سی این جی مالکان کم قیمتوں کوبرداشت نہیں کر سکتے،شجاع انور

سی این جی مالکان کم قیمتوں کوبرداشت نہیں کر سکتے،شجاع انور

لاہور( خبرنگار) آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چئیرمین کیپٹن (ر) شجاع انورنے کہا ہے کہ حکومت نے یکطرفہ طور پرقدرتی گیس کی قیمتیں بڑھا کر سی این جی کے کاروبار کوناقابل عمل بنا دیا ہے۔ ایک طرف گیس کی قیمتیں بڑھا کر صورتحال کو مزید مشکل بنادیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف سی این جی کی قیمت مزید کم کر دی گئی ہے جس سے سی این جی مالکان پردہرا بوجھ آ ن پڑا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے۔اوگرا اور وزارت پٹرولیم نے تین سال سے سی این جی کی نئی قیمتوں کے تعین کے معاملہ کو لٹکا رکھا ہے جبکہ قیمتوں کا حالیہ اعلامیہ غیر قانونی ہے کیونکہ اوگرا سال میں صرف دو بار یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیمتیں بڑھنے کا مجاز ہے۔کیپٹن شجاع انورنے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گیس کمپنیوں میں آئل سیکٹر کے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو گیس بحران کے ذمہ دار ہیں۔ سوئی ناردن گیس کمپنی پنجاب میں سی این جی کیلئے آئے دن آر ایل این جی کی قیمت تبدیل کرتی ہے جو غیر قانونی اور شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ کوئی بھی کاروبار صرف حکومت کو محاصل جمع کر کے دینے کیلئے نہیں چلایا جا سکتا اسلئے سی این جی صنعت سے بھی اسکی توقع نہ کی جائے۔ آر ایل این جی کی قیمت کو معقول کیا جائے تاکہ اس پراجیکٹ کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پٹرول کی عالمی قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے اور گیس کی قیمت تیل کی قیمت سے منسلک ہے اسلئے اسکی قیمت بھی کم کی جائے۔و وزارت پٹرولیم کو کئی بار آر ایل این جی کی قیمت کم کرنے کا پروپوزل دیا گیا ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پی ایس او اور گیس کمپنیاں ایل این جی کی درامد اور سپلائی چین کے دوران غیر قانونی اور غیر ضروری اخراجات وصول کر رہی ہیں جس سے اسکی قیمت بڑھ رہی ہے۔ غیر ضروری چارجز کو ختم کیا کم کیا جائے تاکہ سی این جی کی صنعت قائم رہ سکے اور عوام کو پٹرول کے مقابلہ میں سستا اور ماحول دوست ایندھن میسر آئے۔ ڈالر 104 روپے کی سطح تک آ گیا ہے جسکے اثرات کی روشنی میں ایل این جی کی قیمت، گیس اور آئل کمپنیوں کے چارجز میں مزید کمی ضروری ہو گئی ہے۔

مزید : صفحہ آخر