خیبرپختونخوا میں ا ختیارات کی نچلی سطح منتقلی کاعمل مکمل ہوگیا،ناظمین نے حلف اٹھا لیا

خیبرپختونخوا میں ا ختیارات کی نچلی سطح منتقلی کاعمل مکمل ہوگیا،ناظمین نے ...

بابا گل سے

خیبر پختونخوا کے نو منتخب کونسلروں نے حلف اٹھانے کے بعد ضلع اورتحصیل ناظمین کا انتخاب کر کے 5 سال کے وقفہ کے بعد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ناظمین کی حلف برداری کے ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن تحلیل کر کے ٹاؤن سسٹم بحال کردیا گیا صوبے میں کونسلروں کی حلف برداری اور ناظمین کا انتخاب ایک ساتھ کیا گیا حتمی نتائج کے بعد خیبر پختونخوا کے 23 میں سے 10 اضلاع میں تحریک انصاف کی مقامی حکومتیں قائم ہوگئیں ان میں پشاور اور نوشہرہ کے اضلاع سر فہرست ہیں جماعت اسلامی 4 اضلاع میں اپنے ضلع ناظم منتخب کروا کر دوسرے نمبرپر رہی مسلم لیگ ن نے تین جبکہ پیپلزپارٹی اے این پی اور جے یو آئی دو دو اضلاع میں ا پنی حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوسکیں ارباب عاصم پشاور کے ناظم منتخب ہوئے ان کے انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف شدید اختلافات کا شکار ہی ارباب عاصم کے مقابلے میں یونس ظہیر کے حامیوں نے ارباب عاصم کی مخالفت میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی تاہم وزیر اعلی پرویز خٹک سمیت اہم شخصیات کی مسلسل کوششوں سے یونس ظہیر مد مقابل کے حق میں دستبردار ہوگئے لیکن اس کے باوجود 37 ارکان نے احتجاجا ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا دلچسپ بات یہ ہے کہ ضلع ناظم ارباب عاصم اور ٹاؤن ون کے ناظم زاہد ندیم یا سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی کے حامی نکلے اور ناظم ٹاؤن زاہد ندیم نے منتخب ہونے کے فوری بعد ضیاء اللہ آفریدی کے حق میں مظاہرہ بھی کیا ضیاء اللہ آفریدی اس وقت احتساب کمیشن کی حراست میں ہیں ان پر کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے ہیں مگر ضیاء اللہ آفریدی اور ان کے حامی کرپشن کے الزامات مسترد کر کے اسے انتقامی کاروائی قرار دے رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری وزیراعلی پرعائد کررہے ہیں اس طرح ضلع ناظم اورناظم ٹاؤن ون کا ضیاء اللہ آفریدی کا حامی ہونا وزیر اعلی کیلئے تشویش کا باعث بن سکتا ہے

بہر حال ناظمین کاانتخاب مکمل ہوتے ہی صوبے کے بعض دیگر اضلاع میں بھی انتخابی عمل کے دوران تحریک انصاف میں اختلافات کی خبریں آئی ہیں ناظمین کے انتخاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ موروثی سیاست کے خاتمے کے دعوئے کرنے کے باوجود کئی ناظمین پرانے سیاستدانوں کے بیٹے بھائی منتخب ہوئے وزیر اعلی پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نوشہرہ کے ناظم اعلی منتخب ہوئے شانگلہ سے ناظم بننے والے نیاز احمد وزیر اعظم کے مشیر امیرمقام کے صاحبزادے ہیں جو 25 سال کی عمر میں شانگلہ کے ناظم بنے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایم پی اے سمیع اللہ کے بھائی عزیزاللہ علیزئی ڈیرہ کے ناظم جبکہ سابق صوبائی وزیر سید علی شاہ کے بیٹے سید قائم شاہ ضلع پشاور کے نائب ناظم منتخب ہوئے ملاکنڈ میں پیپلزپارٹی کے سابق وزیر سید محمد علی باچا کے بھائی احمد علی شاہ ناظم بن گئے وزیر اعلی کے مشیر یاسین خلیل سابق صوبائی وزیر افتخار مومند کے بیٹے جاوید مومند بھی کامیاب ناظمین میں شامل ہیں اس طرح موروثی سیاست کے تحت کم سے کم 7 ناظمین و نائب ناظمین سامنے آئے انتخاب مکمل ہونے کے ساتھ ہی پشاور سمیت صوبے بھر میں زبردست آتشبازی اوررقص کرکے بھرپورجشن منایا گیا اس سے قبل صدرمملکت ممنوں حسین نے خیبر ایجنسی کا دورہ کیا طویل عرصہ کے بعد کسی صدرمملکت کایہ دورہ خیبرایجنسی تھا۔

صدر ممنوں حسین نے لنڈی کوتل میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے خیبر ایجنسی کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جس میں پلوں سٹرکوں کی تعمیر نو سکولوں کالجوں اور مراکز صحت سمیت انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے شامل ہیں صدر مملکت نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کیلئے قبائیلیوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں قبائلیوں نے جو مصائب برداشت کئے وہ بے مثال ہیں فاٹا سے دہشتگردوں کا صفایا کردیا گیا جبکہ اپریشن ضرب عضب اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے صدر مملکت کے دورے کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے جمرود میں پشاور طورخم شاہراہ کا افتتاح کیا یہ اہم ترین شاہراہ اقتصادی راہداری میں غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے مگر 14 سالہ افغان روس جنگ اوراس کے بعد ہولناک دہشتگردی کے نتیجے میں یہ اہم شاہراہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی اس سٹرک کے ذریعے روز انہ سینکڑوں کنٹینر اور دوسری گاڑیاں افغانستان اورسنٹرل ایشیاء کیلئے گزرتی ہیں پہاڑوں میں بل کھاتی اس شاہراہ کی تباہی سے کنٹینروں کاالٹ جانا اورقیمتی انسانی جانوں کو ضیاع کے علاوہ کروڑوں روپے کے سامان کا ضائع ہونا معمول بن چکا تھا اس شاہراہ کی تعمیر نو کیلئے امریکہ نے بھاری فنڈ جاری کئے تھے جس پر گزشتہ ایک عرصہ سے کام جاری تھاصدر مملکت نے فاٹا میں دہشتگردی کے خاتمے کا اعلان یا دعوی ایسے وقت میں کیا جب خیبرایجنسی سے پیوست پشاور میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے گزشتہ کئی ہفتوں سے پشاور صوابی مردان،چارسدہ ،بنوں اوردیگر اضلاع میں پولیس کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے جبکہ دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی قسم کا ا پریشن اور اس کے رد عمل کے نتیجے میں ممکنہ دہشتگردی کی کاروائی کو روکنے کیلئے خیبر پختون خوا خصوصا پشاورپولیس کی نفری ضرورت سے کئی گنا کم ہے جبکہ ان کے پاس موجودہ اسلحہ بھی دہشتگردوں کے پاس موجود اسلحہ سے انتہائی کم اورانتہائی غیر معیاری ہے ایسے حالات میں کراچی کی طرز پر آرمی کی نگرانی میں اپریشن کی ضرورت ہے مگرجمہوری حکومتیں آرمی طلب کرنے سے گریز کررہی ہے جسکا خمیازہ پولیس اورعوام بھگت رہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1