ملک دشمنوں کو ریاست ادائیگیاں کر رہی ہے ،ادارہ روکنے میں ناکام ،سپریم کورٹ

ملک دشمنوں کو ریاست ادائیگیاں کر رہی ہے ،ادارہ روکنے میں ناکام ،سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے طورخم بارڈر کے بارے میں کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں وفاقی حکومت ، ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر لیں جبکہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عدالت کو بتائے کہ ایف آئی اے ، کسٹم سمیت کئی اہم ملکی اداروں اور قوانین کو فاٹا اور قبائلی علاقوں تک تاحال کیوں وسعت نہیں دی گئی ہے۔ اس بارے بھی جواب پیش کیا جائے ۔ ایف آئی اے انسانی سمگلنگ ،منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات بارے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے ۔جبکہ تین رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ ملک دشمنوں کو ریاست ادائیگیاں کر رہی ہے جس کو روکنے میں ادارہ ناکام ہے ۔ملک جل رہا ہے حکومت قانون بنا کر بری الزمہ ہو گئی جبکہ قوانین کا نفاذ کرنے والے ادارے چین کی نیند سو رہے ہیں۔ دہشت گردی ، منشیات فروشی ، منی لانڈرنگ کے خلاف ہر سطح پر جنگ جاری ہے مگر قبائلی علاقوں تک موثر قوانین کو وسعت تک نہیں دی گئی ۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے دھماکہ خیز مواد سے بھر ے ہوئے ہیں اور فوج اس کے خلاف کارروائی کر رہی ہے مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے خلاف کارروائی کے قانون کو ان علاقوں تک عملداری بھی نہیں دی گئی ۔ انگور اڈا کو تاحال منظور شدہ تجارتی روٹ قرار نہیں دیا گیا ۔ گندم ، آٹا ، ڈیری فارم ، پولٹری افغانستان جا رہی ہیں ۔سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے ہماری کرنسی کو استحکام نہیں مل رہا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ اگر کوئی قبائلی علاقے میں بیٹھ کر سپریم کورٹ سمیت کسی بھی ادارے کو بم سے اڑانے کی دھمکی دے تو اس کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیئے ہیں ۔ چیف کسٹمز نے بتایا کہ چھوٹ دی جا رہی ہے اس میں کوئی بات غلط نہیں ہے ۔ طورخم بارڈر کے حوالے سے جو ایشو دکھایا گیا ہے مانیٹرنگ نہیں مشینیں سکرنینگ کے لئے نہیں سب ٹرکوں کی انٹری کی جاتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک شخص نے کہا کہ خالہ کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے جواب ملا نہیں ہو سکتی تو اس پر اس نے جواباً کہا کہ شادی ہو گئی چار بچے بھی ہیں آپ بطور چیف کسٹمز بتائیں کہ کیا ایف بی آر اپنے فرائض ادا کر رہا ہے اگر کچھ نہیں کیا جا رہا ہے تو کیوں؟چیف کسٹمزنے کہا کسٹم کے اپنے مسائل ہیں اینٹی گریڈٹ ٹریڈ سسٹم شروع کیا ہے ایف بی آر نے میٹنگ کی تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 18 ہزار کینٹینرز غائب ہوئے تھے ۔ خاطر خواہ مانیٹرنگ کا نظام نہیں تھا اگر آپ خود دیکھ کر آئے ہیں تو بتا دیں کہ آپ اس سارے معاملے کی کس طرح سے وضاحت کریں گے ۔ کسٹم اپنے وجود کی وضاحت کیسے کرے گا ۔ جسٹس فائز نے کہا کہ افغانستان سے اگر کوئی ہیروئن لاتا ہے وہ تو آپ چیک نہیں کرتے صرف ٹرکوں کو چیک کرتے ہیں ۔ ڈالرز ، افیون اور ہئروئن لائی جا سکتی ہے آپ کو پتہ ہے کہ افغانستان کیا چیز پیدا کرتا ہے ۔جو پاکستان لائی جاتی ہے ہم آپ پر الزام نہیں لگا رہے ہیں ہم ایک آزاد و خود مختار ریاست کی بات کر رہے ہیں جو 1947 کو آزاد ہوا اگر فری ٹریڈ ہے تو یورپ کی طرح سے کوئی چیک نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اور نیک نیتی سے کام کئے تو مسائل حل ہو جائینگے وگرنہ حالات خراب ہی ہوں گے ۔کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی۔ چمن بارڈر کی ر پورٹ آج چیمبر میں پیش کی جائے گی ۔

مزید : صفحہ اول