سابق خاتون سیکرٹری ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے اقربا پر وری کی انتہا کر دی

سابق خاتون سیکرٹری ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے اقربا پر وری کی انتہا کر دی

لاہور( خبرنگار) سابق خاتون سیکرٹری ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود قریبی سہیلی کو وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی بنوانے کے لیے سمری وزیر اعلی کو بھجوا دی اقربا پروری کا راز کھلنے پر ڈاکٹر سارہ شاہد کے بطور وائس چانسلرآرڈرز کے بجائے وزیر اعلی نے چیرمین صوبائی ہائر ایجو کیشن کمشن کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے میرٹ پر وائس چانسلر لگانے کا اختیار دے دیا ہے سابق سیکرٹری ارم بخاری نے سہیلی کی چند ایک پبلی کیشنز کوفائل مکمل کرنے کے لیے درجن سے زائد ظاہر کر دیا وائس چانسلر کے لیے مطلوبہ ایڈمنسٹریشن کے تجربے سمیت مزید کئی شرائط نرم کر دیں۔ انکوائری صوبائی چیرمین ہائر ایجو کیشن کمشن کے پاس جانے کے بعد ہر حال میں وائس چانسلر لگنے کے لیے سارہ شاہد اور اسکے سفارشی ایک بار پھر متحرک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی سابق خاتون ہائرایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ ارم بخاری کی اقربا پروری کے باعث التوا کا شکار ہوگئی ہے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ چیرمین صوبائی ہائر ایجو کیشن کمشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین کو بھجوا دیا ہے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی سیٹ پروفیسر ڈاکٹر صبیحہ منصور کی 4سالہ مدت ختم ہونے کے باعث کچھ عرصہ سے خالی ہوگئی تھی جس پر ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے بذریعہ اشتہار امیدواروں کو اپلائی کرنے کی دعوت دی اور2 امیدوار پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر( سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی) اور سارہ شاہد( سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی) کو فائنل کر کے سابق سیکرٹری ارم بخاری نے اقربا پروری کی انتہا کرتے ہوئے پہلا نام سمری میں اپنی قریبی سہیلی سارہ شاہد کا اور دوسرا نام پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر کا بھجوا دیا جبکہ قریبی سہیلی سارہ شاہدکی چند ایک ریسرچ پبلی کیشنز کو جو کہ انٹر نیشنل امپیکٹ فیکٹر میگزینز میں بھی شائع نہیں ہوئیں کو درجن سے زائد بنا دیا جبکہ مد مقابل امیدوار کی درجنوں انٹر نیشنل امپیکٹ فیکٹر میگزینز میں شائع ہونے والی ریسرچ پبلی کیشنز کو نظر انداز کر دیا گیا وائس چانسلر شپ کے لیے سہیلی کی خاطر تجربہ سمیت دیگر شرائط کو بھی نظر انداز کر تے ہوئے ڈاکٹرسارہ شاہد کی فائل مکمل کر دی تاکہ وہ آسانی سے وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی بن جائے ڈاکٹرسارہ شاہد کے آرڈرز بطور وائس چانسلر ہونے لگے تھے کہ ارم بخاری کی اقربا پروری کی کہانی زبان زد عام ہوگئی اور وزیراعلی سیکرٹریٹ تک پہنچ گئی جس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے معاملہ انکوائری کے لیے چیرمین صوبائی ہائر ایجو کیشن کمشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین کو بھجوا دیا تاکہ وہ فیصلہ کریں کہ کونسا امیدوار لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کے لیے اہل ہے تاکہ اسے میرٹ پر جلد تعینات کیا جائے جس پر تاحال ابھی تک چیرمین صوبائی ہائر ایجو کیشن کمشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین نے فیصلہ نہیں کیا ہے تعلیمی حلقوں نے میرٹ پر وائس چانسلر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے

مزید : علاقائی