حکومتی عہدیدار بین الاقوامی قرضوں سے عیاشی کرتے ہیں،منظور وٹو

حکومتی عہدیدار بین الاقوامی قرضوں سے عیاشی کرتے ہیں،منظور وٹو

لاہور(نمائندہ خصوصی)صدر پیپلز پارٹی پنجاب، میاں منظور وٹو نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی کو اونٹ کے منہ میں ذیرے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوگرا نے 12 روپے فی لیٹر کمی کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے صرف 3 روپے کمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بات جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے ان قیمتوں میں کمی کو موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 40 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوئی ہیں لیکن افسوس کہ حکومت ان فوائد کو عوام کو منتقل کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ داروں اور اشرافیا کو ایس آر اوزکی شکل میں اربوں روپے کی سبسڈی قومی خزانے سے دیتی ہے لیکن غریبوں کے لیے اسکی کنجوسی کی کوئی حد نہیں کیونکہ یہ انہیں ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے کے درپہ رہتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حالیہ گیس میں ظالمانہ ڈیوٹی کے نفاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے تا کہ حکومت کو اگلے قرضے کی قسط مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قرضوں سے حکومتی عہدیدار، نوکر شاہی اور انکی سرمایہ دار برادری عیاشی کرتے ہیں جبکہ اسکی سزا غریب آدمی اور کاشتکار کو مزید ٹیکسوں کی شکل میں دی جاتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر