پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا تنازعہ، عقاب سرگرم!

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا تنازعہ، عقاب سرگرم!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

سیاسی منظر نامے میں جو یکایک تبدیلی نظر آ رہی ہے نہ تو یہ اچانک ہے اور نہ ہی اسے مستقل رہنا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری کے شدید بیان کے بعد یہی ہونا تھا اس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے کارکن عمومی طور پر اور عقاب خصوصی طور پر خوش ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عقابوں نے بھی وزیراعظم محمد نواز شریف کو دبائے رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

آصف علی زرداری کے بیان کو ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے جو قریباً تین ماہ سے حکام کے رابطے میں تھے اور ان کی گرفتاری اچانک نہیں بلکہ ان سے پہلے ہونے والی بات چیت کی روشنی میں ہوئی اور اب وہ تفتیش کاروں سے مکمل تعاون کر رہے ہیں اور جو معلومات ان کو درکار ہیں وہ دے رہے ہیں۔ ان کو نہ صرف کرپشن بلکہ سہولت کاری سے بھی جوڑا جا رہا ہے اور اسی بناء پر کہا گیا ہے کہ بات اوپر تک جائے گی۔ اس سلسلے میں کئی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں۔ اور ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ بات آصف علی زرداری کے گھر تک جا رہی ہے اس لئے ان کو پریشانی لاحق ہوئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے باغی دوست ذوالفقار مرزا کہتے ہیں کہ اگر کرپشن میں یہ حضرات پکڑے نہ گئے تو وہ تحریک چلائیں گے۔ یہ وہ ذوالفقار مرزا ہیں جن کا الزام ہے کہ آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نے ان کی شوگر ملز پر قبضہ کر لیا ہے، اس کی اصلیت سے آگاہ نہیں کرتے کہ یہ انہی کی تھی جو بے نامی ذوالفقار مرزا کے پاس تھی۔ اور پھر یہ ذوالفقار وہ ہیں جو کھلے بندوں لیاری گئے اور جلسہ کر کے لیاری گینگ وار والوں کو اپنا اور خود کو ان کا بتایا، اب یہ بھی کرپشن کے خلاف مہم چلائیں گے؟ ایسے ہی حضرات کی وجہ سے برائی کے خلاف کارروائی مشکوک ہوئی ہے کام کرنے والے اداروں کو ان سے علیحدگی کا اعلان ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی کارروائی اور تفتیش کو شفاف بنانے کے لئے عوام کو آگاہ رکھنا چاہئے۔

یہ بات بہر حال درست ہے کہ کراچی میں ہونے والے آپریشن کے بعد یکایک کرپشن کے خلاف کارروائی نے کئی سوالات پیدا کئے ہیں اور یہ سوال بہت سادہ ہے کہ کیا یہ سب جرائم صرف سندھ ہی میں ہیں، اس سے بہتر عمل تو یہ ہوتا کہ کرپشن کے خلاف متعلقہ ادارے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ کارروائی کرتے اور یہ بلا امتیاز ہوتی۔ اس سے پہلے خیبر پختون خوا میں ایک مثال قائم کی جا چکی کہ خود صوبے میں احتسابی ادارہ بنایا جس نے پارٹی وزیر کو بھی حراست میں لیا جہاں تک کرپشن کا سوال ہے تو اس کے حوالے سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ خود وہ حضرات جن کے خلاف الزام ہیں وہ کرپشن کے مقدمات کا سامنا کرنے کا اعلان کرتے ہیں، لیکن یہ کارروائی شفاف ہوتی نظر آنا چاہئے۔ یہ نہیں کہ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد ہدایت کر دی جائے کہ یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کو گرفتار نہ کیا جائے۔ گیلانی تو ملتان میں ہیں البتہ مخدوم امین فہیم شدید علیل ہیں۔ ان کی گرفتاری تو یوں بھی ممکن نہیں۔ ویسے نیب کو اپنے پاس زیر التوا ریفرنسوں پر کارروائی کرنا چاہئے اور مکمل کر کے عدالتوں کے سپرد کرنا چاہئیں اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔

اس پورے سین میں دیکھنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے اتحاد کو نا ممکن قرار دیا گیا خود عمران خان نے اعلان کر دیا اگرچہ انہوں نے آصف علی زرداری کے بیان کے بعض حصوں کی تائید کی ہے۔ البتہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ایک پیج پر آنے کے امکانات کا جائزہ ضرور لیا جا رہا ہے اور عبدالرحمن ملک اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں کہ زرداری الطاف ملاقات ہو جائے۔ اگر یہ دونوں جماعتیں اتحاد کرتی ہیں تو اس کے اثرات مختلف ہوں گے۔

اب ذرا غور کریں کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں کی کیا پوزیشن ہے یہ مفاہمت کی سیاست ختم ہونے پر خوش تو ہیں لیکن بلاول کی قیادت میں جدوجہد کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے مطابق دونوں سابق وزراء اعظم اور بعض وفاقی وزراء کے علاوہ پارٹی میں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے کہ کرپشن کے حوالے سے ان کی شہرت خراب ہے اور کارکن ان کی موجودگی میں ان کے خلاف الزام لگاتے رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ’’عقاب‘‘ بہر حال موقع سے مستفید ہونا چاہتے ہیں اس کے نتائج چاہے کچھ بھی ہوں کہ عوامی مطالبہ احتساب بلا امتیاز کا ہے اس کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ قومی اسمبلی میں زیر التوا احتساب کے نئے نظام کے لئے بل کی نوک پلک درست کرا کے اسے منظور کرایا جائے اگرچہ اتفاق رائے کا وقت گزار دیا گیا اس کے باوجود بل کی مخالفت مشکل ہو گی اور یہ آسانی سے منظور ہوگا اور ایک غیر جانبدار احتسابی ادارہ بن جائے گا ،جو خود مختار ہو گا اور یوں یہ مطالبہ بھی پورا ہوگا احتساب بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ۔

اب تو یہ دیکھنا ہے کہ ’’عقاب‘‘ کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ’’امن کی فاختہ‘‘ کی آس پوری ہوتی ہے۔؟

مزید : تجزیہ