کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو انصاف دِلانا ہمارا فرض ہے

کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو انصاف دِلانا ہمارا فرض ہے
 کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو انصاف دِلانا ہمارا فرض ہے

  

یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے ایک منصفانہ اور باعزت موقف اختیار کرتے ہوئے بھارتی برہمن بنئے کو اس کی زبان میں جواب دیا ہے، چالاک اور بزدل ہندو نے کشمیر پر بات کرنا تو ایک طرف، پاکستانی نمائندے سے کشمیری بھائیوں کی صرف ملاقات بھی برداشت نہیں کی، یہ بھی بہت اچھا ہوا ہے کہ بھارت سے کشمیر پر بات کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، جسے وہ آرام سے مسترد کر کے اپنے تئیں سرخ رو بھی ہو جاتا، اور دُنیا سے بھی کہہ دیتا کہ ہم اپنے نام نہاد اٹوٹ انگ پر پاکستان سے بات کیوں کریں! اب گویا برہمن صاحب دو بھائیوں کا مصافحہ کرنا اور چائے پر اکٹھا ہونا بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں! یہ گھٹیا بات کمینگی سے کم نہیں، بھارتی لیڈر اب دُنیا سے مُنہ چھپانے پر مجبور ہوں گے! اِس ضمن میں سب سے پہلا جراأ مندانہ اور مستحسن قدم بھارت میں ہمارے سفارت کار عبدالباسط پاکستانی ہائی کمشنر نے اٹھایا تھا، جب انہوں نے حریت رہنماؤں کو اپنے پاس چائے پر بلایا تھا، اس پر بھی بھارت بہت سیخ پا ہوا تھا! پھر اقوام متحدہ میں میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان نے اپنے سے پہلے والے ’’بہادروں‘‘ کے برعکس زور دار الفاظ میں کشمیری آزادی پسندوں کی حوصلہ افزائی کی۔میری رائے میں ہم تمام پاکستانی قوم کو بیک آواز ہو کر عبدالباسط اور میاں نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان دونوں کو شاباش بھی دینی چاہئے!

روس کے شہر اوفا میں شاید میاں صاحب کشمیر کا ذکر نہیں کر سکے تھے، مگر نئی دہلی میں مذاکرات کے موقع پر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کا مطالبہ کر کے اور کشمیر پر بات کے بغیر مذاکرات پر وقت ضائع کرنے سے بھی صاف انکار کر کے انہوں نے پوری قوم کی ترجمان کی ہے! بھارت کے چالاک برہمن کی پرانی روش کو ٹھکرانا ہی حقیقت ہے! مسٹر مودی مذاکرات کا جھانسہ دے کر اپنا قد اونچا کرنے اور بھارت کے لئے سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کا کاروبار چلانے کی فکر میں تھا، مگر اس دھول سے موصوف کی تسلی ہو گئی ہے۔

جنرل اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں بھی میاں صاحب شریک ہوں گے۔ اس موقع پر بھی پوری جرأت و ہمت سے زور دار الفاظ میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی حمایت اور تائید کا اعلان کرنا چاہئے! وہ ہمارے بھائی ہیں اور کوئی بھائی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کا بھائی کسی ظالم کے پنجے میں آ کر کراہ رہا ہو اور وہ اس کی خاطر جان تک دینے کے لئے تیار نہ ہو؟ کشمیری مسلمان ہمارے بھائی ہیں، جو سو سال سے ہندوکے قبضے میں ہیں! ہم بھارت کی طرح صرف کشمیر کی زمین کے دعویدار نہیں، بلکہ اس کے باشندوں کی بھی حمایت کرتے ہیں! ہندو کو تو باشندوں سے کوئی غرض نہیں، بس صرف زمین کے ٹکڑے کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، جو سرا سر جھوٹ ہے، مگر ہندو اس جھوٹ کی رٹ لگاتے ہوئے نہ شرم کرتا ہے، نہ تھکتا ہے اور نہ ڈرتا ہے، بس اٹوٹ انگ کی رٹ لگائے چلا جاتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے!

ہم تو جانتے ہیں کہ کشمیری مسلمان ہمارے جسم اور جان ہیں، ہمارے بھائی ہیں، کشمیر ہمارے ان بھائیوں کا گھر ہے، اس لئے اپنے بھائیوں کی طرح ان کے گھر کی بھی حفاظت و حمایت کرتے ہیں، اس لئے ہمیں بھی یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے نہ ڈرنا چاہئے، نہ شرمانا، نہ تھکنا چاہئے، گھر ہمیشہ گھر والوں کا ہوتا ہے،کشمیر کشمیریوں کا گھر ہے، اس لئے کشمیر بھی صرف ان کا ہے! ہم اپنے بھائیوں کو ان کا گھر دِلا کے رہیں گے، کوئی چور یا ڈاکو اس پر قابض نہیں رہ سکتا!کشمیریوں سے انصاف کا وعدہ اقوام متحدہ نے کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ پاکستان نے اور بھارت کے جواہر لال نہرو نے بھی کر رکھا ہے، اس وعدہ میں تمام اقوام عالم شریک ہیں، لہٰذا یہ انصاف دِلانے کا وعدہ سب نے پورا کرنا ہے۔ پاکستان کو انصاف دِلانے کا یہ وعدہ سب کو یاد دلانا ہے، یہ ہمارا فرض ہے، یہ حق دلانے میں اب سو سال کی تاخیر ہو چکی ہے! اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے!اکیسویں صدی میں ایک غاصب حملہ آور اور سات لاکھ فوج سے یہ حق نہیں مار سکتا! کشمیریوں کو یہ حق دلانا سب پر واجب ہے! غاصب حملہ آور اور ظالم قابض سے یہ حق چھین لینے کا وقت ہے، اگر غاصب اٹوٹ انگ کی جھوٹی رٹ لگاتے ہوئے نہ تھکتا ہے نہ شرماتا ہے تو ہم اپنا حق مانگتے ہوئے کیوں ڈرتے ہیں!

مزید :

کالم -