’’پنجاب سٹیز گورننس امپرومنٹ پراجیکٹ‘‘سست روی کا شکار

’’پنجاب سٹیز گورننس امپرومنٹ پراجیکٹ‘‘سست روی کا شکار

لاہور(محمد نواز سنگرا) ورلڈ بنک سے 16ارب روپے کی خطیر رقم کا قرض لے کر پنجاب کے 5بڑے شہروں میں گورننس کا نظام بہتر بنانے اور سروس ڈلیوری کے منصوبے کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آسکے ۔ پنجاب حکومت نے ورلڈ بنک سے قرضہ لیکرپنجاب کے5بڑے شہروں لاہور،فیصل آباد، گوجرانوالہ، روالپنڈی اور ملتان میں گورننس کا نظام مضبوط بنانے کیلئے ’’پنجاب سٹیز گورننس امپرومنٹ پراجیکٹ‘‘کے نام سے منصوبہ شروع کیاتھا۔قرض کی منظوری دسمبر2012میں ہوئی تھی جس پر کام فروری2013میں شروع کیا گیا ،پراجیکٹ کو 5برسوں میں مکمل کیا جانا ہے جس کے مطابق 2017میں منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جانا ہے جس کے حوالے سے 31اگست اور یکم ستمبر کو فلیٹیز ہوٹل میں ایک ورکشاپ کا اہتما م بھی کیا گیا جس میں ورلڈ بنک کے نمائندوں نے شرکت کی اور گزشتہ برسوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مالی سال 2015-16کیلئے سیٹ کیے جانیوالے اہداف کا بھی جائز ہ لیا گیا۔ورکشاپ کے دوران،سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹس،واسا اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے افسران نے بریفنگ دی۔پانچوں شہروں میں سروس ڈلیوری اور گورننس کی بہتری کیلئے تمام شہروں کا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، لوکل گورنمنٹس اور واسا سٹیک ہولڈر ز ہیں جنہوں نے منصوبے کیمطابق امور کو بہتر بنانا ہے جس حوالے سے ورکشات میں شریک مختلف محکموں اور ورلڈ بنک کے نمائندوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کام کی سست رفتاری کی وجہ سے منصوبے میں کئی کوتاہیاں نظر آئی ہیں جن کو ختم کرنے کیلئے بریفنگ دی گئی ہے تاکہ 16ارب 3کروڑ44لاکھ کی خطیر رقم سے پانچوں شہروں میں گورننس کا نظام اور ڈلیوری سروسز کو بہتر بنایا جا سکے جس پر ورلڈ بنک کے نمائندوں کو بھی تعاون میں لیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر