ریٹائرڈ ججوں ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل سے ہیڈ کانسٹیبل واپس لینے کی پالیسی جاری

ریٹائرڈ ججوں ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل سے ہیڈ کانسٹیبل واپس لینے کی پالیسی ...
 ریٹائرڈ ججوں ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل سے ہیڈ کانسٹیبل واپس لینے کی پالیسی جاری

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب پولیس نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججوں اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کے ساتھ نائب کورٹ کے طور پر تعینات ہیڈ کانسٹیبلز کو واپس بلا لیا ہے ۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کے ساتھ تعینات ہیڈکانسٹیبلز کی واپسی کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ایسا ایڈووکیٹ جنرل آفس میں ڈی ایس پی لائزن سیل سے کمرہ واپس لینے کی بنا پر کیا گیا ہے ۔ایڈووکیٹ جنرل آفس میں ہائیکورٹ لائزن سیل قائم ہے جہاں عدالت عالیہ میں ریکارڈ پیش کرنے سے قبل پنجاب بھر کی پولیس کے تفتیشی افسران فائلیں چیک کرواتے ہیں تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران پولیس ریکارڈ کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ آ سکے،ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس میں لاءافسروں کی تعداد بڑھنے کے بعد ڈی ایس پی لائزن افضل نذیر سے کمرہ واپس لے لیا گیا جبکہ ایس پی لائزن عمران کشور کا ایڈووکیٹ جنرل آفس میں دفتر موجود ہے ۔ذرائع کے مطابق ان کا دفتر بھی خالی کروایا جارہا ہے جس پر ایس پی عمران کشور نے مبینہ طور پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کو دیئے گئے 20 نائب کورٹس واپس پولیس لائن بھجوانے کا حکم جاری کروا دیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے نائب کورٹ حضرات کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اپنے اسسٹنٹ ایڈووکیٹس سے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے اعلی ٰ پولیس حکام سے کوئی بات نہیں کریں گے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب کورٹ حضرات کو نئی پالیسی کے تحت واپس بلایا گیا ہے تاہم سی سی پی او لاہورامین وینس نے وقتی طور پر نائب کورٹس کو ایڈووکیٹ جنرل آفس میں ہی رکنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : لاہور