بامقصد بلدیاتی نظام ہونا چاہئے

بامقصد بلدیاتی نظام ہونا چاہئے
 بامقصد بلدیاتی نظام ہونا چاہئے

  


صوبہ سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہوں نے اپنے اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر باضابطہ طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔ ان عہدیداروں پر گراں قدر ذمہ داری اِس لئے عائد ہوتی ہے کہ صوبے کے بڑے شہر ہوں یا چھوٹے قصبے، ان کی حالت انتہائی مخدوش ہے۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، محلہ محلہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اس گندگی کی وجہ سے مچھروں اور بیماریوں کی بہتات ہے، جس نے لوگوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک زمانے میں بلدیاتی ادارے اپنی آمدنی میں اضافہ کے لئے کارباری مراکز تعمیر کیا کرتے تھے ، اکثر دوکانیں تھیں، وہ کرایہ پر دی جاتی تھیں جن کی وجہ سے سڑکوں پر ہاتھ ٹھیلوں کی وہ کثرت نہیں ہوتی تھی، جو آج دیکھنے کو ملتی ہے اور جس کی وجہ سے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو خلل درپیش ہوتا ہے۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں سڑکیں، حالانکہ بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہیں، لیکن وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کسی بھی سڑک پر آرام دہ سفر کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بڑے شہروں میں ایک علاقے سے دوسرے میں جانے کے لئے سرکاری ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں ہے اور چھوٹے شہروں میں تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایک قصبے سے دوسرے کا سفر آسان ہو۔ شہروں میں جو بھی سہولتیں موجود ہونا چا ہئے تاکہ ان علاقوں میں رہائش رکھنے والے لوگ اطمینان بخش زندگی گزار سکیں، ان کی غیر موجودگی نے عام لوگوں کی زندگی کو ا جیرن بنا دیا ہے۔ علاقوں کے دولت مند افراد کو فکر ہی نہیں ہے کہ عام لوگ کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں تو و ہ سمجھتے ہیں کہ سب ان کی طرح اطمینان سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میئر، چیئرمین بلدیات یا ضلع کونسل اگر احساس کریں تو یہ ان کی ذمہ داری کا حصہ ہے کہ جوکام ان کا ادارہ کرنے کا پابند ہے وہ کام اپنے ادارے سے لیں، ان اداروں میں ملازمت کرنے والوں کو نظم کا پابند بنائیں۔ دیگر کمزرویوں اور مسائل کی طرف حکومت کی توجہ تواتر کے ساتھ مبذول کرائیں تاکہ ان کے ووٹر اطمینان بخش زندگی گزار سکیں ۔ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں رہائش رکھنے والے لوگ پریشانیوں سے دو چار ہی رہیں۔ لوگ انگریز کے دور میں بھی بہتر نظم میں زندگی گزارا کرتے تھے۔پانی، بجلی، ڈاک، ٹرانسپورٹ، علاج، تعلیم کی انہیں بہتر سہولتیں حاصل تھیں۔ انگریز کی رخصتی کے بعد ایسا کیوں ہوا کہ عام لوگوں کی سہولتیں ایک کے بعد ایک ایک کرکے ختم ہوتی چلی گئیں۔ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا یہی امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کون سرخرو ہوتا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد کے میئر حضرات کو تو کچروں کے ڈھیر ملے ہیں ، دیگر بلدیاتی اداروں میں بھی صورت حال کسی طرح بھی بہتر نہیں ہے۔ مسائل کا بظاہر ختم نہ ہونے والا سلسلہ ملا ہے۔ انگریز نے جب برصغیر پر حکومت کی ابتدا کی تھی تو اس نے پولس، عدلیہ کے قیام کے ساتھ ساتھ بلدیاتی ادارے بھی قائم کئے تھے۔ تعلیم اور علاج و صحت کی سہولتوں کا انتظام بھی ان ہی اداروں کی ذمہ داری تھی۔ بلدیاتی ادارے اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھاتے تھے۔ بلدیاتی اداروں کی موجودہ حالت زار گزشتہ چالیس سال کی حکومتوں کی بے اعتنائی، بلدیاتی معاملات میں عدم دلچسپی اور بلدیاتی اداروں کے کرتا دھرتاؤں کی غفلت یا بدعنوانیوں کی وجہ سے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں یہ سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں کہ مضبوط بلدیاتی ادارے ان حکومتوں کو ہی دوام بخشیں گے۔ ان کے کاموں میں آسانیاں پیدا کریں گے اور لوگ جن مسائل کے حل کی طرف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف دیکھتے ہیں ، ان میں کمی پیدا ہو گی۔

جنرل پرویز مشرف نے’’اختیارات گھر کی دہلیز پر ‘‘ کی بنیاد پر جو بلدیاتی نظام نافذ کیا تھا ، اس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے سربراہ با اختیار ضرور ہو گئے تھے اور ان کے اداروں کی مالی حالت بھی بہتر ہو گئی تھی، اپنی ضرورتوں کے پیش نظر وہ اپنے اخراجات کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مشرف کی مخالف پیپلز پارٹی کے ناظم بھی اپنے شہروں میں ترقیاتی کام کرا سکے تھے۔ نواب شاہ میں فریال تالپور، خیر پور میں نفیسہ شاہ ، لاڑکانہ میں خورشید جونیجو، جامشورو میں ملک اسد سکندر یا دیگر لوگ اپنے اپنے اضلاع میں وہ وہ کام کرا گئے جو اگر کوئی اور دور ہوتا تو ان کے منصوبے صوبائی حکومت کے سیکرٹریٹ میں کسی الماری میں ہی پڑے ہوئے ہوتے یا پھر درجنوں ایسے اختلافی نوٹ لکھے ہوئے ہوتے کہ ان کے عہدے کی میعاد ہی گزر جاتی۔ پیپلز پارٹی کے ناظم یا ناظمہ اپنی پارٹی کو کیوں نہیں قائل کر سکے کہ صوبہ سندھ میں جو بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا ہے ان میں مالی اختیارات اور کام کرنے کی آزادی صلب کر لی گئی ہے، جس کے ذمہ دار صوبائی وزراء اور اسمبلی کے اراکین ہیں۔ محکمہ بلدیات کے بلدیاتی قوانین کے نتیجے میں محکمہ بلدیات کے افسران ہی عملاً منتخب نمائندوں کے افسر بنا دئے گئے ہیں۔ 1987ء میں جنرل ضیاء الحق کے نظام میں آفتاب احمد شیخ حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے امیدوار کی حیثیت سے میئر منتخب ہوئے تھے ۔ وہ اس حد تک محنت کیا کرتے تھے کہ علی الصبح شہر بھر میں گھوما کرتے تھے اور خاکروبوں کی حاضری دیکھا کرتے تھے۔ وہ ایک قابل قانون دان تھے لیکن محکمہ بلدیات کے افسران سے اس حد تک نالاں تھے کہ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ حکومت نے کیسا قانو ن بنایا ہے کہ منتخب نمائندے بھی سیکشن افسر کے انگوٹھے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہر ہر منصوبہ اور ہر ہر سکیم منظوری کے لئے انہیں بھیجنا پڑتا ہے۔ جنرل مشرف کے نظام میں ناظم اور کونسلر بااختیار تھے ۔ مخدوم رفیق الزمان (اب صوبائی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن ہیں ) ہوں یا کنور نوید جمیل (اب ایم کیو ایم کے نمائندے کے طور پر رکن قومی اسمبلی ہیں) کا دور ہو، وہ حیدرآباد میں اپنے کونسلروں کی خواہشات کے مطابق ترقیاتی کام کرا سکے تھے۔ اسی طرح پورے صوبے میں وہ تمام ناظم کامیاب رہے، جنہوں نے اپنے اضلاع میں کام کرانا چاہا۔

ضرورت اِس بات کی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ البتہ مالی معاملات میں ان کی جانچ پڑتال سخت ہو، آڈٹ کے نظام کو نئے سرے سے استوار کیا جائے تاکہ مالی بدعنوانیوں کم سے کم ہو سکیں۔ میئر یا چیئر مین حضرات اپنے آپ کو عقل کل تصور کرنے کی بجاے اپنی کونسلوں سے بھرپور مشاورت کیا کریں تاکہ اجتماعی استفادہ ہو سکے۔ اگر نظام کو برائے نام ہی رکھنا مقصود ہے اور اپنے اپنے لوگوں کو ہی نوازنا ہے تو عام لوگ تو مسائل کا شکار ہی رہیں گے۔ صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص کی بلدیات کو چھوڑ کر تمام ہی ضلع کونسلیں اور بلدیاتی ادارے ان لوگوں کی براہ راست دسترس میں چلے گئے ہیں جن کے بڑے پہلے سے وزیر ہیں، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ اس سے بہتر تھا کہ محنتی اور مخلص سرکاری افسران ہی ان اداروں کو چلاتے۔ میرے ایک دوست دور کی کوڑی لائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بلدیاتی ادارے چوکس ہوں تو دہشت گردی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں کیوں کہ ان اداروں سے وابستہ لوگ خود ہی اپنے محلوں اور علاقوں میں نئے وار دہونے والے لوگوں پر زیادہ آسانی کے ساتھ کڑی نظر رکھ سکتے ہیں اور پولس سے با معنی معاونت بھی کر سکتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...