آپ کا پرانا فون آپ کی سوچ سے بھی زیادہ قیمتی ہے، سائنسدانوں نے پرانے فونز کا ایسا استعمال ’ایجاد‘ کرلیا کہ آپ کبھی بھی اسے بیچیں گے نہیں بلکہ۔۔۔

آپ کا پرانا فون آپ کی سوچ سے بھی زیادہ قیمتی ہے، سائنسدانوں نے پرانے فونز کا ...
آپ کا پرانا فون آپ کی سوچ سے بھی زیادہ قیمتی ہے، سائنسدانوں نے پرانے فونز کا ایسا استعمال ’ایجاد‘ کرلیا کہ آپ کبھی بھی اسے بیچیں گے نہیں بلکہ۔۔۔

  

ایڈنبرا(نیوزڈیسک)جیسے ہی سونے کا ذکر آئے توجیولری،سکوں اور حتیٰ کہ سونے کے دانت کا بھی خیال آتا ہے تاہم سونے کی ایک بڑی مقدار ہرسال انتہائی منفرد ذریعہ سے بھی حاصل کی جاتی ہے اور وہ ذریعہ ہے پرانے موبائل فونز۔جی ہاں، پرانے موبائل فونزآپ کے تصور سے بھی زیادہ قیمتی ہیں،ایسے قیمتی کہ آپ اسے کبھی بھی فروخت نہ کریں گے۔کچھ عرصہ قبل تک ناکارہ موبائل فونز سے سونا حاصل کرنے کا طریقہ انتہائی خطرناک تھا تاہم اب ایک نئی تکنیک سامنے آئی ہے جس میں سادہ سے کیمیکل کو استعمال کرتے ہوئے اربوں مالیت کے سونے کی ایک بڑی مقدار کو آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر جیسن لو ،جو اس تحقیق کی قیادت کررہے ہیں،کا کہنا ہے کہ پہلے سائنائیڈ اور پارے جیسے انتہائی زہریلے کیمیکل کا استعمال کرکے سونا نکالا جاتارہا ہے۔ یہ نہ صرف انتہائی خطرناک عمل ہے بلکہ سونا نکالے جانے کے بعد اس سے زہریلے کیمیکلز کی باقیات جڑی رہتی تھیں۔انہوں نے کہا یونیو رسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے سونا نکالنے کا ایک نیا عمل تیار کر لیا ہے جس میں وہ زہریلے کیمیکل استعمال نہیں ہو تے اور اس طریقے سے سونا زیادہ مقدار میں نکلتا ہے۔

31 سالہ حاملہ خاتون اچانک نابینا ہوگئی، ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے ایک ایسی عادت کو ذمہ دار قرار دے دیا جو ہم میں سے اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے، جان کر آپ بھی توبہ کرلیں گے

پروفیسر ’لو ‘کا کہنا تھا کہ ہم اس دریافت پر بہت پرجوش ہیں،خصوصا اس لئے کہ ہماری سائنسی تحقیق نہ صرف معاشی فوائد کی حامل ہے بلکہ اس سے معاشرے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس عمل میںسرکٹ بورڈ کے تمام دھاتی حصوں کو تحلیل کرنے کیلئے ہلکے تیزاب میں ڈالاجاتا ہے،بعدازاںایک ایسا تیل جو کہ کیمیائی کمپاﺅنڈ پر مشتمل ہے کو اس عمل میں شامل کیا جاتا ہے جو صرف سونے کو الگ کردیتا ہے۔انہوں نے کہا محققین کو امیدہے کہاس طریقہ کار پر عمل سے ضائع شدہ اشیا سے سونا نکالا جا سکے گا جو کہ سونے کی کان کنی سے ماحوال کو ہونے والے نقصان سے بچاﺅ کا بھی سبب بنے گا۔انہوں نے کہاکئی کمپنیوں نے اس معاملے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور ابھی ہم اس شعبہ سے منسلک لوگوں سے تعاون کررہے ،بہرحال ابھی یہ ابتدا ہے۔

خیال رہے کہ اس دریافت سے تین سو ٹن سونا ان الیکٹرونک آلات سے نکالا جا سکے گا جو ہر سال مختلف ڈیوائسزبشمول موبائل فونز،ٹی وی،کمپیوٹرز میں استعمال کیا جاتا ہے،واضح رہے کہ دنیا کے کل سونے کا سات فیصد الیکٹرونک ڈیوائسز میں استعمال ہو جاتا ہے۔بالخصوص موبائل فونز کے سرکٹ میں یہ قیمتی دھات سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس