نئے حالات کے نئے تقاضے

نئے حالات کے نئے تقاضے
 نئے حالات کے نئے تقاضے

  

افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی کیوں آ رہی ہے۔ ہندوستان کس صف بندی میں کون سے نئے گل کھلانا چاہتا ہے۔ امریکہ اور بھارت سی پیک منصوبے کو ختم کروانے پر اربوں ڈالر مخصوص کر چکے ہیں۔ بیرونی مداخلت نے بلوچستان کو اپنا ہدف کیوں بنایا ہوا ہے۔ کراچی کی مقامی سیاست میں کیاتبدیلیاں آ رہی ہیں۔ بھارتی ایجنٹوں کا راستہ روکنا کیوں ناگزیر تھا۔ بہت سارے سوالات میں جو پاکستان کی موجودہ صورتحال میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان اور اس کے عوام کے لئے خوشحالی کا موڑ ہے اس سے آگے ترقی ہی ترقی ہے جن کے فوائد عوام کو حاصل ہوں گے لیکن یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ دو سال پہلے اگست کے مہینے میں چین کے وزیراعظم کا دورہ سی پیک منصوبے اور دیگر سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لئے مخصوص تھا۔ عوامی تحریک کے پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری خصوصی طور پر کینیڈا سے لاہور پہنچے اور پھر اپنے مریدین‘ کالجوں اور سکولوں کے طلبا کے ساتھ اسلام آباد کی طرف عازم سفر ہوئے۔ عمران خان بھی اپنے چاہنے والی نوجوان نسل کی قیادت اور این جی اوز کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے ڈی چوک تک پہنچ گئے۔ دونوں رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ ڈیرے لگائے، لیکن بظاہر یہ حکمت عملی تھی کہ دونوں رہنما اپنے اپنے وقت پر کنٹینر سے برآمد ہوئے۔خطاب کر کے مولانا تو کنٹینر نشین ہو جاتے، لیکن خان صاحب واپس اپنے غریب خانہ بنی گالا ہاؤس چلے جاتے۔ 700کنال کا یہ غریب خانہ انہیں پہلی بیوی جمائما گولڈ نے تحفے یا پھر طلاق کے معاوضہ میں دیا تھا۔ یہ تو خان صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔

بہرحال سوال تو یہ ہے کہ مولانا طاہر القادری نے اسلام آباد کا سفر علیحدہ کیوں کیا اور پھر وہاں بھی علیحدہ خیمہ زن کیوں ہوئے؟ یہی سوال عمران خان کے لئے بھی ہے جب پروگرام اور مقصد ایک تھا تو پھر علیحدہ سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی اکٹھے کیوں نہیں چلے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ دونوں حضرات اپنے آپ کو زیادہ پاپولر سمجھتے تھے اور ان کا مقصد بھی علیحدہ علیحدہ شو آف پاور تھا۔ جب وہ علیحدہ علیحدہ متاثر نہیں کر سکے تو انہیں بالآخر متحد اور متفق ہو کر پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنا پڑا لیکن افسوس کہ یہ اتحاد اور اتفاق بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔آج کل پھر اسی کہانی کی بازگشت فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ طاہر القادری صاحب ایک بار پھر کینیڈا سے آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا علیحدہ کنٹینر تیار کرنے کا آرڈر دے رکھا ہے۔ عمران خان کا علیحدہ کنٹینر تیار ہو رہا ہے، لیکن اب کی بار کہا جا رہا ہے ایک لاہور میں ہوگا اور دوسرا اسلام آباد میں۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں اس طرح تو دونوں بے نقاب ہو جائیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خان صاحب ہر کسی کو اس نیک کام میں شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ خصوصاً ان کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی والے اپنا کنٹینر لے کر آ جائیں۔ گویا وہ جو بلاول کے ساتھ ایک کنٹینر پر کھڑے ہونے کی بات تھی وہ پرانی ہو گئی ہے۔ نیا وقت ہے نئے حالات اور نئے حقائق ہیں، لیکن پیپلز پارٹی والے بے وقوف تو نہیں کہ اپنا شکار کسی اور کے حوالے کردیں۔ ویسے جب وہ خود میدان مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو کسی اور کے ہاتھ میں گیم کیوں دیں گے؟ وہ بھی خان صاحب جیسے جذباتی شخص کو جو صبح کچھ اور شام کو کچھ اور موقف اختیار کر لیتا ہے۔ ہزاروں بار موقف تبدیل کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہو۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی جمہوریت کی بساط لپیٹنے میں کبھی مہرے کا کردار ادا نہیں کرے گی۔ خواہ اس پر فرینڈلی اپوزیشن کے کتنے ہی الزامات لگتے رہیں اس لئے اب کی بار خان صاحب اور مولانا طاہر القادری کو یہ کام تنہا ہی انجام دینا پڑے گا کیونکہ دنیا بدل گئی ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا نواز شریف کا کِلّہ مضبوط ہے‘ یہ آج بھی سچ ہے۔

مزید : کالم