مشرق وسطیٰ تبدیلیوں کی زد میں

مشرق وسطیٰ تبدیلیوں کی زد میں
 مشرق وسطیٰ تبدیلیوں کی زد میں

  

اسلامی خلافت اور ایران کی طرف سے ’’ممکنہ‘‘ خطرے کے پیش نظر سعودی عرب ’’نئے اتحادیوں‘‘ کی طرف حکمت عملی اختیار کررہا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں سعودی عرب نے ’’اخوان المسلمون ‘‘ اور اس سے وابستہ قائدین کی میزبانی کی جن میں تیونس کی انتہادہ پارٹی کے ریشہ گنوچی یمن کی اصلاح پارٹی کے مجید اور فلسطین سے حماس پارٹی کے خالد مشعال شامل ہیں۔ ان قائدین کا ریاض میں آنا تو بہت دور کی بات ہے۔ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب کو ان کا نام لینا یا سننا بھی گوارہ نہیں تھا سعودی عرب نے اخوان المسلمون کے خلاف مصر کی فوجی حکومت کی بھرپور امداد کی جس نے اخوان کے قائدین اور ورکرز کا قتل عام کیا تھا اورمارچ 2014ء میں سعودی عرب نے اس تنظیم کو ایک دہشت گردگروہ قرار دیا تھا۔۔۔۔لیکن بادشاہت کی تبدیلی کے بعد سعودی عرب کی پالیسیوں میں بھی واضح تبدیلی آئی۔ سلمان کے بادشاہ بننے کے بعد سعودی توپوں کا رخ صرف ایران کی طرف ہوگیا اور باقی سب انہیں دوست بنانے پڑے یا دوست دکھائی دینے لگے۔

یہ تبدیلی اس وقت واضح ہوگئی تھی جب اس وقت کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے سلمان کے بادشاہ بننے کے ساتھ ہی واضح طورپر کہا کہ، ہمیں اخوان المسلمون سے کوئی شکایت نہیں لیکن ان کے کچھ ارکان سے شکوہ ضرور ہے۔ عبداللہ کی بادشاہت کے دوران مسلم برادر ہڈ کی پالیسی اور جس طرز کی اسلامی حکومت وہ چاہتے ہیں جس میں عوام کی سیاست ہو، انتخابات کے ذریعے حکمرانوں کا انتخاب ہو، ظاہر ہے سعودی عرب کی بادشاہت کو ہضم نہیں ہورہی تھی کیونکہ یہ ان کے لئے ان کی بادشاہت کے لئے ان کے موج میلے کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔ شاہ سلمان قریب قریب اس وقت بادشاہ بنے جب ایران ایٹمی معاہدے کی تفصیلات طے کرنے پر رضامند ہوگیا تھا۔ مبصرین نے اس وقت کہا تھا کہ خطے میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ نہ صرف سعودی عرب میں بادشاہت تبدیل ہوئی ہے بلکہ پالیسیاں بھی تبدیل ہورہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی بڑی وجہ یمن میں ہوثی قبائل کی بغاوت تھی۔ جو زیدی قبیلہ کی ایک شاخ ہے جو شیعہ ہونے کی وجہ سے ایران کی شیعہ حکومت کے نزدیک ہیں بلکہ ان کا ایک حصہ سمجھے جاتے ہیں اور یمن کے بڑے حصے حتیٰ کہ پچھلے ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر بھی قابض ہوگئے تھے۔ اپنی سرحدوں پر یہ خطرہ سعودی عرب کے لئے کسی قیمت پر بھی قابل قبول نہیں تھا اور پھر ہم نے ’’متحدہ عرب فوج ‘‘کا قیام عمل میں آتے بھی دیکھا اور اب یمن میں صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔ سعودی عرب شروع ہی سے یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ہوثی قبائل کوایران کی مالی اور عسکری امداد اور حمایت حاصل ہے اور یمن میں جو جنگ جاری تھی اور ہے اسے تجزیہ نگار اندرونی خلفشار کی بجائے دوعلاقائی طاقتوں کی Proxy warقرار دیتے ہیں۔ یمن اور عراق میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور جنگی حالت شام میں صدر اسد کی حامی ایرانی حکومت اور باغیوں کی حمایت مغربی ممالک سب ایک ہی مسئلے کے مختلف رخ ہیں ۔ البتہ اتحادیوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، اور جنگ کبھی کم کبھی شدید ۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسرعماد شاہین جو عربی ہیں ان کے مطابق ’’مسلم برادرہڈ‘‘ کو ختم کرنے کی کوشش سے جو خلا پیدا ہوا اسے داعش نے پر کیا ہے، کیونکہ قدرت کا قانون ہے کہ کہیں بھی خلا رہ نہیں سکتا اور اب یہ مسلم برادر ہڈ سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہے ہیں ۔ اس حقیقت نے بھی سعودی عرب کو مجبور کیا ہے کہ ایسی صورت حال میں وہ سنی گروپ جو داعش کے خلاف اس کے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ان سے روابط قائم کئے جائیں،اس لئے ایران کے خلاف ان سے دوستی کی کوشش آسانی سے سمجھ آنے والی بات ہے۔ ان جماعتوں نے بھی جواباً یعنی مصر سے ’’مسلم برادر ہڈ‘‘ یمن سے اصلاح پارٹی اور فلسطین سے حماس نے عرب متحدہ فوج اور مغربی ممالک کی طرف سے یمن میں ہوثی باغیوں پر بمباری کی حمایت میں دیر نہیں کی۔ حالانکہ کچھ عرصہ پہلے ہی سعودی عرب نے ان ممالک میں ان گروہوں پر سختی اور ظلم کی حمایت کی تھی۔ آج کے دشمن کل کے دوست، کل کے دشمن آج کے دوست بن رہے ہیں اور یمن کی اصلاح پارٹی کے قائدین کی ریاض میں آمدورفت ایک معمول بن گیا ہے۔ سعودی عرب ایک زمانہ میں یمن کے موجودہ یا سابقہ صدر علی عبداللہ صالح کا زبردست حامی اور مددگار تھا۔

فلسطین سے حماس کے رہنما خالد مشعال کا دورہ سعودی عرب بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے پہلے سعودی عرب میں مقیم حماس کے آٹھ اہم رہنما گرفتار کرلئے گئے تھے۔ قریب اسی وقت جب عبداللہ کی بادشاہت تھی اور سعودی حکومت مصر کی حکومت کی حامی اور مددگار تھی۔ لیکن خالدمشعال کی آمد سے چند دن پہلے وہ تمام رہنما رہا کردیئے گئے تھے۔ اس پر ایران کے اخبارات میں خالد کے دورہ سعودی عرب اور ان رہنماؤں کے رہا کئے جانے پر تنقیدی مضامین بھی دیکھنے میں آئے، ایران یونیورسٹی کے World Studies کے ڈین محمد مرانڈی کے مطابق ایران کے لئے ایسا مسئلہ نہیں جس پر اظہار خیال بھی کیا جائے کیونکہ حماس کو سعودی عرب کی طرف سے کوئی امداد ملنے کا امکان نہیں ہے بلکہ اُنہیں ایران کی مدد کی ضرورت ہے اور ایران ان کی مدد کرسکتا ہے اس لئے حماس کے رہنما کا یہ دورہ سعودی عرب ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہی کے مطابق حماس میں بھی گروہ بندی موجود ہے اور ان کا عسکری ونگ ایران کے بہت نزدیک ہے اور یہ گہرے تعلقات برقرار رہیں گے جبکہ سیاسی امور کے شعبہ کے کچھ لوگ ریاض یعنی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حامی ہیںیہ لوگ شاید سعودی عرب کی حمایت میں کچھ کہہ دیں جبکہ حماس کی پالیسی یہی رہی ہے کہ خطے میں کہیں بھی کسی قسم کی کشیدگی ہو۔ اس کا حماس یا فلسطین کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسا شام کی خانہ جنگی میں حماس کا کردار غیرجانبدارانہ ہے۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مسلم برادر ہڈ کے قائدین کے دورہ سعودی عرب سے مصر میں ان کے خلاف جو ظالمانہ کارروائیاں ہورہی ہیں ان میں کمی ہوجائے اور کچھ نرمی کا برتاؤ شروع ہوجائے۔

تاریخی طورپر برادر ہڈ اور سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت کا انحصار سعودی عرب کی حکمت عملی پر رہا ہے۔ کبھی نرم کبھی گرم۔ مسلم برادر ہڈ ہمیشہ اپنے وجود کے برقرار رکھنے کے عمل سے گزرتی رہی ہے۔ مصر میں شاہ فارروق سے لے کر آج تک ہر دور ان کے لئے مشکلات کا دور رہا ہے، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ان کا کیا کردار ہوسکتا ہے یا ہوگا بڑا مشکل سوال ہے لیکن حماس کے قائدین اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات مشرق وسطیٰ کے مخصوص حالات میں ایک خوشگوار پیش رفت ہے لیکن جیسے پہلے کہا گیا کہ مستقبل کا انحصار سعودی حکمت عملی پر ہے جو ان کے مفادات کے تابع ہوگی ، یمن ، شام اور عراق کے حالات کے مطابق لیکن سعودی حکومت کے قریبی اتحادی مصر اور عرب امارات کا رویہ مسلم برادر ہڈ کے خلاف ہمیشہ جارحانہ رہا ہے، لیکن رویوں میں تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیبیا میں مسلم برادر ہڈ کی نمائندہ انصاف پارٹی جو ایک سیاسی شعبہ ہے ، نے مراکش میں دو متحارب گروہوں کے درمیان مذاکرات کرانے کا کردار ادا کیا ہے جن میں ایک طبروک میں قابض حکومت ہے اور تریپولی میں قابض حکومت جس میں جنرل خلیفہ علی شامل ہے جس نے لیبیا میں مسلم برادر ہڈ کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کررکھی تھی اور جنرل کو مصر اور عرب امارات سے فوجی امداد مل رہی تھی اور سعودی ہمدردیاں بھی جنرل کے ساتھ تھیں ،دوسری طرف شام میں حکومت مخالف گروہوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہے۔ جتنا وہ شامی حکومت کے خلاف لڑتے ہیں اس سے زیادہ وہ آپس میں برسر پیکار رہتے ہیں اور اپنے غیر ملکی اتحادیوں کی کوششوں کے باوجود اکٹھے ہوتے نظر نہیں آتے، نتیجہ شامی حکومت اور داعش دونوں طرف سے دباؤ میں ہیں، صدر اسد کے خلاف ترکی قطر اور سعودی عرب کی امداد شامل ہے، ترکی نے اب اپنے طورپر شامی حکومت کے خلاف اِن گروہوں اور تحریکوں کو متحد کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ سعودی عرب اس سے پیشتر ترکی کا کردار نمایاں ہونے کے خلاف رہا ہے لیکن اب اس نے ترکی کے نئے کردار پر خاموشی اختیارکرلی ہے کیونکہ اس کی ترجیحات میں صدر اسد کی مخالفت اور ایران کے اثرکو بڑھنے سے روکنا ہے جس میں ایک متحد اسد مخالف محاذ بھی موثر ثابت ہوسکتا ہے جس میں القاعدہ سے منسلک نصرامحاذ بھی شامل ہے، اس مجوزہ اتحاد کا نام ’’فتح کی فوج یا فاتح فوج‘‘ ہے جسے مغرب کی حمایت بھی حاصل ہوگی، القاعدہ کی حمایت مغرب کی طرف سے ’’بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ‘‘

دوسری طرف سعودی عرب کے اتحادی مصر کے فوجی سربراہ عبدالفتح سیسی کے ترجمان محمد حسنین ہیکل نے یمن اور شام میں حالیہ سعودی اقدامات کی بھرپور مخالفت کی ہے اور ایران اور حزب اللہ کی تعریف کی ہے یہاں تک کہ یمن کے ہوثی باغیوں کو قاہرہ میں ایک سیمیناراور نمائش کی اجازت بھی دی ہے جس میں سعودی حکومت کے فوجیوں کو ہوثی قبائل پر ظلم کرتے دکھایا گیا ہے۔ (مصر یمن میں ہوثی باغیوں کے خلاف متحدہ عرب فوج کا حصہ بھی ہے ) مسلم برادر ہڈ مصر کا مسئلہ ہے۔ مسلم برادر ہڈ کے لئے سعودی حکومت کا نرم گوشہ مصری صدر کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ اس کا مطلب مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی حمایت اور بحالی ہے۔ مستقبل میں عرب امارات بھی جو ابھی تک مصری صدر کی حامی ہیں اس کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں گی، لیکن مصری فوج کے اندر ان کا اثرورسوخ بدستوررہے گا کیونکہ مصری فوج کی مالی اور فوجی امداد عرب امارات کی طرف سے ملتی ہے۔ ایران کے خلاف سعودی حکمت عملی کا حصہ بن جانے کے بعد مسلم برادر ہڈ کو کیسے نوازا جاتا ہے ابھی واضح نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں صورت حال واضح ہوتی جائے گی مشرق وسطیٰ کے اندرونی حالات کے ساتھ ساتھ بھارت کے وزیراعظم کا عرب امارات کا دورہ اور اس سے پہلے عرب امارات کے ایک وفد کا دورہ بھارت بھی ان تبدیلیوں کا حصہ بن جائے گا؟ بہرحال یہ خطہ تبدیلیوں کی زد میں ہے، پاکستان ان سے کس حدتک متاثر ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے ،ہورہا ہے ، ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کواس پر گہری نظر رکھتی ہوگی کوئی بھی Loose Moveہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید :

کالم -