کینٹ ڈویژن پولیس جرائم پر قابو پانے میں ناکام ،دو ماہ میں 2596 مقدمات درج

کینٹ ڈویژن پولیس جرائم پر قابو پانے میں ناکام ،دو ماہ میں 2596 مقدمات درج

لاہور( بلال چودھری )کینٹ ڈویثرن پولیس جر ائم پر قا بو پا نے میں مکمل طور پر نا کا م ہو گئی ۔ تفصیلات کے مطابق کینٹ ڈویثرن میں صرف گزشتہ دو ماہ جولائی اور اگست کے دوران2596مقدمات درج ہوئے اور انویسٹی گیشن پولیس کو سونپے گئے۔ان مقدمات میں صرف سرور روڈ سرکل کے ہی 357 مقدمات تھے جبکہ سرکل میں ڈکیتی مزاحمت و قتل کی 3 اور بد اخلاقی کی 1واردات ہوئی ۔ ڈویثرن میں ڈکیتی ،راہزنی،کار چھیننے ،موٹر سائیکل ڈکیتی ، کار چوری کی 400کے قریب وارداتیں ہوئیں ۔ انو یسٹی گیشن پولیس اعلیٰ حکام کو مطمئن کرنے کیلئے لفظوں کے ہیر پھیر میں الجھی ہوئی ہے ۔ 2596 مقدمات میں سے 2084مقدمات کا پولیس نے چالان عدالت میں پیش کیا جن میں 27مختلف وارداتوں میں مطلوب گینگز کے 62ممبران کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ 512مقدمات تاحال حل نہیں کیے جا سکے ۔ کینٹ ڈویژن میں موجودڈیفنس سی ،فیکٹری ایریا ،ساؤتھ کینٹ ،برکی ،باغبانپورہ ،مناواں ،باٹا پور اور غازی آباد کے تھا نو ں میں جرائم کی بھرمار ہے جبکہ تفتیشی افسرا ن کا غذ ی کا رروا ئی میں مصرو ف رہتے ہیں ۔ ایسے تھا نوں میں پہلے نمبر پرباغبانپورہ ،دو سرے پرغازی آباد ،تیسرے پرفیکٹری ایریا جبکہ ساؤتھ کینٹ چوتھے نمبر پر آتاہے ۔معلوم ہواہے کہ ایس پی انویسٹی گیشن و آپریشن آفس کینٹ دویثرن میں پولیس اہلکاروں و افسران نے کئی اے سی لگا رکھے ہیں ۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے اہل علاقہ نے بتایا کہ نچلے رینک کے پولیس اہلکاروں کو کمروں میں اے سی لگانے کی اجازت نہیں ہے لیکن تھانہ میں 7 سے 8کے قریب اے سی لگے ہوئے ہیں جن میں سے کئی ونڈو اے سی ہیں جو کہ سراسر خلاف قانون ہے ۔پولیس حکام اس حوالے سے ایکشن لیں۔روزنامہ "پاکستان" کی جانب سے کیئے جانے والے سروے کے مطابق تھانہ باغبانپورہ اورغازی آباد کے علا قہ میں پیشہ ورعورتیں پو لیس اہلکا رو ں کے تعاون سیدرواغہ والہ ،نیا پل ،بٹ چوک ،مومن پورہ اور ان کے اردگرد علاقوں میں آ جاتی ہیں اور ہر آنے جا نے والے کو سر عام دعو ت گنا ہ دیتی نظر آتی ہیں ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ میں گھر سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں کو گھیر نے والے کئی گروہ متحرک ہیں ان لڑکیوں کو بعد ازاں ڈیفنس میں قائم قحبہ خانوں کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فیکٹری ایریا ،ڈیفنس ،غازی آباد اور باغبانپورہ کے علاقوں میں قحبہ خانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ دوسری طرف تھانوں میں آنے والے سائلین نے بتایا کہ انو یسٹی گیشن پولیس ان سے تعاون نہیں کرتی او ر کئی ماہ سے وہ تھانوں کے چکر لگا رہے ہیں پولیس اہلکار کارروائی کیلئے رشوت مانگتے ہیں اور ان کورقم فراہم نہ کرنے پر ان کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم پولیس افسران کو اس حوالے سے بتائیں تو وہ مذکورہ اہلکاروں کے خلاف انکوائری کرنے کی یقین دہانی کروا کے معاملہ کو رفع دفع کروا دیتے ہیں ۔ کینٹ ڈویثرن میں غازی آباد ،باغبانپورہ ،ہڈیارہ ،برکی ،مصطفیٰ آباد اور ہربنس پورہ کے تھانے منشیات فروشی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ان تھانوں کی حدود میں کسی بھی مشہور چوک یا محلہ سے چرس ،شراب اور ہیروئن تک آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔اس حوالے سے ایس پی انو یسٹی گیشن کینٹ ڈویثرن محمد اسماعیل کھاڑک سے رابطہ کیا گیا تو ان کے ریڈر محی الدین کا کہنا تھا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں ان سے بات نہیں ہو سکتی ۔جبکہ ڈی ایس پی احسن گوندل سے اس حوالے سے ملاقات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تعیناتی کے بعد سرکل میں جرائم کی شرح کم ہوئی ہے اور انویسٹی گیشن پولیس کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے ۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہم نے کئی سرچ آپریشن کئے ہیں جس میں کئی جرائم پیشہ اور شر پسند عناصر کا قلع قمع کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی