مبینہ طورپر خنزیر کے گوشت کی برآمدگی کی کہانی میں نیا موڑآگیا

مبینہ طورپر خنزیر کے گوشت کی برآمدگی کی کہانی میں نیا موڑآگیا
مبینہ طورپر خنزیر کے گوشت کی برآمدگی کی کہانی میں نیا موڑآگیا

  

لاہور،راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور میں مبینہ طور پر خنزیر کا گوشت برآمد ہونے کی کہانی میں نیا موڑآگیاہے اور ٹرین پر گوشت بک کرانیوالے شخص کا دعویٰ ہے کہ یہ گوشت حلال اور کلیجی کیساتھ موجود بڑے جانور کے لبلبے کا ہے اورا س کا کھانے سے کوئی تعلق نہیں ، یہ لیدر انڈسٹری کیلئے ہے ۔

ریلوے سٹیشن کے قریب محکمہ لائیوسٹاک اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مشترکہ چھاپے کے دوران ڈرموں میں موجود گوشت برآمد ہواتھا جس کے بعد بتایاگیاتھاکہ حرام جانور کے گوشت کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ ماراگیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی سے گوشت بھیجنے والے توصیف کاکہناہے کہ وہ بیس سال سے سہالہ سلاٹر ہاﺅس میں کام کررہے ہیں ،سب انہیں جانتے ہیں اور یہ بڑے جانور کے لبلبے کا گوشت ہے ، اس سے چمڑے کیلئے کیمیکل بنتاہے تاہم کھانے سے کوئی تعلق نہیں ۔

گوشت برآمدگی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے موقف سے متعلق تفصیلی خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔ 

توصیف نے بتایاکہ وہ ہرہفتے رات کے وقت خیبرمیل میں یہ گوشت بک کراتے ہیں اور علیٰ الصبح لاہور میں اشفاق احمد وصول کرتاہے لیکن آج پہلی دفعہ پکڑاگیا اورضروری کاغذات جلدہی مہیا کردیئے جائیں گے جبکہ رپورٹ بھی آجائے گی ۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کسی ہمدردی کے مستحق نہیں اور ایسے عناصر کی جگہ جیل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو تمام ضروری اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرنے کی ہدایت کی ۔

مزید : لاہور /اہم خبریں