قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب اور بلدیاتی انتخابات، لاہور مرکز بن گیا

قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب اور بلدیاتی انتخابات، لاہور مرکز بن گیا

لاہور سے چودھری خادم حسین

الیکشن ٹربیونلوں کے فیصلوں کے بعد ملک کے سیاسی میدان میں جو ہلچل مچی اس کا زیادہ اثر لاہور میں ہوا۔ پہلے این۔ اے 125 کا فیصلہ آیا اور انتخاب کالعدم قرار دیا گیا خواجہ سعد رفیق رکن نہ رہے اس وقت وہ خود ضمنی انتخاب میں جانا چاہتے تھے لیکن قیادت کی ہدایت پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ جہاں سے ان کو حکم امتناعی مل گیا۔ اس کے بعد لاہور کی حلقہ 122۔ این اے کا فیصلہ آیا یہاں سے سابق سپیکر ایاز صادق جیتے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہارے تھے۔ ٹربیونل نے یہ انتخاب بھی کالعدم قرار دے دیا اس کے فوراً بعد لودھراں (این۔ اے 154) کا فیصلہ آ گیا آزاد حیثیت سے جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے کی ڈگری جعلی ثابت ہوئی اور یہ نتیجہ بھی کالعدم قرار دے کر انتخاب دوبارہ کرانے کی ہدایت کی گئی۔ یہاں سے مقابلہ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے کیاتھا۔

ان دو فیصلوں کے آنے کے بعد پہلے فیصلے کو شامل کر کے تحریک انصاف نے جشن منایا اور اسے سچ کی فتح قرار دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور میں باقاعدہ جشن کا اعلان کیا جس کے دوران ریلی بھی نکالنا تھی۔ تاہم بعد ازاں یہ ریلی (سیکیورٹی خدشات کی بناء پر ) ملتوی کر دی گئی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کیا وہ بڑے خوش اور مطمئن تھے اور اسی خوشی میں انہوں نے الیکشن کمشن کے چاروں صوبائی اراکین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں الیکشن کمشن کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ حلقہ این اے 122 اور 154 کا انتخاب 11 اکتوبر کو ہونا ہے جس کے لئے الیکشن کمشن نے شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔

ادھر ان فیصلوں کے اثرات کو وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) میں محسوس کیا گیا اور ایک سیاسی فیصلہ کر لیا گیا۔ جس کے تحت مسلم لیگ (ن) سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کے لئے رجوع نہیں کرے گی البتہ فیصلوں کے اثرات کے حوالے سے ریلیف کے لئے درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) نے ہر دو حلقوں سے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ لاہور سے حلقہ 122 سے ایاز صادق ہی مقابلہ کریں گے وہ اسلام آباد سے لاہور منتقل ہو گئے اور انہوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں علیم خان کو اُتارا ہے، پہلے یہاں سے خود عمران خان امیدوار تھے۔ اب یہ میدان بھی گرم ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں۔ تاہم اب لاہور تو اس ضمنی انتخاب کا میدان کار زار بن گیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی متوقع طور پر حلقہ 122 کے لئے امیدوار نامزد کر دیئے اور قومی اسمبلی کے لئے پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر عامر راجہ امیدوار ہوں گے۔ یوں مفاہمت کی سیاست سے دستبردار ہونے کے بعد یہ پہلا عمل ہے کہ پیپلزپارٹی بھی انتخابی میدان میں اتری ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ سخت مقابلہ ہوگا اور پیپلزپارٹی پھر سے اپنا پرانا رنگ جمائے گی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی لاہور آ رہے ہیں یہاں ایک ہفتے کے قیام میں وہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں اور تنظیمی امور کا جائزہ لیں گے۔

حکومت اور تاجروں کے درمیان بنک ٹرانزیکشن ٹیکس کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا اور اب تاجروں نے ملک بھر میں باقاعدہ تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ماضی میں دو دھڑے بن گئے تھے جس کے بعد ایک بڑے اجتماع میں ملک بھر کی تاجر تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک 36 رکنی سپریم کونسل قائم کی گئی تھی اس کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا ہے۔ اس سے پہلے لاہور میں انجمن تاجران پاکستان کا اجلاس ہوا تو پھر سے بابر اور نعیم میر کے دھڑے آمنے سامنے آ گئے تاہم کوئی فیصلہ نہ ہوا۔ نعیم میر اور محبوب سرکی کا اب بھی یہ موقف ہے کہ ٹیکس جمع کرانے میں حکومت کی معاونت ہونا چاہئے اور حکومت نے جو رعایت دی اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ تاہم دوسرے دھڑے کو یہ قبول نہیں تھا اب اسلام آباد میں سپریم کونسل نے فیصلہ کر دیا اور باقاعدہ تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے یہ سلسلہ 4 ستمبر سے شروع ہوگا اور مظاہروں سے شٹر ڈاؤن تک جائے گا۔ سپریم کونسل کا حتمی مطالبہ ہے کہ ٹیکس واپس لیا جائے۔آج ملک بھر میں احتجاجی کیمپ لگیں گے۔

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک نے بھی اپنا رنگ دکھایا اور ماڈل ٹاؤن سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ماڈل ٹاؤن میں مرکزی دفتر کے باہر اور ڈی چوک میں مظاہرے کئے۔ قائدین نے خطاب میں قصاص مانگا۔ منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ اور چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ بے گناہوں کا خون رنگ لائے گا۔ عوامی تحریک قصاص لئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ یہ اجتماع اور مظاہرہ پر امن رہا۔

پاکستان ہائیڈرو الیکٹریکل سنٹرل لیبر یونین واپڈا اور الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے میں سیکریٹری جنرل خورشید احمد کی قیادت میں کارکنوں کی بھاری تعداد نے لاہور پریس کلب کے باہر دھرنا دیا جس سے خورشید احمداور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا اور اعلان کہ نجکاری کا عمل مزدور دشمن ہے۔ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

لاہور اب انتخابات کے حوالے سے اہم سرگرمیوں کا مرکز بننے والا ہے۔ ابھی تو ابتدائی کام ہوا۔ بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے کاغذات نامزدگی کے بعد یہ سرگرمیاں عروج پر پہنچنا شروع ہو جائیں گی۔

مزید : ایڈیشن 1