور بھارتی رعونت و عیاری کا افواج پاکستان کی جانب سے اتنا مسکت جواب ملے گا کہ اسے دن میں تارے نظر آجائیں گے اور مہابھارت کے سہانے سپنے اس کے لئے ڈراؤنا خواب بن جائیں گے۔

مزید : کالم