مردم بے زار افسران اور گڈ گورننس کا خواب

مردم بے زار افسران اور گڈ گورننس کا خواب
 مردم بے زار افسران اور گڈ گورننس کا خواب

  


اسلام آباد میں آئی جی موٹروے کے دفتر کا پُل صراط پار نہ کرنے والے کانسٹیبل کی اِسی کے احاطے میں خودکشی ایک بار پھر ہمارے ظالمانہ نظام کی قلعی کھول گئی ہے۔ اس نظام کی بے حسی اور ظلم کا اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں محکمے کا ملازم تک افسر سے نہیں مل سکتا، عام آدمی کی اس تک رسائی کہاں ہو گی؟ دوسری بات یہ ہے کہ جو افسر اپنے محکمے کے ادنیٰ ملازمین کو مطمئن نہ رکھ سکتا ہو، وہ عوام کو کیسے مطمئن کر سکتا ہے۔ یہ رونا صرف آئی جی موٹروے اسلام آباد کے رویے کا ہی نہیں، بلکہ دوسطری نوٹیفکیشن سے اعلیٰ مناصب پر تعینات ہونے والے اکثر افسران اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ او ایس ڈی رہیں تو انہیں خدا بھی یاد رہتا ہے اور مخلوق خدا بھی، لیکن جونہی کسی تقرر نامے کا ’’جن ‘‘ان کے ہاتھ آتا ہے ،ان کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ صرف اس واقعہ کی بنیاد پر آئی جی موٹروے کو گھر کی راہ دکھائی جاتی، کیونکہ یہ واقعہ اُن کی نااہلی اور مردم بے زاری کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے، مگر ایسا نہیں ہوا،کیونکہ باقی جگہوں پر کون سے اہل اور خدا ترس بیٹھے ہوئے ہیں۔ سرکاری دفاتر کا تو صرف ایک ہی حمام ہے، جس میں سب ننگے ہیں اور کسی دوسرے کی طرف انگلی بھی نہیں اٹھا سکتے۔

سب سے پہلے تو اس امر کی ضرورت ہے کہ اس وفاقی سروس کا نام تبدیل کیا جائے،جو افسروں کا دماغ خراب کرتی ہے، میری مراد سنٹرل سپیریئر سروس سے ہے، یہ سی ایس پی افسران پہلے دن سے خود کو سپیریئر سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔کسی تازہ تازہ بھرتی ہونے والے سی ایس پی نوجوان کی کبھی باڈی لینگوئج کو غور سے دیکھیں، وہ خود کو عوام سے دور کرلیتا ہے، کالا چشمہ لگائے زمین پر وارد ہوتا ہے اور لوگوں سے ہاتھ تک ملانا گوارہ نہیں کرتا۔ کیا اسے اکیڈیمی میں اِسی بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ افسری کی دھاک بٹھانے کے لئے عوام سے دوری اختیار کرے؟ کیا یہ ایک آزاد اور خود مختار نیز جمہوری مُلک کی وفاقی سروس کے شایانِ شان طرزِ عمل ہے؟ اِس قدر بے محابااختیارات دینے کے ساتھ ساتھ اگر ان افسران کو تھوڑی سی یہ تربیت بھی دے دی جائے کہ لوگوں سے سلوک کیسا کرنا ہے اور یہ بالاتر نوکری نہیں، بلکہ عوام خدمت کی سروس ہے تو شاید وہ عوام کو اچھوت نہ سمجھیں۔ کچھ روز پہلے ملتان میں ایک واقعہ ہوا اور مجھے حیرت ہوئی کہ اس واقعہ سے کس قدر بھونڈے انداز سے نمٹا گیا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک یونین ناظم سلیم اللہ خان نے اپنے حلقے میں صفائی کی صورتِ حال کو بہتر نہ بنانے پر احتجاجاً اپنے محلے کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے چوک کچہری میں واقع ضلعی انتظامیہ کے دفتر کے سامنے ڈال دیا اور خود بھی وہاں بیٹھ کر احتجاج کرتا رہا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس کے مطالبے کو سمجھا جاتا اور صفائی کے احکامات جاری کئے جاتے، مگر اس کی بجائے اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا گیا۔اب آپ اس رویے پر غور کریں،جس کے تحت عوام کو ریلیف دینا تو درکنار اُس کے لئے آواز اٹھانے والے عوامی نمائندے کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔کیا اس سے کہیں یہ لگتا ہے کہ جس نظام کے ذریعے یہ مُلک چلایا جا رہا ہے، اُس میں عوامی ہمدردی یا عوام کی خدمت کا کوئی جذبہ موجود ہے؟

مَیں تو کہتا ہوں سی ایس پی افسران کے کالا چشمہ لگانے پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ اس چشمے کی وجہ سے انہیں اپنے اردگرد کے حالات کا کچھ علم ہی نہیں ہوتا۔ فوٹو سیشن کے لئے یہ افسران ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں، مگر عوام کو حقیقی ریلیف دینے میں ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران کی اکثریت کے تو دستور ہی نرالے ہیں۔ وہ اپنے دفاتر میں محفوظ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایسے احکامات جاری کر دیتے ہیں کہ عام آدمی تو کجا کوئی پولیس ملازم بھی اُن تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ افسران کی مردم بے زاری اور بُرے سلوک کی وجہ سے کسی ادنیٰ ملازم نے دفتر میں گھس کر ایس پی اور ڈی آئی جی کی سطح کے افسران کو قتل کر دیا۔ میرے خیال میں یہ ایک انتہا ہے، اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی، لیکن غالباً کوئی سیکھنے کو تیار نہیں۔ اب اس اسلام آباد والے حالیہ واقعہ کو ہی لیجئے، جو کانسٹیبل مایوسی کے عالم میں خود کو گولی مار سکتا ہے، کیا وہ دفتر میں داخل ہو کر آئی جی کو نشانہ نہیں بنا سکتا؟آخر اُس کی ذہنی کیفیت کو اس سطح تک آنے کا موقع ہی کیوں دیا گیا کہ وہ مرنے مارنے پر آمادہ ہو گیا۔ ملتان میں ریجنل پولیس افسر ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری تعینات ہیں، مَیں آئے روز اخبارات میں اُن کی تصویریں دیکھتا ہوں، کبھی وہ ریٹائر ہونے والے ماتحت ملازمین کو دفتر بلاتے نظر آتے ہیں،کبھی اُن کے مسائل سنتے دکھائی دیتے ہیں۔ کل ہی اُن کی ایک تصویر دیکھی ،جس میں وہ ایک کانسٹیبل کو اچھی کارکردگی پر گلے لگا کر انعام دے رہے تھے۔ وہ بھی اسلام آباد سے تبدیل ہو کر ملتان آئے ہیں، اُن کا رویہ ملازمین کو اُس بے جا خوف سے نجات دِلا رہا ہے، جو افسروں نے ماتحتوں پر طاری کر رکھا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی عوام کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت ملازمین کی دسترس میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس قسم کا رویہ دوسرے افسران کیوں اختیار نہیں کرتے؟ اگر موٹروے پولیس کے آئی جی بھی اسی طرح ملازمین کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھتے تو کانسٹیبل جان نہ دیتا اور دیگر ماتحتوں میں مایوسی نہ پھیلتی، لیکن افسری کے چنگیزی نظام پر یقین رکھنے والے اسے کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ فیلڈ پوسٹوں کے لئے افسروں کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟ ایک عام تاثر تو یہی ہے کہ ایسی پوسٹیں سیاسی اثرو رسوخ سے حاصل کی جاتی ہیں اور جو افسر پیا من بھا جائے، چاہے، وہ جونیئر ہو یا سینئر، اُسے بڑی پوسٹنگ مل جاتی ہے۔میرے نزدیک یہ سراسر ظلم ہے، اُن افسروں پر ہی نہیں، جو سینئر یا فیلڈ پوسٹنگ کے اہلِ ہیں، بلکہ اُن لاکھوں عوام پر بھی جو ایسے افسران کے زیر نگیں آ جاتے ہیں۔ سنا ہے بڑی پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف خود انٹرویو لیتے ہیں۔ اگر اس دوران وہ ایسے افسران کا انتخاب کریں جو افسری کے لشکاروں سے زیادہ عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہوں اور انہیں یہ باور بھی کرادیں کہ چھوٹی موٹی نا اہلی تو برداشت ہو جائے گی، لیکن عوام کے ساتھ ظالمانہ یا بے حسی پر مبنی سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، تو کم از کم اسٹیبلشمنٹ کا حکم نامہ لے کر فرعونیت کا لبادہ اوڑھ لینے والے افسران زمین پر رہیں گے اور خلقِ خدا کو اچھوت نہیں سمجھیں گے۔میاں صاحبان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود عوام میں گڈگورننس کا تاثر کیوں کامیاب نہیں ہو رہا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ عوام پر جو افسران حکومت کررہے ہیں ،ان کا رویہ مشفقانہ ہونے کی بجائے ظالمانہ ہے، جو بیورو کریسی عوام کو ریلیف صرف وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے پر دیتی ہو، وہ گڈگورننس کیسے دے سکتی ہے؟

مزید : کالم


loading...