بچے اور بچیاں انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہیں، دونوں کی عادت میں کیا فرق ہے؟ پہلی مرتبہ تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا، وہ بات جو والدین کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

بچے اور بچیاں انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہیں، دونوں کی عادت میں کیا فرق ہے؟ پہلی ...
بچے اور بچیاں انٹرنیٹ پر کیا دیکھتے ہیں، دونوں کی عادت میں کیا فرق ہے؟ پہلی مرتبہ تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا، وہ بات جو والدین کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

  


نیویارک (نیوز ڈیسک)ایک وقت تھا کہ نوعمر بچے اپنا فارغ وقت ٹی وی دیکھ کر اور کھیل کود کرکے گزار لیا کرتے تھے مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ آج کے بچے انٹرنیٹ پر پل بڑھ رہے ہیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ آن لائن گزارتے ہیں۔ لڑکے ہوں یا لڑکیاں دونوں میں انٹرنیٹ کے استعمال کا رجحان یکساں پایا جاتاہے، لیکن انٹرنیٹ میں ان کی دلچسپی ایک دوسرے سے قدرے مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ اہم انکشاف کیسپر سکائی لیب اور آئیکون کڈز اینڈ یوتھ کی جانب سے کئے گئے ایک حالیہ سروے ”گروئنگ اپ آن لائن۔ کنیکٹڈ کڈز“ میں کیا گیا ہے۔

ایمریٹس 247 کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ 8 سے 16 سال عمر کے لڑکے اور لڑکیاں انٹرنیٹ پر مختلف قسم کی چیزیں ڈھونڈتے ہیں لہٰذا والدین کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے بچے انٹرنیٹ پر کیا ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ وہ ان کی حفاظت کے لئے مناسب اقدامات کرسکیں۔ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوعمر لڑکے عموماً کمپیوٹر اور گیم کنسولز میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ نوعمر لڑکیاں انٹرنیٹ کے استعمال کے لئے زیادہ تر سمارٹ فون استعمال کرتی ہیں۔ لڑکے کمپیوٹر گیمز میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس لڑکیاں سوشل نیٹ ورکس اور انسٹنٹ میسنجر وغیرہ کے ذریعے سماجی تعلقات استوار کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔

’اگر اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام کریں‘ ماہر نفسیات نے والدین کو انمول مشورہ دے دیا

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے حوالے سے والدین کے لئے یہی سب سے اہم بات ہے کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی بیٹیاں انٹرنیٹ پر کن لوگوں سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مشکوک افراد اور خصوصاً جنسی جرائم کے عادی لوگ سوشل نیٹ ورکس اور میسنجرز کے ذریعے نوعمر لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کا اعتماد حاصل کرکے انہیں اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ چونکہ لڑکیاں سماجی روابط میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں لہٰذا انہیں اس قسم کے عناصر سے نقصان پہنچنے کا بھی زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب نوعمر لڑکوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ والدین کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں اور پاسورڈ کو ناکارہ بناکر ممنوعہ مواد تک رسائی حاصل کرنے میںخاصی مہارت رکھتے ہیں ۔ عموماً والدین کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے نوعمر بیٹے پیرنٹل کنٹرول جیسی چیزوں کو ناکارہ بنانے کا کوئی حل نکال لیتے ہیں۔ نوعمر لڑکے فحش اور قابل اعتراض مواد کی جانب زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اکثر ان ویب سائٹوں کی جانب نکل جاتے ہیں کہ جن پر ان کے والدین انہیں ہرگز نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ تحقیق کاروں نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ لڑکوں کے معاملے میں خود نظر رکھنے کے علاوہ طاقتور پاسورڈ اور بہتر نگران سافٹ وئیر جیسے اقدامات پر بھی توجہ دیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...