پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام ’’محفل کلام بلّھے شاہ‘‘

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام ’’محفل کلام بلّھے ...
 پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام ’’محفل کلام بلّھے شاہ‘‘

  


لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر، محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب کے زیر اہتمام شہرہ آفاق پنجابی صوفی شاعر بابا بلّھے شاہ کے عرس کے موقع پر ’’محفل کلام بلّھے شاہ‘‘ منعقد ہوئی جس میں تنویر سلامت نو شاہی درباری قوال حضرت نوشہ گنج بخش قادریؒ ، منڈی بہاؤالدین نے بابا بلّھے شاہ کا کلام پیش کیا۔ پروگرام میں پنجابی زبان، فن و ثقافت سے متعلق شخصیات، ایف ایم 95- پنجاب رنگ کے سامعین اور نوجوانوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔تنویر سلامت نو شاہی نے حمد و نعت کے بعد حضرت بابا بلّھے شاہ کا منتخب کلام ’’بُلّھا کیہ جانا میں کون‘‘، ’’نی رانجھا جوگڑا بن آیا‘‘، ’’اک نقطہ یار پڑھایا اے‘‘، ’’اک رانجھا مینوں لوڑی دا‘‘، ’’جان بھانویں نہ جان وے ۔۔۔ ویہڑے آوڑ میرے‘‘ پیش کر کے سامعین سے بھر پور داد وصول کی۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے ادارہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عاصم چوہدری نے کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ کے تحت اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کا مقصد صوفیاء کرام کے آفاقی پیغام کے ذریعے معاشرے میں پیار، امن، محبت، برداشت اور بھائی چارے کی فضاء کو فروغ دینا اور نفرت کا خاتمہ ہے۔ معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے صوفیاء کرام کی تعلیمات کو اپنے اوپر نافذ کرنا اشد ضروری ہے۔

مزید : کلچر


loading...