معذور شخص کوپھانسی دینا یانہ دینا سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈاکٹر کا صوابدیدی اختیار ہے،ہائیکورٹ

معذور شخص کوپھانسی دینا یانہ دینا سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈاکٹر کا صوابدیدی ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب حکومت کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ٹانگوں سے معذور قیدی کو وہیل چیئر استعمال کرکے بھی پھانسی دی جا سکتی ہے جس کے بعد عدالت نے ٹانگوں سے معذور سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کی پھانسی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیماری میں مبتلا اور جسمانی حالت بہتر نہ ہونے کی بنیاد پر پھانسی دینا یا نہ دینا سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈاکٹر کا صوابدیدی اختیار ہے۔مسٹرجسٹس انوار الحق کی سبراہی میں دو رکنی بنچ نے سزائے موت کے قیدی عبدالباسط کی والدہ نصرت پروین کی بیٹے کی پھانسی کیخلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی وکیل بیرسٹر سارہ بلال نے موقف اختیار کیاکہ عبدالباسط کو اوکاڑہ کے شہری آصف ندیم کے قتل میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے ،فیصل آباد جیل انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے عبدالباسط ٹانگوں کے فالج کے مرض میں مبتلا ہے مگر اس کے باوجود اسے پھانسی دینے کیلئے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں، ٹانگوں سے مفلوج قیدی کو پھانسی انسانی حقوق اور جیل قوانین کی دفعہ 362 کی خلاف ورزی ہے،انہوں نے بنچ کو آگاہ کیا کہ قانون سازوں نے جیل قوانین میں یہاں تک لکھا ہے کہ اگر سزائے موت کا کوئی قیدی سیگریٹ نوشی کرتا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ اس قیدی کوجیل میں پانچ سیگریٹ فراہم کرے مگر قوانین میں معذور اور مفلوج قیدیوں کے حوالے سے کچھ نہیں لکھاگیا، اگر قانون مبہم ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے ،محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ناصر چوہان نے بنچ کو بتایا کہ جیل قوانین کی دفعہ 350اور 356 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت ٹانگوں سے معذور قیدی کو بھی پھانسی دی جاسکتی ہے، ایک قیدی مقبول حسین کا معاملہ بھی معذوری کی بنیاد پر سامنے آیاتھا مگر لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی معذوری کی بنیاد پر پھانسی نہیں روکی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ مذکورہ دفعات کے تحت وہیل چیئر استعمال کرتے ہوئے بھی سزائے موت کے قیدی کو پھانسی دی جا سکتی ہے ، فاضل بنچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عبدالباسط کی پھانسی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے جیل ڈاکٹر یا سپرنٹنڈنٹ جیل کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ جیل قوانین کے مطابق بیماری میں مبتلا اور جسمانی حالت بہتر نہ ہونے کی بنیاد پر پھانسی دینا یا نہ دینا سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈاکٹر کا صوابدیدی اختیار ہے۔

مزید : صفحہ آخر